0
Thursday 16 May 2019 02:39

سندھ پولیس میں اصلاحات، صوبائی حکومت اور اپوزیشن میں لفظی جنگ تیز

سندھ پولیس میں اصلاحات، صوبائی حکومت اور اپوزیشن میں لفظی جنگ تیز
رپورٹ: ایس ایم عابدی

سندھ پولیس میں اصلاحات کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں لفظی جنگ تیز ہوگئی، وزیراعلی اور آئی جی سندھ کے صوابدیدی اختیارات کے معاملے پر حکمران پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار ہے، پولیس اہلکاروں کی بھرتیوں کے طریقہ کار پر بھی اختلافات شدید ہوگئے، اپوزیشن جماعتوں نے پولیس اصلاحات بل کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ سندھ پولیس میں اصلاحات متعارف کرانے کے لئے پولیس ایکٹ میں ترامیم کا معاملہ حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین متنازعہ ہوگیا ہے جبکہ پولیس اصلاحات کے معاملے پر اپنے اپنے موقف کے دفاع کے لئے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی دلائل کی جنگ بھی تیز ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں پولیس اصلاحات کے ترمیمی بل پر مشاورت کے لئے سندھ اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی کا اجلاس ایک بار پھر بے نتیجہ رہا اور اپوزیشن جماعتوں نے حکمران پیپلز پارٹی پر پولیس اصلاحات ترمیمی بل کے مسودے میں ہیرا پھیری اور ٹمپرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے اجلاس سے واک آوٹ کیا۔ بدھ کو سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت ڈیڈلاک پیدا ہوگیا جب پیپلز پارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو گذشتہ چھ اجلاسوں کے منٹس فراہم نہیں کئے گئے۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ پولیس میں بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ماتحت کرنے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سندھ پولیس میں بھرتیاں پی ایس ٹی کے ذریعہ کرنے کے معاملہ پر تلخی پیدا ہوئی۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ جب پولیس آرڈر ترمیمی بل ایوان میں متعارف ہوا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا تھا، مگر اب جس طرح حکومت پولیس اختیارات کے معاملے پر بار بار موقف بدل رہی ہے یہ واضح ہوگیا کہ سندھ کارڈ کھیلنے والوں کی طرف سے منظم سازش ہورہی ہے، پہلے پولیس آرڈر 2000ء کی بحالی کی بات کی گئی اور اب پنجاب کا نام لے کر الگ قانون سازی کا جواز گڑھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے قانون میں واضح فرق ہے، پیپلز پارٹی غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقہ کار کے تحت قانون بنانے جارہی ہے جس کے خلاف ہم عدالت جائیں گے اور سول سوسائٹی بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بغل بچہ اراکین نے حکومت کے ساتھ مل کر اپوزیشن کے لئے جو کہا وہ حقیقی اپوزیشن کے مفادات کے برعکس ہے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن کا کہنا تھا کہ پولیس اصلاحات کے لئے اپوزیشن کو آن بورڈ لینے کا کہہ کر پیپلز پارٹی نے تصویری نمائش کی، عوام کے مفادات پر عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، اپوزیشن نے اپنا موقف دیا تو اس کے منٹس فراہم نہ کرکے دھوکہ دہی کی گئی، ماضی کے سپریم اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے برخلاف حکومت پولیس پر اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہے۔

شہریار مہر نے کہا کہ پیپلز پارٹی 2002ء کے نام پر 2011ء کا پولیس نظام لانا چاہتی ہے، پیپلز پارٹی کے ترمیمی بل کے تحت آئی جی سندھ کی تبدیلی اور ڈی ایس پی سے پولیس کانسٹیبل کی بھرتی تک تمام اختیارات سندھ حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ سندھ پولیس کے موجودہ ناقص نظام کو تبدیل کرنے کا موقع عدالت نے فراہم کیا ہے مگر پیپلز پارٹی ایسا قانون لانا چاہتی ہے کہ سندھ پولیس اس کے تابع ہوجائے جو عدالتی احکامات کے منافی ہے۔ اپوزیشن رہنماوں نے اعلان کیا کہ پولیس اصلاحات کے معاملے پر سندھ حکومت جو من پسند قانون بنانا چاہتی ہے اس کے متعلق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ کرحقائق سے آگاہ کریں گے، جبکہ عدالت میں زیرسماعت کیس میں فریق بھی بننا پڑا تو پیپلز پارٹی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ دوسری جانب سندھ حکومت اور پولیس حکام کے درمیان بھی اختیارات کے حصول کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے، اس معاملے پر کچھ روز قبل آئی جی سندھ کلیم امام نے صوبائی حکومت کو انتباہی خط بھی لکھا تھا۔
خبر کا کوڈ : 794469
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے