0
Friday 17 May 2019 09:13

ماہ مبارک رمضان میں خود کو دیکھیں دوسروں کو نہیں۔۔۔۔۔۔

ماہ مبارک رمضان میں خود کو دیکھیں دوسروں کو نہیں۔۔۔۔۔۔
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

ماہ مبارک رمضان کا ایک عشرہ گزر گیا، اس گزرے ہوئے عشرے میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کس قدر ماہ مبارک رمضان کے نورانی لمحات سے استفادہ کیا، کس قدر اپنی روح کی طہارت کا سامان مہیا کیا، شک نہیں کہ ماہ مبارک رمضان میں ہمیں ایک بہترین موقع پروردگار کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے کہ ہم اپنا تزکیہ کریں اور سماج و معاشرہ کی معنوی تعمیر میں حصہ لیں، جب  ہم تزکیہ نفس کی بات کرتے ہیں تو دو طرح کے تصور ہمارے سامنے  آتے ہیں ، ۱۔ نفس حیوانی ۲۔ نفس قدسی، حیوانی نفس کا میلان اور رجحان مادی چیزوں کی طرف ہوتا ہے، گناہ کی طرف ہوتا ہے،  پستیوں کی طرف ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابل قدسی اور الٰہی نفس کے اندر اللہ کی قربت کی جانب رجحان  پایا جاتا ہے ، یہاں    انسانوں کے یہاں ایثار پایا جاتا ہے فداکاری کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہ قدسی نفس، یہ الٰہی نفس اسی روح سے متعلق ہے جس کے لئے کہا گیا۔(1) نفس حیوانی اور نفس الٰہی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ لازمی و قہری طور پر ایسا ہو کہ ہمار ے وجود میں دو نفس پائے جاتے ہوں اور ان دونوں کے درمیان ایک معرکہ ہو، کبھی ایک نفس دوسرے پر غالب آ جائے تو کبھی دوسرا پہلے پر۔ حقیقت تو یہ ہے یہ ہمارا وجود ایک ہی ہے ہمارے پاس ایک ہی نفس ہے اور ایک ہی روح ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں، تو یہ میں  ایک ہی شخصیت سے عبارت ہے، ایک سے زیادہ کا تصور نہیں لیکن یہ ایک میں ایسا ہے جس میں مختلف رجحانات و تمایلات پائے جاتے ہیں، یہ مختلف تمایلات اس انسان سے متعلق ہیں جو جسم  و روح کی ترکیب سے عبارت ہے، اسی لئے یہ تمایلات کبھی روح سے متعلق ہوتے ہیں تو کبھی جسم سے اور کبھی روح اور جسم کے درمیان ایک تقابل سامنے آتا ہے۔ 2

آپ ایک ایسے انسان کو فرض کریں جو بھوکا بھی ہے اور اسے کھانے کی ضرورت بھی ہے، اسے کھانا بھی چاہیئے اور کھانے کے لئے پیسہ بھی اسکے پاس نہیں ہے، ایک طرف حیوانی نفس کا تقاضا ہے تو دوسری طرف الٰہی نفس کا جو اس کی شخصیت سے متعلق ہے اسکی شخصیت اور اسکی آبرو کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے ایسے میں ایک طرف پیٹ کی آگ ہے تو دوسری طرف وہ اپنی حاجت کا اظہار بھی نہیں کر سکتا عزت نفس مانع ہے، اب اگر وہ اپنی عزت نفس کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے بھوکا رہنا پڑے گا، یہ وہ تعارض و تقابل ہے، جو ایک جسمی اور روحانی رجحان کے درمیان  وجود میں آتا ہے  لیکن یہ تعارض و تضاد اس بات کا سبب نہیں بنتا کہ ہم کہیں ہمارے وجود میں دو روحیں ہیں، ایک روحانی دوسری حیوانی۔  بلکہ صاف واضح ہے کہ ایک ہی وجود میں یہ دو طرح کے میلانات و تمایلات ہیں، یہاں پر عقل و نفس کے درمیان جو تعارض کی صورت سامنے آ رہی ہے اس  کے بارے میں  غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عقل کی تشخیص اور کنٹرول نہ ہو پانے والے تمایلات و خواہشات کے درمیان کی جنگ ہے، ایسی خواہشیں جو بے لگام ہیں نہ انکی کوئی حد ہے نہ کوئی اتھاہ، ان خواہشوں کو عقل کی لگام نہ دی جائے تو نتیجہ بس اتنا نکلتا ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے ان خواہشوں کی تکمیل ہو اور انسان جتنا جلدی ہو سکے ان پر عمل کرے، لیکن جب انہی خواہشوں پر عقل کی لگام آتی ہے تو خواہشیں انسان کو انجام کی طرف ضرور کھینچتی ہیں لیکن انسان احتیاط کی لگام کس دیتا ہے، بسا اوقات خواہش کی تکمیل کو زندگی کے لئے نقصان و تباہی کا سبب گردانتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں عقل و نفس کے درمیان ایک معرکہ وجود میں آتا ہے۔

اب ایسی صورتحال میں عقل یہ کہتی ہے بےلگام خواہشوں پر لگام لگائی جائے اور نفس کا تزکیہ کیا جائے اور اسے روحانی بنایا جائے قدسی بنایا جائے، جس طرح ایک باغبان و مالی رات دن اپنے چمن و گلستان  کی دیکھ ریکھ کرتا ہے، شب و روز انکی دیکھ بھال کرتا ہے تب کہیں جا کر ایک گلشن لہلہاتا ہے، بالکل ویسے ہی انسان کو اپنے نفس کی حفاظت درکار ہے اور اسی کو تزکیہ کہتے ہیں کبھی کبھی ایک ہونہار باغبان کی ساری توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو کہ پھلواری یا درختوں میں کیڑے لگ جائیں اور کیڑے لگ جاتے ہیں تو وہ مختلف دوائیوں کو استعمال میں لا کر انہیں مارتا ہے اور ختم کرتا ہے، اسی طرح ایک ہونہار بندہ اپنے نفس میں گناہوں کے کیڑے نہیں لگنے دیتا اور لگ جاتے ہیں تو رمضان جیسے مہینے میں اطاعت الٰہی کے سورج سے انہیں جلا کر ختم کرتا ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ ایک باغبان کی طرح انسان کے لئے بھی ضروری ہے کہ کہیں پر تخلیہ کرے اور ان آفتوں اور کیڑوں سے خود کو بچائے جو زندگی کی فصل کو تباہ کر دینے کے درپے ہیں اب تخلیہ کے بعد مراقبہ کی ضرورت ہے، اس منزل پر ضروری ہے کہ انسان اس بات کا دھیان رکھے کہ وہ چیزیں جو اسکی اطاعت و بندگی کی فصل کے رشد و نمو کے لئے ضروری ہیں انہیں فصل بندگی میں جذب کرے۔

جسم روح کا مرکب ہے، روح جب تک اس دنیا میں ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ جسم کی مدد و معاونت سے اپنی منزل کی طرف آگے بڑھے، جب منزل کی طرف حرکت ضروری ہے اور جسم کے اپنے تقاضے بھی ہیں تو بہت کچھ سوچ سمجھ کر انجام دینے کی ضرورت ہے، یہاں پر یہ بھی ضروری ہے کہ جسمانی ضرورتوں کا خیال کیا جائے تاکہ بدن صحیح و سالم رہے، اسلئے کہ بیمار مرکب راکب روح کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا، اب اگر جسم مرکب ہے اور روح اس پر سوار ہے اور انسان کو خدا تک پہنچنا ہے تو ضروری ہے کہ انسان حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھے بالکل اسی طرح کہ انسان اگر کسی گاڑی  پر سوار ہے تو جتنا اسے مقصد تک پہنچنے کی فکر ہوتی ہے اتنا ہی اس بات کی فکر بھی ہوتی ہے گاڑی غلط راستے پر نہ چلی جائے، گاڑی کا ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے گاڑی خراب نہ ہو جائے، اس لئے وہ سفر کے ساتھ ساتھ گاڑی کی خرابی کی جانب بھی متوجہ رہتا ہے کہ کچھ ایسا نہ پو کہ اس میں خرابی پیدا ہو جائے، اور اگر ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس سے گاڑی چلنے سے رک جاتی ہے تو اسکی تعمیر کراتا ہے اگر اسے تیل کی ضرورت ہوتی ہے تو تیل پڑواتا ہے، اگر پنچر ہو جاتی ہے تو اسے ٹھیک  کراتا ہے اگر یہ سب نہ کرے تو منزل تک نہیں پہنچ سکتا اسی طرح انسان کے  لئے جسم کی ضرورتوں کا دھیان بھی رکھنے کی ضرورت ہے پروردگار نے اس ماہ رمضان میں بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ انسان جسم و روح دونوں ہی کی تعمیر کرتا ہے اور اپنے نفس کا تزکیہ کر کے قرب الٰہی حاصل کرتا ہے، لیکن یہاں پر بھی کچھ چیزوں کے دھیان رکھنے کی ضرورت ہے، کہ ماہ مبارک رمضان بندگی کا مہینہ ہے روح کو عروج بخشنے کا مہینہ ہے ایسے مہینے میں ضروری ہے کہ ہم اس مہینے کے مقصد و ہدف کی طرف بھی متوجہ ہوں لیکن افسوس کہ سماج اور معاشرے میں اس مہینہ کو ایک دوسرے ہی رخ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہماری بے توجہی کی بنیاد پر بسا اوقات دوسری قومیں اس مہینے کو کھانے پینے اور موج مستی کرنے کے مہینے کے طور پر دیکھتی ہیں اور یہ بات یوں ہی نہیں ہے، مختلف ٹی وی چینلوں پر ماہ مبارک رمضان کے تحت پیش کئے گئے ان پروگراموں کو دیکھیں جو  دیگر مذاہب کے ماننے والے افراد کی جانب سے پیش کئے جاتے ہیں، یہ سارے پروگرام جسم  اور نفس کے اردگرد گھومتے ہیں، کہیں الگ الگ علاقوں کے لوگوں کے طرز طعم  کو پیش کیا جاتا ہے تو کہیں انواع و اقسام کے کھانوں پر گفتگو ہوتی ہے کہیں خرید کے مراکز میں پائی جانے والی گہماگہمی کو دکھایا جاتا ہے، تو کہیں ماہ مبارک رمضان میں ہونے والے کھیل کود  کو پیش کیا جاتا ہے، آپ مختلف شہروں کی گلیوں کوچوں میں کیرم بورڈ  کے جم گھٹوں کے ساتھ رات میں کرکٹ کھیلتے نوجوانوں کو دیکھ سکتے ہیں ان سب لوگوں سے کوئی یہ کہنے والا نہیں ہے کہ یہ رمضان کی حرمت کی پامالی ہے، اسلام سیر و تفریح اور کھیل کود سے منع نہیں کرتا لیکن "ہر چیزی یہ جای دارد و ہر نکتہ مقامی"۔ علاوہ از ایں ماہ مبارک رمضان میں ایک اہم سماجی و معاشرتی مسئلہ غریب و نادار لوگوں کی امداد کا ہے۔ بحمدللہ ماہ رمضان کی برکت سے انسان کا دل اس مہینے میں نرم رہتا ہے جسکے سبب ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے ضرورت مند بھائیوں کے لئے حد امکان کچھ کرے، یہ بہت اچھی چیز ہے، لیکن ہر اچھی چیز کے لئے ضروری ہے اسے اچھے انداز سے بھی  انجام دیا جائے، بسا اوقات ہمارے یہاں دیکھنے میں آتا ہے بعض لوگ کچھ پیسہ کسی خاص اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں اسکے بعد پلٹ کر کار خیر کرنے والے ادارے سے نہیں پوچھتے کہ بھائی تم نے یہ کام کیسے کیا؟

مستحقین کو کیسے تلاش کیا، ان تک سامان کو کیسے پہنچایا ؟ جب یہ ضروری ہے کہ اگر ہم کوئی نیک عمل انجام دے رہے ہیں تو دیکھیں کہ جس طرح انجام پانا چاہیئے ویسے انجام پایا۔ بعض بڑے شہروں میں افطاری کا سامان بانٹا جاتا ہے، کٹیں تیار ہوتی ہیں یہ بہت اچھی چیز ہے لیکن جب اسکا طریقہ صحیح نہیں ہوتا تو بڑی عجیب و غریب صورتحال سامنے  آتی ہے۔ ایک افراتفری کا ماحول ہوتا ہے جو آگے بڑھ چڑھ کر ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں ان تک سامان پہنچ جاتا ہے جو بے چارے صاحبان عزت ہوتے ہیں اور سوال کرنا انکے لئے موت کے مترادف ہوتا ہے وہ بعض مقامات پر محروم رہ جاتے ہیں، اب ہمارے لئے ضروری ہے ایسی جگہوں پر خیال رکھیں کسی بھی ضرورت مند کی نہ توہین ہو اور نہ ہی کوئی محروم ایسا ہو جس تک رسائی نہ ہو سکے، اس کے لئے ایک سسٹم بنانے کی ضرورت ہے اور محض رمضان ہی میں نہیں پورے سال محروموں سے رابطے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو یقینا یہ وہ چیز ہوگی کہ جس کے سبب ہم اپنے نفس کا واقعی تزکیہ کرنے کی طرف ایک قدم بڑھا سکتے ہیں۔ حقیقی طور پر روح کی بالیدگی کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں ماہ مبارک رمضان میں تزکیہ نفس کے لئے ان اخلاقی نکات پر توجہ کی ضرورت ہے وہیں ملکی موجودہ صورتحال اور الیکشن کی گہما گہمی میں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ ہماری محفلوں میں کتنی تلاوت قرآن ہے، کتنی دعائیں ہیں اور کتنا لا یعنی موضوعات پر واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایسی بحثیں ہیں۔

جن سے قوم میں انتشار پیدا ہو اور علماء کی توہین کا باب کھل جائے، فلاں نے فلاں کی حمایت کر دی، فلاں کسی فلاں پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، فلاں کا بائیکاٹ ہونا ضروری ہے یہ مباحث گرچہ ہماری قومی اور سماجی پیمانے پر دقت  اور ہماری دردمندی کے ترجمان ہیں لیکن بسا اوقات ایسے پلیٹ فارم کی تشکیل کا سبب بنتے ہیں، یہاں ہم آپسی گتھم گتھی کا شکار ہو جاتے ہیں اور دشمن ہمیں دیکھ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں فیک نیوز اور پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، حقائق پر مشتمل خبروں کے حصول کے ساتھ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہمارے تجزیئے بھی حقیقت پر مشتمل ہوں، کسی ایک فرد کے کسی ایک غلط موقف سے یا اسکی کچھ غلطیوں سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خیانت کار ہے، اگر ہم بڑے بڑے علماء کو خائن کا لقب دے دیںگے تو ہمارے پاس خیانت کاروں کی ٹیم کے سوا کیا بچے گا، یہ بات صحیح ہے کہ کسی ظالم کی حمایت کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے اور علماء کو اس سلسلہ سے ٹھونک بجا کر اپنا موقف اختیار کرنا چاہیئے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ کسی شوشے کے انتظار میں بیٹھنا اور مکھیوں کی طرح پروپیگنڈوں کے کچرے پر بھنبھنانا  اور اس ٹوہ میں رہنا کہ کوئی غلطی ہو تو اسے عام کیا جائے، تاریخ کے قبرستان سے گڑے مردے اٹھا کر انہیں پیش کیا جائے، یہ بھی قوم و سماج سے خیانت ہی کے مترادف ہے، انشاءاللہ اس ماہ برکت و مغفرت میں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم زیادہ سے زیادہ اس مہینہ کی برکتوں سے استفادہ کر سکیں اور یہ تب ممکن ہے جب ہماری نظر دوسروں سے زیادہ خود کی تعمیر پر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
1۔ حجر ۲۹
2۔ آئین پرواز، محمد تقی مصباح، ص ۲۸
خبر کا کوڈ : 794685
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے