0
Monday 20 May 2019 16:31

امریکہ ایران تنازعہ

امریکہ ایران تنازعہ
تحریر: ناصر رینگچن

یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ امریکہ ایران تنازعہ نے سر اٹھایا ہو، انقلاب اسلامی ایران کے بعد سے ہر سال یہ تنازعہ مختلف صورتوں میں رونما ہوتا رہا ہے اور اس کا انجام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست پر تمام ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں کبھی یہ نہیں چاہتیں کہ کوئی ملک خصوصاً اسلامی ملک خود مختار ہو، جو عالمی طاقتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے، لہذا انقلاب اسلامی ایران کے بعد نظریہ انقلاب امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواریوں کے لئے بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ انقلاب دشمنوں کے صبر کا پیمانہ کچھ مہینے پہلے لبریز ہوگیا، جب ایران نے انقلاب کی چالیسویں سالگرہ منائی اور ان کی تمام تر پیشنگوئیوں کو شرمندہ تعبیر کیا۔

کچھ دنوں پہلے امریکہ نے ایرانی افواج پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ قرار دیا، جس کے جواب میں ایران نے امریکی سنٹرل کمانڈ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، یوں امریکہ ایران تنازعہ نے ایک دفعہ پھر سر اٹھایا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ انقلاب اسلامی کے بعد وجود میں آئی ہے اور اس کا جغرافیائی اسٹریکچر اسرائیل کے گرد گومتا ہے، یعنی اس کے بنانے کا مقصد ایران سے کسی بھی ممکنہ خطرے سے اسرائیل اور امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، عراق جنگ سے لیکر مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء میں جتنی بدامنی و انارکی پھیلتی ہے، یہ سب اسی کمانڈ سنٹر سے کنٹرول ہوتا ہے۔

امریکہ مختلف حیلوں بہانوں سے ایران پر دباء ڈالنا چاہتا تھا، تاکہ ایران پریشر میں آکر کسی حد تک امریکہ کو تسلیم کرے، لیکن ایسا نہیں ہو پایا، بلکہ برعکس ایران کی طاقت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا اور انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ عراق، شام، فلسطین، لبنان کے محاذوں پر بھی امریکہ اسرائیل کو شکست دینے کا جشن منایا، جس نے امریکی شکست اور بے بسی کو ساری دنیا کے سامنے واضح کر دیا۔ اب امریکہ دوبارہ اپنے جھوٹے دعووں کو سچ ثابت کرنے اور ایران کو محکوم کرنے کے لئے میدان میں کود پڑا ہے، جس کا مقدمہ پاسداران انقلاب کو بلیک لیسٹ کرنے کے بعد عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ اور عراق سے اپنے تمام باشندوں کو انخلاء کا حکم، ایران کی طرف سے عراق میں امریکیوں پر ممکنہ حملے کے خدشہ کو ظاہر کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر چار جہازوں میں تخریب کاری کی کوشش کی گئی، جن میں سے دو تیل بردار جہازوں کو شدید نقصان پہنچا اور یہ دونوں جہاز سعودی عرب کے تھے۔ کہتے ہیں کہ تخریب کاری کی یہ کوشش بھی امریکہ کی طرف سے بنایا گیا منصوبہ تھا، تاکہ ایران کے خلاف وہ اپنے دعووں کو سچ ثابت کر سکے، مگر ابھی تک اس کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔ امریکہ زبانی حد تک تو ایران سے جنگ کرتا ہے، مگر حقیقی میدان میں وہ ایران کے ساتھ دو بہ دو جنگ کو تیار نہیں ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب انقلاب اسلامی نومولد تھا اور اُس نے آٹھ سالہ عراق جنگ مسلط کی تھی، تب ایران کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ اب تو ایران ایک ناقابل تسخیر طاقت بن چکا ہے، جس کے میزائلوں کی رینج میں امریکہ کا قلب اسرائیل موجود ہے اور کسی بھی امریکی جارحیت کا خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا۔

لہذا کہتے ہیں کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، بالکل اسی طرح امریکہ نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے اور اسی لئے ایک دفعہ پھر سعودی عرب اور امارات کو آگے کیا ہے، جنہوں نے اپنی بادشاہت کی خاطر امریکہ و اسرائیل کی غلامی کو قبول کیا ہوا ہے اور عالم اسلام میں اس وقت جو مشکلات ہیں، ان کی اسّی فیصد جڑیں انہیں ممالک سے ملتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسلامی ممالک کو ایران کے روبرو کھڑا کرے (واضح رہے کی ایران نے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے اور اس تخریب کاری کی مخالفت کی ہے) اور خود جنگی طبل بجا کر پیچھے ہٹ جائے، لیکن اس میں ابھی تک امریکہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا ہے، بلکہ امریکہ کی طرف سے ان تمام تر جنگی خطرات کا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صرف دو جملوں میں جواب دیا کہ "جنگ نہیں ہوگی اور مذاکرات ہم نہیں کرینگے۔" دوسری طرف امریکی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ کبھی جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو تو کبھی تردید کرتا ہے، کبھی حملے کی بات کرتا ہے تو کبھی ٹرمپ اپنا فون نمبر دیتا ہے کہ ایرانیوں سے کہیں کہ وہ ان سے بات کریں۔

ان سب کے باوجود میری نظر میں ابھی ایک خطرہ موجود ہے اور وہ سعودی اور عرب امارات کے خائن و بے وقوف حکمرانوں کی جانب سے ہے، جو امریکی اور اسرائیلی باتوں کو کسی بھی چوں چرا کے بغیر تسلیم کرتے ہیں، کہیں ان کے مشوروں میں آکر مسلمان ممالک کو پھر کسی مشکلات سے دوچار نہ کر دیں۔ ابھی فجیرہ تخریب کاری کو گزرے کئی دن ہوئے ہیں اور کل واشنگٹن کی طرف سے بن سلمان کو کال کی جاتی ہے اور ایک گھنٹے کی طویل گفتگو کے بعد ان کو یاد آتا ہے کہ فجیرہ حملے اور یمنی ڈرون حملے کے حوالے سے عرب سربراہان کی ایمرجنسی میٹینگ ہونی چاہیئے اور اس حملے کے حوالے سے لاحہ عمل طے ہونا چاہیئے، یعنی ایران کے خلاف ایک نئے محاذ کا آغاز کرنا چاہیئے۔ اگر یہاں پر اسلامی ممالک نے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کا نہیں سوچا تو ایک نئے فتنہ کا آغاز ہوسکتا ہے، لیکن اگر مدبرانہ اور مخلصانہ فیصلہ کیا گیا تو امریکہ کی شکست لازمی ہے۔ لہٰذا اب کچھ دن مزید انتظار کریں اور دیکھیں کہ حالات کہاں تک پہنچتے ہیں اور عرب سربراہان کیا گل کھلاتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 795321
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے