5
Thursday 16 May 2019 11:57

بھارت، لوک سبھا انتخابات پر ایک طائرانہ نظر(1)

بھارت، لوک سبھا انتخابات پر ایک طائرانہ نظر(1)
تحریر: عرفان علی

بھارت جسے اردو میں ہندوستان اور انگریزی میں انڈیا کہتے ہیں، یہاں کا قانون ساز ادارہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوان بالا (سینیٹ) جسے راجیہ سبھا کہتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کو لوک سبھا کہتے ہیں۔ لوک سبھا کے عام انتخابات پر ایک طائرانہ نگاہ ہماری اس تحریر کا مقصد ہے۔ بھارت میں صوبوں کو یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کی طرح ریاست (اسٹیٹ) کہا جاتا ہے۔ بھارت میں ریاستوں یا صوبوں کی کل تعداد 29 ہے جبکہ سات ایسے علاقے ہیں، جنہیں انتظامی طور یونین کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ ریاست یا صوبے کا انتظامی سربراہ منتخب وزیراعلیٰ ہوتا یا ہوتی ہے جبکہ یونین علاقے میں ایڈمنسٹریٹر کو بھارتی صدر نامزد کرتا (یا کرتی) ہے۔ لوک سبھا کی 543 نشستوں کو ریاست اور یونین علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ دو دیگر نشستیں اینگلو انڈین کمیونٹی کے لئے مخصوص ہیں اور یہ بھارتی صدر کے نامزد کردہ افراد کے ذریعے پر کی جاتی ہیں، بشرطیکہ یہ کمیونٹی اگر دعویٰ کرے کہ انکی نمائندگی درست طور لوک سبھا میں نہیں ہو پائی ہے۔

اسی لوک سبھا کے لئے بھارت میں مرحلہ وار عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ سات مراحل پر مشتمل ووٹنگ کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو ہوا تھا جبکہ 19 مئی 2019ء کو اسکا آخری مرحلہ انجام پائے گا۔ گو کہ نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا، اس کے باوجود موجودہ حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے پانچویں اور چھٹے مرحلے کے بعد اکثریت حاصل کر لینے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ساتویں یعنی آخری مرحلے کے بعد ان کی نشستوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ 543 نشستوں پر مشتمل لوک سبھا میں کسی جماعت یا اتحاد کو سادہ اکثریت کے لئے 272 منتخب اراکین کی ضرورت ہے یعنی سادہ اکثریت جس نے حاصل کر لی، وہی بھارت پر حکومت کرے گا۔

بنیادی طور پر بھارت میں مرکزی سطح کی دو جماعتیں ہیں، ایک انڈین نیشنل کانگریس اور دوسری بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی۔ اس وقت بھارت میں بی جے پی کے نریندرا مودی وزیراعظم ہیں۔ جب بی جے پی حکمران اتحاد کی قیادت کرتی ہے تو اس کی کوالیشن حکومت کا نام ہوتا ہے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے)۔ کانگریس جو بھارت کی بانی جماعت ہے، جب یہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت کرتی ہے تو اس حکمران اتحاد کا نام ہوتا ہے یونائٹڈ پروگریسیو الائنس (یو پی اے)۔

البتہ بھارت میں ریاستی یعنی صوبائی یا علاقائی و مقامی سطح کی جماعتیں بھی مستحکم وجود رکھتی ہیں اور کہیں کہیں وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی انہی کے ہاتھ رہتا ہے۔ بھارت میں سوشلسٹ کمیونسٹ جماعتیں یا رہنما بھی ہیں۔ انتہاء پسند ہندو گروہ بھی ہیں تو خود ہندووں میں ذات پات کا نظام بھی ہے۔ پاکستان میں بھارت کے نچلی ذات کے ہندووں کو اچھوت یا شودر کی اصطلاح سے پہچانا جاتا تھا، لیکن اب دلیت ہندو زیادہ مشہور اصطلاح ہے۔ ہندوئوں کی اونچی ذات کو برہمن کہتے ہیں۔ لوک سبھا کے عام انتخابات میں بھی دلیت فیکٹر اہمیت کا حامل ہے۔ اس آخری مرحلے میں بھی شیڈیولڈ کاسٹ ووٹرز کسی بھی جماعت کی جیت یا ہار میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سولہویں لوک سبھا میں بھارت کی 36 جماعتوں کو نمائندگی حاصل تھی۔ تنہا بی جے پی کے اراکین کی کل تعداد 268 تھی اور بحیثیت جماعت دور دور تک کوئی انکا حریف نہیں تھا۔ سال 2014ء میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد اتحادیوں کے ساتھ انکا حکمران اتحاد این ڈی اے 336 اراکین پر مشتمل تھا۔ بی جے پی اور این ڈی اے تیس سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے اس طرح کامیاب ہوئے تھے۔ دوسرے نمبر پر جو انڈین نیشنل کانگریس تھی، اسکے کل اراکین کی تعداد محض 45 تھی، تیسری بڑی پارلیمانی جماعت آل انڈیا انا دراویدامونترا کزھاگم کے کل اراکین 36 تھے جبکہ آل انڈیا ترینامول کانگریس کے کل اراکین 33 تھے۔

بیجو جنتا دل اور شیوسینا کے لوک سبھا میں اٹھارہ 18 اراکین تھے۔ تیلگو دیسام پارٹی کے 15، تلنگانا راشٹرا سمیتھی کے 10، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے 9، سماج وادی پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے 7، سات اراکین، لوک جان شکتی پارٹی کے 6، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، شرومنی اکالی دل اور یواجناسرامیکا راءٹھو (وائی ایس آر ) کانگریس پارٹی، یعنی ان چاروں جماعتوں کے لوک سبھا میں چار چار اراکین تھے۔ اسی طرح راشٹریہ لوک سمتا پارٹی، آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اور آزاد اراکین کی تعداد تین تین تھی۔ انڈین نیشنل لوک دل، انڈین یونین مسلم لیگ، جنتا دل سیکولر، جنتا دل یونائٹڈ، جھاڑ کھنڈ مکتی مورچہ اور اپنا دل کی لوک سبھا میں دو دو نشستیں تھیں۔ جن جماعتوں کا لوک سبھا میں ایک ایک رکن تھا، انکے نام یہ ہیں: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، آل انڈیا این آر کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، جموں اینڈ کشمیر نیشنل کانفرنس، جموں اینڈ کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، ریوولوشنسٹ سوشلسٹ پارٹی، سکم ڈیموکریٹک فرنٹ، راشٹریہ لوک دل، نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی، پٹالی مکل کچھی، سوابھیمانی پکشا۔

ان ناموں سے با آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ پچھلی لوک سبھا میں مودی کی بی جے پی انتہائی طاقتور جماعت تھی، جبکہ کانگریس یا اسکا اتحاد یو پی اے لوک سبھا کی تیسری بڑی جماعت بی جے پی کی اتحادی ہے، لیکن اس کی خاتون سربراہ جیارام جیا للیتا اب اس دنیا میں نہیں رہیں، لہٰذا بھارت کے جنوبی حصے میں بی جے پی کی اتحادی آل انڈیا انا دراویدامونترا کزھاگم کی حیثیت کا برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ پچھلی چھٹی بڑی جماعت شیو سینا بھی بی جے پی کی اتحادی ہے اور اس کا مرکز ممبئی ہے۔ نچلی ذات کے ہندووں کی لوک جان شکتی پارٹی بھی مودی کی بی جے پی کی اتحادی ہے۔ یہ این ڈی اے اتحاد ہے۔ البتہ نچلی ذات کے ہندوئوں کی دیگر جماعتیں این ڈی اے میں شامل نہیں ہیں، اس لئے ان کا ووٹ بینک بھی دونوں بڑے اتحادوں میں تقسیم ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح کانگریس اس مرتبہ 100 نشستوں پر کامیابی کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ 464 نشستوں پر انتخابی مقابلے میں امیدوار اتارنے والی کانگریس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی۔ محض پینتالیس چھیالس نشستیں اسکے ہاتھ آئیں۔ آل انڈیا ترینامول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی ہیں، جنہوں نے 1997ء میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ یو پی اے میں وہ اور تیلگو دیسام پارٹی کے چندرا بابو نائیڈو مودی کے سب سے بڑے نقاد ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد برقرار رہے۔ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی جو ماضی میں صوبے پر حکمران رہی ہیں، انہوں نے اتحاد کر رکھا ہے۔ مایاوتی بہوجن سماج وادی پارٹی کی رہنما ہیں، ان کی سیاسی حکمت عملی نے اتر پردیش میں اکھیلیش یادیو کو ماضی میں وزیراعلیٰ کے عہدے پر لانے کی راہ ہموار کی تھی۔ وہ خود امیدوار نہیں بنیں، خود بڑے عہدے کی امیدواری سے دستبردار ہوگئیں اور یوں ضمنی الیکشن میں مودی کا امیدوار ہار گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہی کی حکمت عملی تھی کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوسکیں تھیں۔ حتیٰ کہ امیٹھی میں مایاوتی کی حمایت کے بغیر خود راہول گاندھی جیت نہیں سکتا تھا۔

لیکن کیا اتر پردیش میں یہ جماعتیں اپنی ماضی کی حیثیت برقرار رکھ پائیں گی، اگر انکا ووٹ بینک برقرار رہا تو مودی کے لوگ ہار جائیں گے، لیکن اپوزیشن خود منقسم بھی ہے۔ حالانکہ فروری میں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا تین جماعتی اتحاد ہوا تھا، جس میں انہوں نے علی الترتیب، سینتیس، اڑتیس اور تین نشستوں پر ایک دوسرے کی مدد و حمایت کرنے پر اتفاق کیا۔ اتر پردیش صوبے کی لوک سبھا میں کل اسی نشستیں ہیں۔ البتہ 2017ء سے اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اسکا وزیراعلیٰ انتہاء پسند ہندو ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے بھارت کے متعدد کرسچن کو زبردستی ہندو بننے پر مجبور کیا جبکہ وہ پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیتا رہا ہے۔

اپوزیشن دہلی میں بھی منقسم ہے کہ جہاں کانگریس اور عام آدمی پارٹی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ کیرالہ میں راہول گاندھی خود بائیں بازو، کمیونسٹوں کے خلاف متحرک ہے۔ مغربی بنگال، اتر پردیش، بہار، کیرالہ میں جو کانگریس کے ممکنہ اتحادی ہوسکتے تھے، کانگریس انہی کے خلاف بیان بازی کرچکی ہے۔ مغربی بنگال میں مودی نے کمیونسٹوں سے مدد مانگ لی ہے اور یہ نہ صرف کمیونسٹوں کے نظریاتی حامیوں بلکہ ممتا بینرجی کے لئے بھی بری خبر ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ریاست مغربی بنگال میں انکی جماعت 23 سے زائد نشستوں جبکہ خلیج بنگال پر واقع بھارت کی مشرقی ریاست ادیشہ ( سابق اڑیسہ) میں 12 تا 15 نشستوں پر کامیاب ہوگی۔
 
یاد رہے کہ صوبائی سطح پر یہاں بیجو جنتا دل جیتتی ہے، جو ملکی سطح پر پانچویں بڑی منتخب پارلیمانی جماعت ہے۔ اب اس ریاست میں اسکو اپنا ہمنوا بنانے کے جتن میں تیلگو دیسام پارٹی کے چندرا بابو نائیڈو بھی مذاکرات کر رہے ہیں تو بی جے پی بھی انہیں اپنا بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ بیجو جنتا دل الیکشن کے نتائج سے پہلے کسی کی حمایت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ دوسری طرف کلوا کنتلا چندرا شیکھر رائو کی تلنگانہ راشٹرا سمیتھی چاہتی ہے کہ وہ تلنگانہ ریاست میں مقامی جماعتوں کو متحد کرکے ملک گیر سطح کی دونوں بڑی جماعتوں یعنی بی جے پی اور کانگریس کو یہاں کی لوک سبھائی راج نیتی میں بے اثر کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 794594
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب