0
Monday 20 May 2019 19:28

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
تحریر: ظہیر عباس جٹ

اسم مبارک حسن علیہ السلام، کنیت ابوالحسن، القاب مجتبیٰ، سید، سبط اکبر۔ والد بزرگوار امیرالمومنین علی علیہ السلام، والدہ ماجدہ جناب فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا۔
 ولادت 15 رمضان کی شب 3 ہجری، مدت امامت دس سال 40 سے 50 هجری تک۔ عمر مبارک47 سال، تاریخ شہادت 28 صفر 50 هجری۔ قبر مطهر جنت البقیع مدینہ منورہ۔
ولادت
15 رمضان المبارک 3 ہجری کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کی ولادت ہوئی۔1 پیغمبر اسلام نومولود کی مبارکباد پیش کرنے حضرت علی علیہ السلام کے گھر تشریف لے گئے اور خدا کے حکم سے نواسے کا نام حسن رکھا۔2
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ جناب حسن مجتبیٰ علیہ السلام
اس نواسے نے زندگی کے ابتدائی سات سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارے، نانا اپنے نواسے کو بے حد چاہتے تھے، اکثر اپنے کاندھے پر بٹھاتے اور فرماتے تھے، خدایا میں اس کو چاہتا ہوں تو بھی اس کو دوست رکھ۔3 جو شخص حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو دوست رکھے گا، وہ مجھے دوست رکھتا ہے اور جو شخص ان سے کینہ رکھے یا ان سے دشمنی کرے، وہ مجھ سے دشمنی رکھتا ہے۔4

حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جوانان بہشت کے سردار ہیں۔5
 جناب پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، یہ دونوں میرے فرزند امام ہیں، قیام کریں، خاموش رہیں، امام علیہ السلام کی بزرگی اور روحانی عظمت پیغمبر اسلام کی نگاہوں میں اس قدر تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کم سنی کے باوجود عہد ناموں پر گواہ قرار دیتے تھے۔ واقدی کا بیان ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جو معاہدہ فرمایا، اس کو خالد بن سعید نے تحریر کیا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اس پر گواہ ہوئے۔6 جس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے حکم سے اہل نجران سے مباہلہ کے لیے نکلے، امام حسن و امام حسین علیہ السلام ،حضرت علی علیہ السلام ،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو خدا کے حکم سے اپنے ہمراہ لیا اور انہیں مقدس ہستیوں کی طہارت کا قصیدہ پڑھتے ہوئے آیت تطہیر نازل ہوئی۔7

امام حسن علیہ السلام امیرالمومنین علیہ السلام کیساتھ
امام حسن علیہ السلام قدم بہ قدم اپنے والد کے ساتھ تھے، ظالموں پر تنقید کرتے تھے اور مظلوموں کی حمایت کرتے تھے، جس وقت جناب ابوذر کو ربذه کی طرف شہر بدر کیا گیا، ثالث کا یہ حکم تھا کہ کوئی بھی رخصت کرنے نہ نکلے، لیکن امام حسن علیہ السلام اور آپکے برادر محترم نے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ شہید آزادی کو بہت ہی خلوص و محبت کے ساتھ خدا حافظ کہاں۔ رخصت کرتے وقت ثالث کی حکومت سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور جناب ابوذر کو صبر و ثابت قدمی کی تلقین کی۔8 36 ہجری میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ مدینہ سے بصرہ گئے، تاکہ جنگ جمل کی اس آگ کو خاموش کرسکیں، جس کو طلحہ اور زبیر نے شعلہ ور کر رکھا تھا۔ بصرہ پہنچنے سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کے حکم سے عظیم صحابی عمار یاسر کے ساتھ کوفہ تشریف لے گئے، تاکہ کوفہ والوں کو امام کی نصرت کی دعوت دیں، چنانچہ کوفہ والوں کو اپنے ساتھ لے کر امام وقت کی نصرت کے لئے بصرہ پہنچ گئے۔ اپنی بصیرت افزوز تقریر سے عبداللہ بن زبیر کی قلعلی کھول دی، ابن زبیر نے قتل ثالث کا ذمہ دار حضرت علی علیہ السلام کو ٹہرایا تھا، میدان جنگ میں کام انجام دیئے اور جنگ فتح کرکے واپس آئے۔9

امام علیہ السلام کا اخلاق
1۔ پرہیزگاری
ذات اقدس الہیٰ سے خاص لگاؤ تھا، جس کے اثرات وضو کرتے وقت چہرہ اقدس پر ظاہر ہو جاتے تھے، جس وقت وضو  فرماتے تھے، چہرے کا رنگ اڑ جاتا تھا، لرزنے لگتے تھے، لوگ سوال کرتے تھے کہ آپ کی حالت اس طرح کیوں ہو جاتی ہے۔ فرماتے تھے کہ جو شخص بارگاہ الہیٰ میں حاضری دیتا ہے، اسے یہی زیب دیتا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام حسن علیہ السلام اپنے وقت کے سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، سب سے زیادہ فضیلت ہے، جس وقت آپ موت اور قیامت کو یاد فرماتے تھے، روتے روتے بے ہوش ہوجاتے تھے۔10 آپ علیہ السلام نے پیدل اور برہنہ پا 25 حج کئے۔11

2۔ سخاوت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
جس وقت خانہ خدا کی زیارت کو گئے تھے، اس وقت ایک شخص بارگاہ خدا میں دعا کر رہا تھا کہ مجھے 10،000 درهم عطا فرما، امام حسن علیہ السلام اسی وقت گھر تشریف لائے اور وہ رقم اس کو بھجوا دی۔ ایک دن آپکی ایک کنیز نے گلدستہ آپ کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا، امام علیہ السلام نے گلدستہ کے صلہ میں اس کو آزاد کر دیا۔ جب لوگوں نے آپ سے اس عمل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ خداوند عالم نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ جب کوئی تمہیں تحفہ دے تو تم اس تو تم اس سے بہتر اس کا جواب دو. آپ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں تین مرتبہ اپنی تمام دولت یہاں تک کہ نعلین کا بھی نصف حصہ راہ خدا میں دے دیا۔12

3۔ بردباری امام علیہ السلام
امیر شام کے کہنے پر ایک شامی امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور نازیبا کلمات استعمال کرنے لگا، اس وقت امام علیہ السلام خاموش ہوگئے تو جب وہ نازیبا الفاظ بکتا بکتا تھک چکا تو امام علیہ السلام نے مسکرا کر اسے سلام کیا اور کہا تو مجھے غریب الوطن لگتا ہے، شاید تجھے اشتباہ ہوا ہے، اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں تمہیں دوں گا، اگر راستہ بھول گئے ہو تو میں راستہ بتاؤں گا، اگر مقروض ہو تو تمہارا قرض میں ادا کروں گا، اگر بھوکے ہو تو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا، اگر کوئی ضرورت ہے تو میں پوری کروں گا، جب شامی نے امام علیہ السلام کا یہ رویہ دیکها تو بہت شرمندہ ہوا اور وہ رونے لگا اور کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے نمائندے ہیں، خدا بہتر جانتا ہے کہ اسے رسالت کس کے سپرد کرنی ہے۔ آج سے پہلے آپ اور آپ کے والد سے برا میری نظروں میں کوئی اور نہ تھا، لیکن آج سے آپ لوگوں سے میری نگاہوں میں اور کوئی بہتر نہیں ہے، آپ ہی بہتر ہیں۔13 اس روز شامی امام علیہ السلام کا مہمان ہوا اور وہاں سے کھانا کھانے کے بعد امام علیہ السلام نے کچھ درہم اس شامی کو دیئے تو امام علیہ السلام کے اوپر جان قربان کرنے کے لئے آمادہ تھا، وہاں سے رخصت ہوا۔14

خلافت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
21 رمضان 40 ہجری کی شام امام علی علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی، دوسرے دن صبح کو شہر کے تمام لوگ جامع مسجد میں جمع ہوئے، امام حسن علیہ السلام ممبر پر تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا کہ کل رات کائنات کی اس شخصیت کی شہادت ہوئی، جو گذشتہ زمانوں میں یکتائے روزگار تھا اور آئندہ بھی منفرد رہے گا۔ جس کا علم اور کردار بے مثال تھا، پیغمبر اسلام کے شانہ بشانہ زحمت برداشت کرتے رہے اور کوششیں کرتے رہے۔ پیغمبر اسلام انہیں جنگوں میں سپہ سالار مقرر فرماتے تھے اور وہ ہمیشہ جنگ فتح کرکے واپس ہوتے تھے۔ انہوں نے دنیا کی سفیدی اور زردی سونا چاندی میں صرف 700 درہم چھوڑے ہیں، وہ بھی اس لیے کہ وہ اس رقم سے گھر کے کام کاج کے لیے ایک کنیز خریدنا چاہتے تھے، اس وقت امام حسن علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور لوگ بھی رونے لگے۔ اس کے بعد وقت گزرتا رہا تو لوگ امام علیہ السلام کی بیعت کرتے ریے۔ جب امیر شام کو خبر پہنچی تو اس نے کوفہ اور بصرہ میں اپنے جاسوس مقرر کیے، تاکہ تمام باتیں امیر شام تک پہنچ جائیں اور امام کی حکومت میں داخلی فساد برپا ہو۔

 امام علیہ السلام کے حکم سے کچھ جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا۔ امام علیہ السلام نے امیر شام کے نام خط لکھا، تم جاسوس بھیج رہے ہو، معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں جنگ بہت پسند ہے، جنگ بہت نزدیک ہے منتظر رہو، انشاءاللہ۔15 امیر شام نے روسائے قبائل کے تمام خطوط امام حسن علیہ السلام کے پاس بھیجے اور صلح کی پیشکش کی اور یہ وعدہ کیا کہ آپ جو بھی شرائط پیش کریں گے، ہمیں سب منظور ہیں۔16 اس وقت امام سخت مریض تھے، امام کے اصحاب بھی پراکندہ ہوچکے تھے۔ سب ایک دوسرے کے ہم خیال نہ تھے، ہر ایک الگ الگ راگ الاپ رہا تھا، ایسی صورت میں جنگ جاری رکھنا اسلام کے حق میں نہ تھا اور نہ شیعوں کے حق میں۔ اگر اس جنگ میں امیر شام کامیاب ہو جاتا تو اسلام کا سارا شیرازہ منتشر ہو جاتا اور اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو جاتیں، شیعوں کا وہ قتل عام ہوتا کہ ایک نفس بھی باقی نہ بچتا، اس بنا پر امام حسن علیہ السلام نے متعدد اور کافی سخت شرائط کے ساتھ صلح کی پیشکش قبول فرمائی۔17

ان شرائط میں بعض کا مفہوم یہ ہے
1۔ شیعوں کے خون کا احترام اور اس کی حفاظت کی جائے، ایک دوسرے کے حقوق پامال نہ ہوں۔
2۔ حضرت علی علیہ السلام کو گالیاں نہ دی جائیں۔18
3۔ دراب گرد سے درآمد کی جو آمدنی ہے، اس میں 10 لاکھ درہم جنگ جمل اور صفین 4۔ میں جو لوگ یتیم ہوئے ہیں، امیر شام ان میں تقسیم کرے گا۔19
5۔ امام علیہ السلام امیر شام کو امیرالمومنین نہیں کہیں گے۔19
6۔ امیر شام کتاب خدا اور سنت رسول پر عمل کرے گا۔20
7۔ امیر شام اپنے بعد کسی کو خلافت کا عہدہ سپرد نہیں کرے گا۔21
8۔ امیر شام نے ان تمام شرائط کو جو اسلام اور شیعوں کے تحفظ کے لیے ضروری تھی، قبول کر لیا اور اس طرح یہ جنگ ختم ہوئی۔

امیر شان کی عہد شکنی
جب امیر شام کا تسلط باقاعدہ قائم ہوگیا، اس وقت امیر شام نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا اور اس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا، چنانچہ نخلیه میں تقریر کرتے ہوئے اس نے کہا، خدا کی قسم میں نے تم سے اس لیے جنگ نہیں کی کہ تم نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، میں نے صرف تم پر حکومت کرنے کی خاطر جنگ کی ہے اور وہ مجھے حاصل ہوگئی ہے۔ اس وقت میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ تمام شرطیں جو حسن ابن علی علیہ السلام نے صلح نامہ میں رکھی ہیں، سب میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔22امیر شام کبھی کبھی امام حسن علیہ السلام کی شخصیت کے نفوذ سے متاثر ہو کر عمل کرتا تھا، جیسا کہ ابن الحدید کا بیان ہے کہ کوفہ کا حاکم زیاد امام حسن علیہ السلام کے ایک صحابی کی تلاش میں تھا، امام علیہ السلام نے اس کو پیغام بھیجا کہ ہم نے اپنے دوستوں کے لئے امان حاصل کر رکھی ہے، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ میرے ایک دوست کا تعاقب کر رے ہو، ایسا نہ کرو۔ زیاد نے کوئی توجہ نہیں دی اور اس کی تلاش کرتا رہا اور اس نے کہا اگر آپ کے درمیان جہاں بھی ہوگا، میں نہیں چھوڑوں گا۔ امام علیہ السلام نے زیاد کا جواب بعینہ ہی امیر شام کے پاس بھیجا۔ امیر شام نے زیاد کی سرزنش کی اور کہا کہ امام کے دوستوں کو پریشان نہ کرو، میں نے تم کو اس طرح کے اختیارات نہیں دیئے۔23
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع
1۔ ارشاد المفید صفحہ 129
2۔ بحار الانوار جلد 43 صفحہ 238
3۔ بحار الانوار جلد 43 صفحہ 264
4۔ دلائل الامامہ. محمد بن جریر الطہری صفحہ 60
5۔ تاریخ خلفاء صفحہ 179
6۔ ارشاد مفید صفحہ 181 6طبقات کبیر جلد 2 صفحہ 33
7۔ غایۃ المرام صحفه 782
8۔ حیات امام الحسن بن علی علیہ السلام صفحہ 260 261
9۔ طبقات کبیر جلد 3 جز اول صفحہ 20، حیاۃ الامام الحسن بن علی علیہ السلام جلد اول صفحہ 398
10۔ بحار الانوار جلد 43 صفحہ 331
11۔ بحارالانوار جلد 39 صفحہ 331 تاریخ الخلفا صفحہ 190
12۔ بحارالانوار جلد 39 صفحہ 344 تاریخ خلفا صفحہ 190
13۔ بحار الانوار جلد 44 صفحہ 344
14۔ بحار الانوار جلد 43 صفحہ
15۔ ارشاد مفید صفحہ 170
16۔ ارشاد مفید صفحہ 173
17۔ تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 207
18۔ بحارالانوار جلد 44 صفحہ 62
19۔ ارشاد مفید صفحه 173 مقاتل طالبین صفحه26
20۔ بحارالانوار جلد 44 صفحہ 65
21۔ بحارالانوار جلد 44 صفحہ 65
22۔ بحار الانوار جلد 44 صفحہ 49
خبر کا کوڈ : 795387
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے