0
Wednesday 22 May 2019 08:39

آگے کنواں پیچھے کھائی

آگے کنواں پیچھے کھائی
اداریہ
عالمی سیاست کے بدلتے رنگ دیکھ کر گرگٹ یاد آجاتا ہے، کہیں چھڑی اور گاجر کی سیاست چل رہی ہے اور کہیں لڑائو اور تقسیم کرو کی سامراجی پالیسی جاری ہے۔ عالمی سامراج نے خطے میں جو بساط بچھائی ہے، اس میں حلیف اور حریف کبھی سامنے آتے ہیں، کبھی چھپ جاتے ہیں۔ بقول شاعر "صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں" پیٹرو ڈالر کے نشے میں دھت آل سعود خاندان بن سلمان کی قیادت میں پہلی بار کھل کر اپنے موقف کا اظہار کر رہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کے پہلے بیرونی دورے اور ریاض میں شمشیروں کے رقص کے بعد ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر نے بن سلمان کو اپنے مکمل حصار میں لے رکھا ہے۔ ٹرامپ آل سعود کو دودھ دینے والی گائے تک کہتا ہے، لیکن آل سعود اس ہرزہ سرائی پر مکمل خاموشی کی چادر لپیٹ کر ذلت آمیز خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ امریکہ نے جب سے طیارہ بردار جنگی بیڑا "ابراہم لنکن" خلیج فارس میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے، بن سلمان اور بن زائد کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسی لیے بن سلمان، بن زائد اور بنیامین نیتن یاہو کو امریکہ کی بی ٹیم قرار دیا ہے۔ اس شیطانی مثلت میں چوتھا نام امریکہ کی قومی سلامتی کا مشیر بولٹن بھی شامل ہے۔ جواد ظریف کے بقول ان سب کے نام بی سے شروع ہوتے ہیں اور یہ بی ٹیم ایران پر امریکی حملے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ امریکہ کی اس بی ٹیم کی دیرینہ خواہش کے باوجود امریکہ ہر آئے دن تنہا سے تنہا تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل، یورپی یونین سمیت کسی بھی عالمی ادارے کی طرف سے ڈونالڈ ٹرامپ کو ایران پر حملے کے حوالے سے حمایت حاصل نہیں۔ گذشتہ روز روس، جرمنی اور فرانس کے سربراہان نے ٹیلی فونگ گفتگو میں ایران سے اقتصادی تعاون اور ایٹمی معاہدے کو جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔

ان تین ممالک کی طرف سے ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے اعلان کے بعد بی ٹیم کے تمام افراد بالخصوص بن سلمان کی تشویشوں میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو جمال خاشقچی کا قتل، سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی اور بالخصوص یمن پر جاری سعودی جارحیت کا معاملہ ایک بار پھر عالمی میڈیا اور عالمی رائے کی زبان پر جاری ہو جائے گا۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکہ سعودی عرب کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ او آئی سی اور خلیج فارس تعاون کونسل کو امریکہ کی سیاسی تنہائی کے خاتمے کے لیے استعمال کرے۔ ادھر بن سلمان انگڑائی لے کر اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ انہیں یمن، انسانی حقوق اور جمال خاشقچی جیسے مسائل سے نکالنے میں مدد کرے۔ خطے کے حالات امریکہ اور آل سعود کو ایسے مقام پر لے آئے ہیں جہاں "آگے کنواں پیچھے کھائی" ہے۔
خبر کا کوڈ : 795626
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب