0
Sunday 19 May 2019 08:00

یمن کے مظلوم اور محصور عوام کو سلام

یمن کے مظلوم اور محصور عوام کو سلام
اداریہ
26 مارچ 2015ء میں جب حجاز مقدس پر قابض آل سعود خاندان نے اپنے من پسند صدر منصور ہادی کو صدر بنانے اور منوانے کے لئے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا تو اعتراض کرنے والوں کو آل سعود نے یہ جواب دیا کہ چند دنوں یا ہفتوں کا کھیل ہے، یمن پکے ہوئے پھل کی طرح ہماری گود میں آگرے گا۔ آج چار برسوں کے بعد بھی آل سعود اور اس کے مغربی اور عربی اتحادی محروم و نہتے یمنیوں کے ہاتھوں بری طرح ذلیل ہو رہے ہیں۔ آل سعود اور اس کے اتحادیوں نے زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ کر رکھا ہے لیکن یمنی عوام جس بے جگری کے ساتھ آل سعود کے کرائے کے فوجیوں سے لڑ رہے ہیں، اس نے سعودی عرب کے مغربی اور عربی اتحادیوں کی نیندوں کو حرام کر دیا ہے۔ خادم حرمین شریفین کی طرف سے جس طرح ایک غریب عرب ملک پر زمینی، فضائی اور سمندری حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام نہاد خادم حرمین شریفین کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ حرمین شریفین سے۔

گذشتہ دنوں یمن کی عوامی رضاکار تنظیم انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک بدرالدین حوثی نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز صنعا میں عام شہریوں کے قتل عام نے سعودی اتحاد کی قاتلانہ ماہیت کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جارح سعودی اتحاد نے پہلے ہی دن سے یمن کے مسلمان عوام کے خلاف اپنی دشمنی کو عیاں کر دیا اور اب پوری طرح واضح ہوگیا ہے کہ یمن کے بچے، عورتیں اور عام شہری ہی سعودی اتحاد کا اصل نشانہ ہیں۔ رمضان المبارک کا نصف مہینہ خاتمے کے قریب ہے لیکن آج نہ او آئی سی کی طرف سے، نہ عرب لیگ اور نہ ہی خلیج فارس تعاون کونسل کی طرف سے یہ اپیل سامنے آئی ہے کہ رمضان میں جنگ کو روک دیا جائے اور یمن کے بے گناہ نہتے مسلمان شہریوں کو روزے کی حالت میں فضائی حملوں اور میزائلوں کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

یمن کے بارے میں عالم اسلام اور عالمی برادری کی بے حسی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ وبائوں، بھوک، افلاس، طبی سہولیات کی عدم موجودگی اور انفراسٹرکچر کی تباہی نے یمنی عوام کو زندگی کے دشوار ترین مرحلے سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی ادارے اور امت مسلمہ خاموش تماشائی ہے، اس کے باوجود انصار اللہ کے سربراہ ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ سعودی اتحاد کے مجرمانہ اقدامات سے یمنی عوام کے حوصلے ہرگز پست نہیں ہوں گے بلکہ جارح دشمن کے خلاف یمنی عوام کا استقامت و مقابلے کا جذبہ مزید مستحکم ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 795084
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے