0
Monday 20 May 2019 20:54

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(2)

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(2)
تحریر: سید اسد عباس
 
الاعیان 
قاسم بن حسن علیہ السلام
قاسم کربلا میں اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہوئے۔ آپ کا چودہ برس کی عمر میں ایک جملہ آپ کے علو و شان کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے، جب آپ نے امام حسین علیہ سے سوال کیا کہ چچا کیا شہادت میرے نصیب میں ہے تو چچا نے حضرت سے قاسم سے پوچھا کہ بیٹا موت کو کیسے دیکھتے ہو تو سید قاسم نے برجستہ جواب دیا "الموت عندی احلی من العسل"(میرے لیے موت شہد سے زیادہ شیریں ہے)۔ چودہ برس کے نوجوان کا موت کے بارے میں یہ نظریہ غیر معمولی نہیں ہے جبکہ اسے معلوم ہو کہ کل موت یقینی ہے۔ قاسم بن حسن علیہ السلام کی کوئی اولاد نہ تھی۔
 
عبد اللہ بن حسن علیہ السلام 
المجدی فی انساب الطالبین کے مطابق عبد اللہ بن امام حسن علیہ السلام بھی کربلا میں شہید ہوئے، ان کی کنیت ابو بکر تھی۔ آپ کی بھی کوئی اولاد نہ تھی۔
 
عبد اللہ بن حسن مثنیٰ بن حسن علیہ السلام
آپ حسن مثنیٰ کے فرزند ہیں، مقاتل الطالبین میں مصعب زبیر کا آپ کے حوالے سے قول نقل ہے کہ ہم عبد اللہ کو لوگوں میں سے بہترین انسان کے عنوان سے جانتے تھے۔ عبد اللہ بن حسن بن حسن علیہ السلام کے اوصاف کو مقاتل الطالبین کے مولف نے تفصیلاً بیان کیا ہے، جسے طوالت کے باعث ہم یہاں ترک کرتے ہیں۔ آپ کو دیباج بنی ہاشم، عبد اللہ محض اور عبد اللہ کامل کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ عبد اللہ بن حسن بن حسن علیہ السلام زید بن علی زین العابدین کی شہادت کے بعد ان کی تحریک کا حصہ بنے۔ منصور دوانقی کے حکم پر ہاشمیہ کے مقام پر قید کے دوران شہید ہوئے۔ آپ کے فرزندان محمد نفس زکیہ نے بنو عباس کے خلاف قیام کیا جبکہ دوسرے فرزند مراکش کے فرمانروا بنے۔ افریقہ میں آباد حسنی سادات ادریس بن عبد اللہ محض کی نسل سے ہیں۔ آپ بھی زیدیہ فرقہ کے امام ہیں۔
 
حسن بن حسن بن حسن علیہ السلام
آپ مدینہ کے فضلا میں سے شمار ہوتے تھے۔ آپ کو حسن مثلث بھی کہا جاتا ہے۔ مذہب زیدیہ کے اکابر میں سے شمار کیے جاتے ہیں۔ مقاتل الطالبین کے مطابق منصور کے دور میں قید و بند کی صوبتیں جھیلتے ہوئے دار فانی کو وداع کہہ گئے۔ آپ بھی زیدیہ فرقہ کے ائمہ میں سے ہیں۔
 
ابراہیم بن حسن بن حسن علیہ السلام 
مقاتل الطالبین میں روایت ہے کہ احمد بن سعید یحیٰ بن حسن سے روایت کرتے ہیں کہ "کان ابراھیم اشبہ الناس برسول اللہ" ابراہیم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ؐ سے مشابہ تھے۔ ابراہیم بن حسن بن حسن منصور کی قید میں وفات پا گئے۔
 
بنو امیہ کا زوال اور بنو عباس کا اقتدار
 واقعہ کربلا کے بعد بنو امیہ کے زوال کا دور شروع ہوا، بنو ہاشم نے بنو امیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، جس میں عباسی پیش پیش تھے۔ محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ المحض بن حسن مثنیٰ بن امام حسن علیہ االسلام کو ان کی خصوصیات کے سبب خلیفہ کے طور پر نامزد کیا گیا، لیکن بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی سفاح نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور حسنی سادات کو کار ریاست سے الگ کرکے ان کے بزگوں کو قید کرنے کا حکم جاری کیا۔ حسنی سادات کے اکثر بزرگ حکومتی قید میں انتقال کرگئے۔
 
محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنیٰ
آپ عبداللہ محض کے فرزند ہیں، اپنے زہد و عبادت اور فقاہت کے سبب معروف تھے۔ منصور دوانقی کے ہاتھوں اپنے خاندان کے بزرگوں کی قید اور قتل کے بعد محمد نفس زکیہ نے عباسی حکومت کے خلاف خروج کیا۔ مدینہ میں حکومت قائم کی اور آخرکار مدینہ میں قتل ہوئے۔ آپ زیدی فرقہ کے امام ہیں۔
 
ادریس بن عبد اللہ محض بن حسن مثنیٰ
آپ کی کنیت ابو محمد تھی، ادریس اپنے بھائی حسین کے قتل کے بعد مراکش چلے گئے۔ ادریس کی نسل ان کے فرزند ادریس اصغر سے ہی چلی۔ براعظم افریقہ میں آباد اکثر سادات ادریس بن عبد اللہ محض کی نسل سے ہیں۔ حضرت ادریس نے مراکش میں ریاست قائم کی اور اہل مراکش کے امام قرار پائے۔ افریقہ میں آج بھی کئی ایک صوفی سلسلے حضرت ادریس کی نسبت سے امام علی تک منتہی ہوتے ہیں۔ آپ کی نسل کی حکومت 789ء سے 974ء تک مراکش میں رہی۔ اندلس میں 1016ء سے 1027ء تک، جنوبی سپین کے علاقے ملاگہ میں حکومت جو 1090ء سے 1239ء تک رہی۔ مراکش کے موجودہ شاہ محمد ششم جن کی بادشاہت کا سلسلہ کئی ایک نسلوں سے جاری ہے، کا تعلق حسن الشریف بن قاسم کی نسل سے ہے، جو حسنی سادات سے ہیں۔ نائجیریا کے معروف عالم دین شیخ ابراہیم زکزاکی جو اس وقت حکومت کی قید میں ہیں، کا تعلق بھی ادریس بن عبد اللہ محض کی نسل سے ہے۔
 
عبد اللہ الاشتر
عبد اللہ الاشتر المعروف عبد اللہ شاہ غازی مدفون کلفٹن کراچی۔ محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض کی شہادت کے بعد آپ عراق سے ایران اور پھر کابل تشریف لائے، عبد اللہ الاشتر نے کابل میں عقد کیا، آپ کی نسل وہاں محمد کابلی سے چلی۔ عبد اللہ الاشتر بنو عباس سے چھپتے چھپاتے سندھ تشریف لائے اور یہاں ہی ایک عباسی فوجی جتھے سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا جبکہ جسد کو سمندر کے کنارے ایک بلند مقام پر دفن کیا گیا۔ عبد اللہ شاہ غازی کا مزار آج بھی کراچی میں مرجع خلائق ہے۔
 
ابراہیم طباطبا
ابراہیم طباطبا بن اسماعیل بن ابراہیم بن حسن بن حسن علیہ السلام امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ بنی ہاشم کے معروف افراد میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ زبان میں لکنت کے باعث قاف کو طاء پڑھتے تھے اور قبا کو طبا کہتے تھے، جس کے سبب ان کا نام طبا طبا معروف ہوگیا۔ عباسی حکومت آپ سے خوفزدہ رہتی تھی، ہارون الرشید کے زمانے میں قید کے دوران میں قتل کر دیئے گئے۔
 
امام قاسم الرسی
قاسم الرسی بن ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن حسن بن حسن علیہ السلام جلیل القدر عالم تھے اور زیدی فرقے کے ائمہ میں سے ہیں، آپ کی متعدد تصانیف موجود ہیں، جن میں الرد علی ابن مقفع، الرد علی الرافضہ، الرد علی الروافض من اصحاب الغلو، الکامل المنیر فی رد علی الخوارج، الرد علی النصاری، المسترشد، الرد علی المجبرۃ، تاویل العرش و الکرسی، المسائلۃ، الفرائض و السنن، کتاب الطہارۃ، صلاۃ الیوم والیلۃ، مسائل علی جھشیار، الناسخ والمنسوخ، سیاسۃ النفس و الامامۃ، تثبیت الامامۃ، الاحتجاج فی الامام، الھجرہ للظالمین، القتل و القتال قابل ذکر ہیں۔ امام قاسم الرسی کا علمی اثاثہ یمن کے علماء نے محفوظ رکھا ہے اور آج بھی آپ کی نسل سے بڑے بڑے علماء پیدا ہوتے ہیں، جنہوں نے علوم دین کے ہر میدان میں معرکۃ الآراء کتب تحریر کی ہیں۔ مدینہ کے قریب واقعہ مقام رس میں سکونت کی وجہ سے آپ رسی کی نسبت سے معروف ہوئے۔
 
ہادی الی الحق یحیٰ بن حسین بن قاسم الرسی
آپ نے یمن میں سادات کی حکومت قائم کی، جو 284ھ سے 1006ھ تک قائم رہی۔ یہ دور یمن میں خوشحالی اور علمی ترقی کا دور تصور کیا جاتا ہے، آپ کی اولاد سے کئی ایک شخصیات نے یمن پر حکومت کی۔ اسی دور میں یمن میں مذہب زیدیہ کی باقاعدہ تدوین ہوئی۔ اس دور کا علمی کام فرقہ زیدیہ کی اساس ہے۔ اس وقت بھی یمن میں جاری تحریک کے روح رواں حوثی امام یحیٰ بن حسین کی نسل سے ہیں۔ انصار اللہ یمن کے موجودہ سربراہ عبد الملک الحوثی اسی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ لبنان کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ بھی یمن کے حسنی سادات میں سے ہیں۔ اگر یمن کے حکمرانوں اور علماء، فضلاء اور شعراء کے ہی نام تحریر کیے جائیں تو کئی ایک جلدوں کی کتاب درکار ہوگی۔
 
شاہ عبد العظیم الحسنی 
عبد العظیم بن عبداللہ بن علی بن حسن بن زید بن حسن علیہ السلام ایران کی معروف شخصیت ہیں، جن کا مزار ایران کے صدر مقام تہران میں مرجع خلائق ہے۔ شاہ عبد العظیم امام علی نقی علیہ السلام کے اصحاب میں سے شمار ہوتے تھے۔ کتب حدیث اور متون روایی میں عبدالعظیم حسنی سے منقول احادیث کی تعداد ایک سو سے بھی زیادہ ہے۔ آپ کثرت سے امام جواد (ع) اور امام ہادی (ع) سے احادیث نقل کرتے تھے۔ آپ کے علمی آثار میں کتاب خطبہ امیر المومنین، کتاب اللیلۃ و النھار اور روایات عبدالعظیم حسنی شامل ہیں۔ سید عبد العظیم کا انتقال 252ھ میں ہوا۔
 
حسن بن زید داعی کبیر 
حسن بن زید بن محمد بن اسمعیل بن حسن بن علی علیہ السلام ایران کی جانب ہجرت کرنے والے سادات حسنی کے سرخیل ہیں۔ آپ نے ایران کے علاقے آمل میں 250ھ میں سادات کی حکومت قائم کی اور داعی کبیر کے لقب سے معروف ہوئے۔ داعی کبیر کے دور حکومت میں عباسیوں کے ستائے ہوئے بہت سے سادات ایران کے علاقے طبرستان میں آکر آباد ہوئے، جن میں موسوی، حسینی، حسنی سادات قابل ذکر ہیں۔ طبرستان کا علاقہ سادات کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھا، جہاں عباسی حکمران قاصر رہے۔ حسن بن زید داعی کبیر نے الحجۃ فی الامامۃ، الجامع فی الفقہ، البیان تحریر کیں۔ آپ کے بعد سے سادات کی ایران میں حکومت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ نسل امام حسن علیہ السلام سے کئی ایک مراجع، علماء، فضلاء آج بھی ایران اور دنیائے اسلام کے لیے سبب فیض ہیں، جن میں آیت اللہ سید حسین بروجردی، آیت اللہ محمد حسین طباطبائی صاحب میزان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
 
غوث اعظم عبد القادر گیلانی/جیلانی
سید عبد القادر جیلانی المعروف غوث اعظم معروف صوفی بزرگ ہیں، آپ 470ھ میں ایران کے علاقے گیلان میں پیدا ہوئے، ایک اور روایت کے مطابق بغداد کے قریب ایک علاقے جیلان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ طریقت حضرت جنید بغدادی سے ہوتا ہوا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک جاتا ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب موسیٰ بن عبد اللہ بن یحیٰ بن محمد بن دائود بن موسیٰ بن عبد اللہ بن موسیٰ الجون بن عبداللہ محض بن حسن مثنیٰ بن امام حسن علیہ السلام تک جاتا ہے۔ صاحب کرامات بزرگ تھے۔ آپ ہی کے نام سے تصوف کا ایک سلسلہ قادریہ اس وقت بھی موجود ہے، جس سے ہزاروں سالکین اور لاکھوں معتقدین فیض یاب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اوچ بہالپور آپ ہی خانوادے کا ایک سلسلہ ہے، جس کی شاخیں پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سید عبد القادر گیلانی کی کتاب سر الاسرار و مظاہر الانوار ان کی علمی و روحانی خدمات پر مشتمل ہے۔
 
بہائو الدین المعروف بہاول شیر قلندر
میر بہاول شیر قلندر سید عبد القادر جیلانی کی نسل سے ہیں اور حجرہ شاہ مقیم میں مدفون ہیں۔ آپ پاکستان کے صاحب کرامت بزرگوں میں سے ہیں۔ حجرہ شاہ مقیم بہاول شیر قلندر کے فرزند محمد شاہ مقیم کے نام سے معروف ہے اور یہ قادری سلسلے کی ایک اہم لڑی ہے۔ گیلانی سادات کے متعدد بزرگ پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، جن کے مزارات مرجع خلائق ہیں۔ اس کے علاوہ اس خانوادے میں بہت سی سیاسی و علمی شخصیات نے بھی جنم لیا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا تعلق بھی اسی نسل سے ہے۔
خبر کا کوڈ : 795385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب