0
Monday 20 May 2019 08:02

آل سعود کی چیخیں

آل سعود کی چیخیں
اداریہ
بعض ممالک میں مہنگائی کی وجہ سے چیخیں نکل رہی ہیں، بعض ملکوں میں اخلاقی بے راہروی نے سنجیدہ طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ فحاشی و عریانی نیز سوشل میڈیا کی حرکتوں سے بھی بعض معاشروں اور ملکوں میں چیخیں بلند ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر جتنا ظالم ہوتا ہے، وہ اندر سے اتنا ہی بزدل اور ڈرپوک ہوتا ہے۔ ماضی کی تاریخ اس طرح کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ آج کل خلیج فارس کے عرب ممالک کے ڈکٹیٹروں پر بھی خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ جنگ کے خوف نے ان ڈکٹیٹروں کا رات کا سکون اور دن کا چین چھین لیا ہے۔ سرمائے اور اقتدار کے نشے میں دھت ان ڈکٹیٹروں کو اس بات کی توقع ہی نہ تھی کہ ایک دن بھوکے، ننگے، غربت و افلاس کے مارے وباء زدہ یمنی عوام الفجیرہ اور سعودی عرب کے کئی سو کلومیٹر اندر آ کر آرامکو کمپنی کی آئل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان دو حملوں کے بعد آل سعود اور آل النہیان کے محلوں میں خوف و وحشت کا پہرہ ہے۔ حملے کے ایک دو دن بعد تک تو انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ خدائی قہر کہاں سے آیا اور کس طرح محفوظ علاقوں تک باآسانی پہنچ گیا۔

بن سلمان اور بن زائد کو یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ غریب و لاچار یمنی مجاہدین اگر سعودی عرب کے اندر آکر اتنا صحیح نشانہ لے سکتے ہیں تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس جو جدید بیلسٹک میزائل ہیں، وہ تو شہزادوں کی خواب گاہوں کے اندر تک آسانی سے مار کرسکتے ہیں۔ خوف و ہراس کے اسی عالم میں سلمان بن عبدالعزیز نے او آئی سی اور خلیج فارس تعاون کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے مشاورین نے یمن پر چار برسوں سے جاری وحشیانہ جارحیت، فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم، بحرین میں جمہوری تحریک کی بیخ کنی، العوامیہ اور قطیف کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے گھروں کی مسماری نیز شام و عراق کی تباہی پر تو او آئی سی اور خلیج فارس کا ہنگامی اجلاس اتنی عجلت میں نہیں بلایا، لیکن فجیرہ اور سعودی عرب پر گرنے والے چند میزائلوں نے آل سعود کی چیخیں نکلوا دیں اور وہ اب مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور خلیج فارس کے ممالک کے عرب حکمرانوں کو ریاض میں بلا رہے ہیں۔

او آئی سی اور خلیج فارس تعاون کونسل کا ماضی سعودی ڈکٹیشن سے اٹا ہوا ہے، لہذا امت مسلمہ اور عرب عوام کو ان جلاسوں سے کوئی تعلق نہیں، البتہ ایران کے خلاف عالمی سیاسی تنہائی کا شکار امریکہ ضرور خوش ہو جائے گا، کیونکہ ان دونوں اداروں بالخصوص جی سی سی میں سلمان اور بن سلمان کی ہی ڈکیٹشن چلتی ہے، لہذا اس ادارے سے ایرانو فوبیا اور ایران دشمن اقدام بڑی آسانی اٹھوایا جا سکتا ہے۔ بن سلمان اور بن زائد کو ٹرامپ کی "بی ٹیم" بن کر شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر استقامتی بلاک کی طرف پتھر نہیں پھینکنے چاہیں، کیونکہ جوابی کارروائی میں ان کی چیخیں سننے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 795207
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب