0
Tuesday 21 May 2019 08:09

ایرانو فوبیا کے بعد عراقو فوبیا

ایرانو فوبیا کے بعد عراقو فوبیا
اداریہ
امریکہ گذشتہ چار عشروں سے عالمی سیاست میں مسلسل ناکامیاں سمیٹ رہا ہے۔ افغانستان پر حملہ، اس کے بعد عراق پر جارحیت اور اب شام، لبنان، یمن سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں امریکہ کے خلاف نفرت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا زوال شروع ہوگیا تھا، امریکہ نے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے ہمیشہ الجھا کر مکھی پر مکھی ماری ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعہ کے بہانے حملہ کیا اور صدر امریکہ کے بقول کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان امریکہ کے لیے دلدل کے علاوہ کچھ نہیں۔ عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے سات کھرب ڈالر اور تین ہزار امریکی فوجی عراق میں ضائع کر دیئے گئے، نتیجہ یہ سامنے آیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ رات کے اندھیرے میں چھپ کر عراق کے ایک امریکی بیس پر آئے اور کسی عراقی لیڈر نے ان سے ملنا بھی گوارا نہیں کیا۔

امریکہ کے حوالے سے عراق میں صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، اسمبلی میں کسی بھی وقت امریکی افواج کے عراق سے فوری انخلا کا بل سامنے آسکتا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ عراقی قیادت اور عوام امریکہ کو زیادہ دیر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، لہذا امریکہ نے حکومت مخالف علاقوں میں وسیع پیمانے پر ہتھیار تقسیم کرکے قبائلیوں کو مسلح کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف داعش فکر کے افراد کو بھی منظم کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز حشد الشعبی کی بس پر دہشت گردانہ حملہ اور امریکی سفارتخانے پر میزائل حملہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ امریکہ نے عراق سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے اور مجبوری میں رہنے والوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی ہے۔ اسی طرح امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق سے اپنے کچھ فوجیوں اور کارکنوں کو واپس بلا رہا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد جرمنی کی وزارت دفاع نے بھی عراق میں کچھ مدت کے لئے اپنی سرگرمیاں روک لی ہیں۔

امریکہ کی طرف سے یہ تمام اقدامات عراقو فوبیا کے ثبوت ہیں۔ عراق نے جب سے امریکی ڈکٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران سے اپنے تعلقات استوار کرنے پر تاکید کی ہے، امریکہ نے عراق کے خلاف عراقو فوبیا کی چنگاری چھوڑ دی ہے۔ عراق اور ایران کے درمیان تجارتی تبادلہ بارہ ارب ڈالر ہے، جو دونوں ملکوں کے تعاون سے 2020ء تک 20 ارب ڈالر تک پہنچے گا، یہ وہ بات ہے جو امریکہ سے ہضم نہیں ہو رہی۔ ایرانو فوبیا کے بعد عراقو فوبیا کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ عراق اس وقت استقامتی و مزاحمتی بلاک کا حصہ ہے اور امریکہ عراق کو اس بلاک سے نکالنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔ عراقی قیادت نے اگر ایرانی قیادت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا تو عراقی قیادت و عوام خطے میں ایک مضبوط قوت بن کر سامنے آئے گی اور عراق کی آزادی و خود مختاری کا سفر صحیح سمت کی طرف جاری و ساری رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 795407
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے