4
Sunday 19 May 2019 02:16

بھارت، لوک سبھا انتخابات پر ایک طائرانہ نظر(2)

بھارت، لوک سبھا انتخابات پر ایک طائرانہ نظر(2)
تحریر: عرفان  علی
 
آج 19 مئی کو جب بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں رائے دہی کا آخری مرحلہ منعقد ہو رہا ہے تو بھارتی انتخابات کے حوالے سے جو بات مجموعی طور پر کہی جاسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس مرتبہ بھارت میں دو نظریات میں مقابلہ ہو رہا ہے۔ ایک نظریئے کو ہندو مذہبی فاشزم کہا جا رہا ہے۔ نریندرا مودی اور ان کی بی جے پی اس نظریئے کی قیادت کر رہی ہے گو کہ وہ خود کو ہندو قوم پرست قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرا نظریہ سیکولر بھارت کا ہے، جس کا پرچار انڈین نیشنل کانگریس اور یو پی اے کی دیگر جماعتیں کر رہی ہیں، اس سیکولر نظریئے میں بائیں بازو اور مرکز سے بائیں بازو رجحان کی طرف مائل جماعتیں کر رہی ہیں، سوشلسٹ و کمیونسٹ گروہوں کو بھی اسی نظریئے میں شمار کیا جا رہا ہے۔
 
البتہ تاحال حزب اختلاف کی جماعتیں اس پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتیں کہ کوئی بہت بڑا اپ سیٹ یا سرپرائز نتیجہ سامنے لاسکیں۔ زیادہ سے زیادہ جو وہ ممکنہ طور پر کرسکتی ہیں، وہ یہی ہے کہ مودی کے این ڈی اے اتحاد کی مجموعی پارلیمانی طاقت کو کم کر دیں۔ یعنی  بی جے پی یا این ڈی اے کی جماعتوں کی لوک سبھا کی نشستیں اس مرتبہ کم ہو جائیں۔ اسی ہدف کو نظر میں رکھتے ہوئے یو پی اے کی قائد سونیا گاندھی نے 23 مئی کو اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ان جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو مودی کی اتحادی نہیں ہیں۔
 
البتہ کوئی اپ سیٹ یا سرپرائز اگر کسی جانب سے متوقع ہے تو وہ بھارت کے خاموش ووٹرز ہیں۔ وہ چاہیں تو پولنگ اسٹیشن پر نریندرا مودی کی بی جے پی کی بجائے اس کے مخالفین کے حق میں زیادہ ووٹ ڈال آئیں اور سرپرائز نیتجہ آجائے تو یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ بی جے پی کی جیت کا مطلب بھارت کے اندرونی تضادات و اختلافات میں مزید شدت اور بھارتیوں کے مختلف گروہوں میں تناؤ ہے۔ محض مسلمان ہی نہیں بلکہ مسیحی آبادی بھی تنگ ہے۔ ذات پات کے نظام سے دلیت تنگ ہیں۔ غریب و امیر کے فرق سے نچلا و متوسط طبقہ پریشان ہے۔
 
مقبوضہ کشمیر کی مشکلات میں کمی بھی ممکن نہیں۔ لیکن ایک رائے یہ بھی ہے جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ شاید بی جے پی کی جیت سے پاکستان بھارت امن مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوسکے۔ ایسا سوچنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اتنا بڑا اور اہم قدم کانگریس حکومت اٹھائے تو ہندو قوم پرست اس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ ماضی میں یہ بھی ہوا ہے کہ بی جے پی کے اٹل بہاری واجبائی نے پاکستان میں نواز شریف حکومت کے دور میں بس ڈپلومیسی کی اور لاہور آکر اعلان لاہور پر دستخط کئے۔ یہ الگ بات کہ بعد ازاں صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لئے مسئلہ کشمیر کے کئی ممکنہ حل تجویز کئے اور واجپائی بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں شامل عقابوں کے دباؤ کو سہہ نہ سکے۔ اس طرح وہ ایک سنہری موقع گنوا بیٹھے۔
 
انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات یوں تو کانگریس اور بی جے پی دونوں حکومتوں سے ہی اچھے رہے ہیں، لیکن امریکا کی اسرائیلی لابی اور خود اسرائیل بی جے پی اور نریندرا مودی سے نسبتاً زیادہ مطمئن اور خوش ہیں۔ کانگریس ڈر ڈر کر اور چھپ چھپ کر تعلقات رکھا کرتی تھی، جبکہ مودی حکومت نے کھل کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو گہرا کر دیا ہے اور یہ بھی مودی حکومت کا کمال ہے کہ بیک وقت عرب سعودی عرب، متحدہ امارات سمیت جی سی سی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ اس نے بہترین تعلقات قائم کرلئے ہیں جبکہ ساتھ ہی اس نے ایران کے ساتھ تجارت بھی ختم نہیں کی ہے۔ البتہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے تیل کی خریداری معطل کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ بھارتی حکام نے ایرانی حکومت سے کہا ہے کہ اگلی حکومت اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرے گی۔ یعنی یہ معاملہ کم سے کم جون جولائی تک یوں ہی رہنے کا امکان ہے۔
 
بھارتی الیکشن میں دفاع و خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین پاکستان فیکٹر ہی ہوتا ہے۔ نریندرا مودی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی نسبت خراب زیادہ کیا ہے۔ ان کی حکومت کے دور میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر شیلنگ اور فائرنگ کی خبریں تواتر کے ساتھ آتی رہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کا بھی دعویٰ کیا اور پھر پاکستانی علاقے بالا کوٹ میں دراندازی بھی کی۔ ان دونوں حوالوں سے انہوں نے مبالغہ آرائی بھی بہت کی۔ عمران خان نے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مودی کی ہندو قوم پرست بی جے پی کی کامیابی کی صورت میں بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کا بہتر امکان ہوسکتا ہے۔
 
اس بیان کی وجہ سے پاکستان میں عمران خان پر تنقید ہوئی کہ شاید وہ مودی کے حامی ہیں اور دوسری طرف بھارت میں مودی پر تنقید کی گئی کہ شاید وہ پاکستان کو رعایتیں دینے پر آمادہ ہے، یعنی پس پردہ دونوں کے مابین اتفاق رائے کا تاثر ابھرا۔ دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے حملے میں کوئی پاکستانی شہری یا فوجی ہلاک نہیں ہوا۔ تو پھر بالا کوٹ میں بھارتی دراندازی میں جن افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، وہ کس ملک کے شہری تھے؟ اس طرح مودی سرکار اور ان کی جماعت کے بارے میں بھارتی رائے عامہ منقسم بھی ہوئی۔ اب یہ عوامل کس حد تک ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہوئے ہیں، الیکشن کے نتائج سے سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔
 
بین الاقوامی منظر نامے میں بی جے پی کی مودی حکومت کے دور میں بھارت کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے چین اور روس کے ساتھ برکس میں بہت زیادہ فعالیت دکھائی ہے۔ شنگھائی علاقائی تنظیم میں بھی وہ موجود ہے۔ یعنی بھارت کی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی کامیابی یہی ہے کہ عالمی و علاقائی سطح پر ایک دوسرے کے حریف ممالک اور حریف بلاک کے ساتھ بیک وقت تعلقات کو بہتر کرچکا ہے۔ بھارت اور چین کی بھی جنگ ہوچکی ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود چین نے برکس اعلامیہ میں دہشت گردی کے خلاف بھارت کے موقف کو اکوموڈیٹ بھی کیا جبکہ سعودی عرب اور چین نے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھی بھارت کی طرف جھکاؤ دکھایا، جس کی وجہ سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ قدم بہ قدم بھارت مکمل نہ سہی، جزوی طور پر چین اور سعودی عرب کو اپنی طرف جھکانے کر کامیاب ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کی سینکشنز کمیٹی نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ بس اتنا ضرور کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس میں پاکستان کا نام ڈلوانے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے۔
 
جس طرح اختلافات، تنازعات اور جنگی تاریخ ہوتے ہوئے بھی چین اور بھارت تجارت کر رہے ہیں، یہ پاکستان کی ہیئت مقتدرہ کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کا بھارت کی طرف جھکاؤ اس سے زیادہ بڑا سبق ہے۔ لیکن ساتھ ہی بھارت کو بھی یہ دیکھنا چاہیئے کہ جب چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری ممکن ہے تو پاکستان کئے ساتھ کیوں نہیں؟! خارجہ پالیسی میں بھارت کو خاص طور پر سارک تنظیم کے بڑے اور اہم پڑوسی ملک پاکستان سے تعلقات اچھے کرنے کے لئے اعتماد سازی پر مبنی اقدامات پر توجہ دینی چاہیئے۔ سارک سربراہی کانفرنس اسلام آباد میں نہ ہونے کی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی تھی۔ اگر وہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے کا اعلان کرتا اور یہ کانفرنس ہو جاتی تو اس سے پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ ختم نہ ہوتا تب بھی بہت کم ہو جاتا۔
 
بھارت کو پاکستان میں دراندازی سے بھی گریز کرنا چاہیئے تھا۔ مودی سرکار کے دور میں بعض ایسی سنگین غلطیاں ہوئیں ہیں کہ جس سے بھارت کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ لہٰذا 23 مئی کو جب نتائج کا اعلان ہو اور جود بھی نئی حکومت بنے، اس کو علاقائی امن کو ترجیح دینے کے لئے پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے لئے کام کرنا چاہیئے۔ لوک سبھا کا یہ الیکشن نئی سرکار کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے گا اور جنوبی ایشیاء کے امن کی کنجی بھارت کی اگلی سرکار کے ہاتھ میں ہوگی! اگر داخلی سطح پر بھی مودی سرکار انتہاء پسندی ترک کرکے پسماندہ اور حقوق سے محروم طبقے کے لئے کوئی بڑا مثبت کام کر جاتی تو ان پر ہندو فاشزم کا الزام نہ لگتا۔ کشمیریوں کے حقوق کی جدوجہد پر بھی بی جے پی سرکار اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو وہی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے کہ جو ان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو مائنس کرکے کسی حد تک نظر آنے لگی تھی۔
 
درست ہے کہ پاکستان میں بھی مذہب و فرقہ کے نام پر بعض انتہاء پسند گروہ موجود ہیں، لیکن پاکستانی قوم نے بھارتیوں کی مانند انہیں پارلیمنٹ میں اس طرح نہیں بھیجا، جیسا بھارتی منتخب کرتے رہے ہیں۔ یہ شیو سینا اور آر ایس ایس ذہنیت لوک سبھا جیسے ایوانوں کی ساکھ کو مجروح کرتی ہے۔ مجموعی طور پر پاکستانی معاشرہ مذہبی جنونیت و انتہاء پسندی کو مسترد کرتا ہے اور اگر کشمیر کا ایشو نہ ہوتا تو یہ انتہاء پسند گروہ پاکستان میں اپنا وجود ہی کھو بیٹھتے۔ کشمیر کے ایشو نے بھی انکے خاتمے میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے اور اس کی ذمے داری کسی حد تک بھارتی سرکار پر بھی جاتی ہے۔ البتہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی پر لازم ہے کہ امریکی اتحاد کی سازشوں کا حصہ بننے سے دور رہیں، آزاد فیصلے کریں اور برصغیر کو مستقبل کا عراق و افغانستان نہ بننے دیں۔ داعش پاکستان و بھارت میں پھیلائی جا رہی ہے، تکفیری دہشت گردی سے نمٹنے کا سوچیں۔ اس ایشو پر شام، ایران اور عراق سے مدد و معاونت لے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں بھی امن کے قیام کے لئے بین الاقوامی سفارتکاری میں فعال کردار ادا کریں۔
خبر کا کوڈ : 795076
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب