0
Sunday 19 May 2019 22:13

غیر جانبداری کی آڑ میں جانبداری۔۔۔۔

غیر جانبداری کی آڑ میں جانبداری۔۔۔۔
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
پاکستان کا شمار عالم اسلام کے اہم ترین ممالک میں ہوتا ہے، واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے اور بڑی مسلم آبادی کے لحاظ سے بھی پاکستان کو دنیا بھر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ امت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف اور پالیسی کو بھی ہمیشہ خاصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے دوست ممالک کی مدد سے یمن پر کی جانے والی جارحیت پر اسلام آباد نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، تاہم درحقیقت اس کے برعکس ہوا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی پارلمینٹ میں یہ دوٹوک فیصلہ ہوا تھا کہ چونکہ یمن کا مسئلہ دو مسلم ممالک سے مربوط ہے، لہذا اس سلسلے میں نہ صرف مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جائے گا بلکہ حکومت پاکستان اس مسئلہ پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔ علاوہ ازیں پاکستانی میڈیا اور اہل دانش حلقوں سمیت عوام کی اکثریت کا عمومی موقف بھی یہی نظر آتا تھا۔ اس قومی موقف کے برعکس حکومت پاکستان نے یمن کے مسئلہ پر پس پردہ جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ سب سے پہلے پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی افواج کے اتحاد کی سربراہی سونپ دی گئی۔
 
ریاست پاکستان کی طرف سے جنرل صاحب کو باقاعدہ این او سی جاری کیا گیا۔ دہشتگردی کیخلاف اور مسلم ممالک کو درپیش جارحیت کا مقابلہ کرنے کے نام نہاد موقف پر وجود میں آنے والے اس فوجی اتحاد کا مقصد اول یمن پر جارحیت اور امریکہ و سعودی مخالف اتحاد کو نقصان پہنچانا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ثابت ہوگیا کہ اس فوجی اتحاد کے پس پردہ مقاصد کیا تھے، مختلف عالمی میڈیا سمیت بعض عرب اخبارات نے بھی ثابت کیا کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اسلامی فوج کی کمانڈ کی بجائے آل سعود خاندان کے ذاتی سکیورٹی گارڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یمن میں مسلسل کئے جانے والے حملوں اور ہزاروں بے گناہ خصوصاً بچوں کی شہادتوں پر بھی ہماری جانب سے کسی قسم کی مذمت نہ کئے جانا غیر جانبداری کے موقف کی تذلیل کر رہا تھا۔ واضح ہو کہ سعودی عرب کی یمن پر جارحیت کو یمن کے حرمین پر حملہ سے تشبہہ دی جاتی رہی۔ حالانکہ حوثیوں نے متعدد بار اس موقف کا اظہار کیا کہ آل سعود ان پر حملہ آور ہوئے ہیں، نہ کہ وہ سعودیہ پر۔ حرمین کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ خود آل سعود سے ہے، ہم حرمین کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑ دیں گے۔ پاکستان نے یمن کے حوثی قبائل کے آل سعود فوجیوں پر حملوں کی تو کھل کر مذمت کی، تاہم سعودی جارحیت پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ یمن مسئلہ پر اسلام آباد کا کردار مکمل طور پر جانبدارانہ رہا تو غلط نہ ہوگا۔
 
خطہ کی حالیہ صورتحال بالخصوص امریکہ کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران کو دھمکیوں اور جارحانہ مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ پاکستان اس صورتحال میں واضح موقف اپناتے ہوئے امریکی جارحیت کی کھل کر مذمت کرے گا۔ تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ ”یہ جنگ خطہ کیلئے نقصان دہ ہوگی، تاہم پاکستان کسی فریق کی حمایت نہیں کرے گا بلکہ غیر جانبدار رہے گا۔“ اس نازک صورتحال میں سعودی عرب مکمل طور پر نہ صرف امریکہ کا حامی نظر آتا ہے بلکہ فوری طور پر جنگ شروع ہونے کا خواہاں بھی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا سلمان نے خلیجی تعاون کونسل اور عرب لیگ کا سربراہی اجلاس 30 مئی طلب کر لیا ہے، اس اجلاس کا مقصد ایران کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایران کے براہ راست خلاف پریس کانفرنس بھی کی ہے، جس نے آل سعود کی ایران کے خلاف کوششوں کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب آنے والے دنوں میں سعودی عرب کا اہم دورہ کریں گے، عین ممکن ہے کہ عمران خان خلیجی تعاون کونسل اور عرب لیگ کے رکن نہ ہونے کے باوجود اس اجلاس میں شریک ہوں۔
 
یہاں ایک بار پھر اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے ایران، امریکہ ممکنہ جنگ کی صورتحال میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کہیں ہماری حکومت مسئلہ یمن کی طرح اس صورتحال میں بھی ڈبل گیم تو نہیں کھیلنے جا رہی۔؟ اس نازک صورتحال میں عمران خان کا دورہ سعودی عرب کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر امریکہ کی بات کی جائے تو ٹرمپ انتظامیہ خود کو شائد اس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش میں نظر آتی ہے، کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ ایران افغانستان، عراق یا شام نہیں ہے کہ اس پر اتنی آسانی سے حملہ کر دیا جائے گا۔ معروف تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ ایران کا ساتھ دینا پاکستان پر فرض ہے، اگر ہم نے برادر اسلامی ملک کا ساتھ نہ دیا تو آج ایران، کل سعودیہ اور پھر پاکستان کی باری ہوگی، سعودیہ کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی مخالفت کی صورت میں آج ان کا ساتھ دے رہے ہیں تو اس کے پیچھے صہیونیت کی وہی سوچ ہے کہ نعوذ باللہ مکہ اور مدینہ پر وہی قابض ہو جائیں گے، لہذا تمام مسلم ممالک کو ملکر اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
 
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور بحیرہ عرب میں امریکی بحری جنگی جہازوں کی موجودگی سے پاکستان براہ راست متاثر ہوگا، اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان ترکی کے ساتھ مل کر کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنائو پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے، انکا کہنا تھا کہ جنگوں کی صورت میں خطے بھوک اور افلاس کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ اسلحے کے کارخانے اور فیکٹریاں چلتی ہیں اور اسلحہ بکتا ہے۔ امریکا جان بوجھ کر ایران پر جنگ مسلط کر رہا ہے، جبکہ پاکستانی حکومت کا امریکی دبائو میں آکر ایران کے ساتھ معاہدوں سے انحراف امریکی غلامی اور بزدلی کی بدترین مثال ہے۔ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ اور سینیٹر سراج الحق کے خدشات یقیناً بجا ہیں، پاکستان کو موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے، ایران پر جنگ مسلط ہونے کی صورت میں نہ صرف خطہ کے دیگر ممالک متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ تہران کے بعد سب سے زیادہ مسائل اسلام آباد کیلئے بن سکتے ہیں۔ لہذا اول تو پاکستان کو کھل کر برادر اسلامی ملک کیساتھ کھڑا ہونا چاہیئے تھا، تاہم اگر پاکستان نے غیر جانبدار ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو کم از کم یہ غیر جانبداری مسئلہ یمن کی طرح نہیں ہونی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 795157
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب