0
Thursday 16 May 2019 08:22
موانع اجابت دعا

دعا قبول کیسے ہو؟

دعا قبول کیسے ہو؟
تحریر: سید توکل حسین شمسی
 
رحمت الٰہی کا دستر خوان سج چکا ہے، اس دستر خوان سے گمراہ کرنے والے مزاحم شیاطین غل و زنجیر میں جکڑ دیئے گئے ہیں۔ "اے بندے اب تیرا اعتراض ختم وہ جو ہمیشہ سے کیا کرتا تھا اے اللہ! تونے میرا دشمن اس کو بنایا ہے جو مجھے دیکھ سکتا ہے لیکن میں اسے نہیں دیکھ پاتا۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے، "اے بندے پھر تو قربتیں اس سے بڑھا جس کو شیطان نہیں دیکھ سکتا جو تیرے اس ازلی دشمن کو زنجیروں میں قید کر سکتا ہے جو اس کے حیلوں سے خوب واقف ہے، جو خود میزبان بن کر تجھے اپنے دسترخوان پر دعوت دے رہا ہے، ایسا معنوی و روحانی دستر خوان کہ جس پر رحمتیں بھی ہیں، برکتیں بھی ہیں، مغفرتیں بھی ہیں، عمل کی قبولیت بھی سجی ہے ، تو دعاؤں کی استجابت بھی رکھی ہے۔

دستر خوان سجا ہے ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق رزق سمیٹ سکتا ہے، جیسے اس نے اس کائنات میں اپنی رحمت کا دسترخوان بچھایا اب حاصل کرنے والوں میں کچھ ایسے ہیں جو اس کے دسترخوان کے پھولوں کی ظرافت و لطافت و طراوت میں، بھینی بھینی خوشبو میں، شکم و شھوت سے غافل، اس کے جمال و جلال میں محو پرواز فکر، اسی کی حمد و ثناء میں مصروف ہیں، تو کچھ انہی پھولوں کی مٹھاس سے آب شفا اکٹھا کرنے میں مشغول، کچھ مکڑیوں جیسے اپنے تار نازک سے ریاضی کے عجیب و غریب زاویئے بنائے معصوم پتنگوں کو اپنے جال میں پرو رہے ہیں،کچھ حریص ہر دانہ اٹھائے اپنے بل نما گوداموں کو پر کرنے میں کمر باندھے ہیں، کچھ سر جھکائے سرسبز گھاس سے شکم پری میں مشغول۔
گر گدا کاھل بود تقصیر صاحب خانہ چیست؟

لیکن اے بندے نہ تو گائے بھینس ہے، نہ بلبل و قناری، نہ مکڑی ہے نہ کوئی پتنگا، تو اس عظیم الشان دسترخوان کے مالک کا شاہکار ہے تو کسی اور دستر خوان پر اچھا نہیں لگتا اپنے رب کے دسترخوان پر آ جا سب کچھ قبول ہو گا دعائیں مستجاب ہونگی۔ خطبہ شعبانیہ میں رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں رمضان وہ مہینہ ہے جس میں دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں (دعاءکم فیہ مستجاب)۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری دعاؤں میں کوئی اثر نہیں ہے۔ دعا ھر صورت میں نتیجہ دیتی ہے وہ الگ بات ہے کہ بظاہر وہ مطلوبہ اثر دکھائی نہیں دیتا، جو ہم طلب کر رہے ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جہاں پر دعا کے کچھ آداب و شرائط ہیں، تو وہیں پر استجابت دعا کی راہ میں کچھ موانع و رکاوٹیں ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں ہوتی۔ علامہ طباطبائی مرحوم صاحب تفسیر المیزان اپنی تفسیر کی جلد2 صفحہ 43 پر لکھتے ہیں، کبھی کبھی ہماری دعا کے رد ہونے کی وجہ دو باتوں میں سے ایک بات ہوتی ہے۔

پہلی بات، بندے کی دعا میں طلب وہ نہیں ہوتی جس کی حقیقت میں اس کو ضرورت ہوتی ہے، وہ مریض سمجھ کر شفا کیلئے دعائیں کرتا ہے جبکہ اس مطلوبہ بندے کو موت درپیش ہوتی ہے نہ بیماری، حقیقت میں اس کو مردے کا زندہ ہونا اللہ سے طلب کرنا تھا لیکن شاید وہ بوسیلہ دعا مردے کے زندہ ہونے کا گمان نہیں کرتا اس لئے دعا نہیں کرتا جبکہ انبیاء کرام علیہم السلام اور معصومین علیهم السلام منزل یقین پر ہوتے ہیں، اسلئے جب وہ دعا فرماتے ہیں، تو اللہ مردوں کو بھی زندہ فرما دیتا ہے۔ دوسری بات یا پھر بندہ دعا تو اپنے رب سے کرتا ہے لیکن نظریں اسباب پر جمائے اس انتظار میں ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے کفایت کریں گے، علامہ فرماتے ہیں درحقیقت یہ خدا سے چاہتے ہوئے بھی خدا سے چاہنا نہیں ہے۔ ماہ مبارک رمضان استجابت دعا کا مہینہ ہے اس لئے کم از کم اس ماہ میں ہمیں اپنی دعاؤں کے رستے میں آنے والے موانع ہٹانا ہوں گے، جو ہماری دعاؤں کو قبولیت و استجابت سے روکتے، اجازت پرواز نہیں دیتے۔ اس مختصر سی تحریر میں چند ایک موانع استجابت دعا ذکر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

1۔ غیر خدا سے امید
ہماری دعاؤں کی استجابت میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی غیر خدا سے امید ہے، جیسے کہ علامہ طباطبائی مرحوم نے بھی اشارہ فرمایا ہے یہ خطا کار انسان خداوند سے طلب دعا کے باوجود، غیر خدا سے امید کی ڈوری اتنی مضبوط کرلیتا ہے کہ جس میں اس کی اپنی دعائیں الجھ کر دم توڑ دیتی ہیں، بجلی کے پول سے اٹکے پرندوں کی مانند۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں، "إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ لَا یَسْأَلَ رَبَّهُ شَیْئاً إِلَّا أَعْطَاهُ فَلْیَیْأَسْ مِنَ النَّاسِ کُلِّهِمْ وَ لَا یَکُونُ لَهُ رَجَاءٌ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَإِذَا عَلِمَ اللَّهُ ذَلِکَ مِنْ قَلْبِهِ لَمْ یَسْأَلْهُ شَیْئاً إِلَّا أَعْطَاهُ" (1) جب بھی تم میں سے کوئی ارادہ کرے کہ وہ خدا سے جس چیز کا سوال کرے اس کو فورا عطا ہو تو اسے چاہیئے کہ لوگوں سے مایوس ہو جائے پھر اس کی امید فقط خدا سے ہونی چاہیئے جب خدا اس کے دل میں یہ غیر سے ناامیدی جان لیتا ہے، پھر وہ خدا سے جو سوال کرتا ہے اس کو عطا کر دیا جاتا ہے۔

2۔ گناہ
دوسری بڑی رکاوٹ جو ہماری دعاؤں کو اجابت کی دہلیز تک پہنچنے نہیں دیتی وہ الٰہی احکامات کی مخالفت ہے۔ بندہ گناہ پر گناہ انجام دے کر اپنے رب سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ پھر اس دوری سے دعائیں اجابت و قبولیت کا سفر طے نہیں کر پاتیں۔
امام باقر (ع) فرماتے ہیں، "إِنَّ الْعَبْدَ یَسْأَلُ اللَّهَ الْحَاجَةَ فَیَکُونُ مِنْ شَأْنِهِ قَضَاؤُهَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیبٍ أَوْ إِلَی وَقْتٍ بَطِیءٍ فَیُذْنِبُ الْعَبْدُ ذَنْباً فَیَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی لِلْمَلَکِ لَا تَقْضِ حَاجَتَهُ وَ احْرِمْهُ إِیَّاهَا فَإِنَّهُ تَعَرَّضَ لِسَخَطِی وَ اسْتَوْجَبَ الْحِرْمَانَ مِنِّی"(2) بندہ اپنے اللہ سے حاجت طلب کرتا ہے اور اللہ کی شان کریمی یہ ہے کہ حکمت کے پیش نظر وہ اپنے بندے کو جلدی یا دیر سے عطا کرے لیکن بندہ گناہ کا مرتکب قرار پاتا ہے پھر اللہ فرشتے کو حکم فرماتا ہے اس کو محروم کر دے، اے بندے تو اپنے رب کی نگاہ کرم میں آکر اس کے حضور میں حاضر، گناہ و معصیت انجام دیتا ہے اور محرومیت کا سامان مہیا کرلیتا ہے۔

روایات میں معصومین علیهم السلام نے ایسے گناہوں کی طرف ہماری توجہ دلائی ہے جن کے سبب دعائیں رد ہوتی ہیں۔ سید الساجدین، زین العابدین امام علی ابن حسین علیه‌ السلام فرماتے ہیں، "الذُّنُوبُ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعَاءَ سُوءُ النِّیَّةِ وَ خُبْثُ السَّرِیرَةِ وَ النِّفَاقُ مَعَ الْإِخْوَانِ وَ تَرْکُ التَّصْدِیقِ بِالْإِجَابَةِ وَ تَأْخِیرُ الصَّلَوَاتِ الْمَفْرُوضَاتِ حَتَّی تَذْهَبَ أَوْقَاتُهَا وَ تَرْکُ التَّقَرُّبِ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ بِالْبِرِّ وَ الصَّدَقَةِ وَ اسْتِعْمَالُ الْبَذَاءِ وَ الْفُحْشُ فِی الْقَوْلِ"۔ (3) وہ گناہ جو دعاؤں کے رد ہونے کا موجب و سبب ہیں وہ اے بندے تیری بدنیتی ہے، تیرے باطن کی پلیدی ہے، تیرا بھائیوں سے نفاق ہے، اے بندے تیرا خود اپنی دعاؤں کی استجابت پر یقین نہیں ہے، تو واجب نمازوں میں تاخیر کرتا ہے پھر قضا کر دیتا ہے، تو اپنے رب سے قربتیں کیوں نہیں بڑھاتا مولا کیسے؟ فرمایا: (بالبر والصدقہ) نیکی اور صدقہ کے ذریعے سے۔ افسوس کہ تونے اپنے رب سے قول و فعل کے ذریعے دوریاں بڑھائی ہیں اب ان دوریوں میں دعائیں کیسے مستجاب ہوں۔ امام علی مولا مشکل کشا علیہ السلام فرماتے ہیں، "لَا تَسْتَبْطِئْ إِجَابَةَ دُعَائِکَ وَ قَدْ سَدَدْتَ طَرِیقَهُ بِالذُّنُوبِ"۔ اے بندے استجابت دعا کو اب اللہ سے طلب نہ کر تونے خود ہی گناہوں کے سبب اجابت کا رستہ بند کر دیا ہے۔

3۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کرنا:
جب بندہ اپنی زندگی میں یہ دو فریضے ترک کر دیتا ہے پھر دعائیں قبول نہیں ہوتیں،
رسول کریم (ص) فرماتے ہیں،"لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لَتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ أَوْ لَیُسَلِّطَنَ اللَّهُ شِرَارَکُمْ عَلَی خِیَارِکُمْ فَیَدْعُو خِیَارُکُمْ فَلَا یُسْتَجَابُ لَهُمْ؛" نیکی کا امر کرنا، برائی سے روکنا ورنہ اشرار تمہارے نیک لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے پھر وہ نیک لوگ رب کے حضور دعائیں کریں گے ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ اس صورت میں پھر بندے تو کس سے دعا کروائے گا؟ اس لئے جب کوئی برائی دیکھا کر نہ کہا کر ہم سے کیا مطلب، جب کوئی نیکی کی بات ہو نہ کہا کر ہم سے کیا مطلب، کوئی کرے نہ کرے۔۔۔۔
(جاری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع و ماخذ:
1۔ کافی، محمد بن یعقوب الکلینی، دارالکتب الاسلامیه، تهران، ج ۲، ص 148۔
2۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، مؤسسه الرسالۀ، بیروت، ۱۴۰۹ ه ق، ج ۷۳، ص ۳۲۹، ح ۱۱۔
3۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، مؤسسه الرسالۀ، بیروت، ۱۴۰۹ ه ق، ج ۷۳، ص ۳۷۶.
4۔ غررالحکم، التمیمی الآمدی، ج ۶، ص ۳۰۲۔
5۔ بحار الانوار، ج ۷۵، ص ۳۱۱
خبر کا کوڈ : 794564
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب