2
Saturday 18 May 2019 20:10

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز
تحریر: امیر مسروری

یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون حملوں کا سال" قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی نئے سال کا آغاز سعودی عرب کے العند فوجی اڈے پر کامیاب ڈرون حملے سے کیا گیا تھا۔ اب یمن نے ایک اور بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات کو بھی کامیاب ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں سے پہلے یمن آرمی اور انصاراللہ عوامی رضاکار فورس کی حکمت عملی پہاڑی علاقوں میں جارح قوتوں کے خلاف گوریلا کاروائیوں اور میزائل حملوں پر استوار تھی۔ یمن نے اپنے میزائلوں کے ذریعے کئی بار سعودی عرب کے درالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے مرکز ابوظہبی کو شدید خطرے سے دوچار کیا اور کافی حد تک مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ البتہ دو صوبوں عسیر اور نجران میں یمن آرمی اور انصاراللہ کی چھاپہ مار کاروائیاں بھی اہم نتائج کی حامل تھیں۔ لیکن سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے بعض پہلووں سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں جیسے:
 
1)۔ یہ حملے خودکش ڈرون طیاروں کے ذریعے انجام پائے ہیں۔ ان ڈرون طیاروں کو سعودی عرب کے اندر 1200 کلومیٹر تک گائیڈ کر کے لے جانا اور کامیابی حملہ انجام دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یمن آرمی اور انصاراللہ پہلے سے سعودی عرب کے ایئر ڈیفنس سسٹم میں موجود بلائنڈ اسپاٹس کی شناسائی کر چکے تھے۔ یہ کام اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ گذشتہ چار سال کی جنگ کے دوران یمن آرمی اور انصاراللہ کا رابطہ ملک سے باہر کی دنیا سے منقطع ہے اور ان کے گرد زمینی، سمندری اور فضائی محاصرہ قائم کیا جا چکا ہے۔ لہذا انصاراللہ یمن کی جانب سے اس جدید ٹیکنالوجی کا حصول سعودی عرب کی سربراہی میں جاری یمن کے خلاف جارحیت کیلئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے سعودی عرب نے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں جبکہ امریکہ نے اس سسٹم کی گارنٹی فراہم کی ہوئی ہے۔
 
2)۔ اس نکتے سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اس ملک کا واحد اہم اور حساس انفرااسٹرکچر ہے۔ اس کے علاوہ پانی میٹھا کرنے والے پلانٹس بھی اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ لہذا ان تنصیبات کو نشانہ بنا کر ریاض، جدہ یا حتی سعودی عرب کے سلطنتی محل سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ درحقیقت سعودی عرب کی پوری معیشت کا انحصار انہی تنصیبات پر ہے اور انہیں نقصان پہنچا کر سعودی عرب کی معیشت کو شدید مشکلات کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں انصاراللہ یمن کی جانب سے ان تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر اس بات کا اعلان کرنا کہ یہ چار سالہ جنگ میں نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے انتہائی اہم امر ہے۔ اگر یمن اپنی ڈرون طاقت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور سعودی عرب کی آئل پائپ لائن خطرے کا شکار ہو جاتی ہے تو نہ صرف سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں کمی واقع ہو گی بلکہ خطے کی سطح پر سعودی عرب کی پالیسیوں میں بھی واضح فرق نظر آئے گا۔
 
3)۔ یہ حملہ ایسے وقت انجام پایا ہے جب خلیج فارس میں موجود امریکی بحری بیڑے بارہا سعودی عرب اور اس کی اتحادی خلیجی ریاستوں کی مدد اور حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن آرمی اور انصاراللہ کی نظر میں خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور دوسری طرف امریکہ بھی خود کو یمن کی جنگ میں الجھانے کی خواہش نہیں رکھتا۔ لہذا اس تناظر میں یہ ڈرون حملے ایک طرح سے خطے میں موجود امریکی بحری بیڑوں کیلئے بھی کھلی وارننگ ہے جو سعودی عرب کی حمایت کے دعویدار ہیں۔ البتہ ان حملوں کے بعد بعض یمنی حکام نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ یمنیوں کی طاقت اور سعودی جارحیت کے خلاف ان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
 
4)۔ گذشتہ چند دنوں میں ایک خبر منظرعام پر آئی ہے جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انصاراللہ یمن اور یمن آرمی نے یمنی عوام کی خیرسگالی کیلئے ملک کی تین اہم اور اسٹریٹجک بندرگاہوں کو تین دن کیلئے خالی کر دیا ہے تاکہ وہاں سے انسانی امداد کا سامان عوام تک پہنچایا جا سکے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ ان بندرگاہوں سے یمنی فورسز کا انخلا محاصرے کے باعث دباو کے نتیجے میں انجام پایا ہے۔ اس پروپیگندے کا مقابلہ کرنے کیلئے یمن آرمی اور انصاراللہ نے مشرقی یمن میں فوجی کاروائی کرتے ہوئے ایک بڑا اسٹریٹجک اہمیت کا حامل علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے اندر ڈرون حملے انجام پائے ہیں۔ یہ دونوں کاروائیاں انصاراللہ کی فوجی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں اور سعودی پروپیگنڈہ ختم ہونے کا بھی باعث بنے ہیں۔
 
 
خبر کا کوڈ : 795034
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے