0
Wednesday 22 May 2019 12:28

بیانات سے پہلے سوچا کیجئے

بیانات سے پہلے سوچا کیجئے
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ہاتھی بہت غصے میں تھا، وہ دوڑ دوڑ کر پہاڑوں کو ٹکریں مار رہا تھا، درختوں کو اکھاڑ کر پھینک رہا تھا، آسمان کی طرف منہ کرکے چیخ رہا تھا، غیض و غضب کے عالم میں مٹی پر اپنی سونڈ کو رگڑ رہا تھا، شیر نے ہاتھی کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا کہ ہاتھی میاں اتنا غصہ کیوں!؟ ہاتھی نے کہا کہ مجھے چوہے کے بِل کی تلاش ہے۔ شیر نے پوچھا کہ چوہے نے ایسا کیا کیا ہے؟ ہاتھی نے کہا کہ دو دن سے میری بیوی غائب ہے اور آج مجھے پتہ چلا ہے کہ چوہا اسے اغوا کرکے اپنے بِل میں لے گیا ہے۔ لہذا مجھے چوہے کے بِل کو ڈھونڈنا ہے۔ یہ سنتے ہی شیر نے کہا! ہاتھی میاں ٹھیک ہے تمہیں یہ اطلاع دی گئی ہے اور تمہارے پاس ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں، لیکن اتنا تو تم بھی سوچو کہ چوہے کے بِل میں تمہاری بیوی داخل بھی ہوسکتی ہے یا نہیں!

کچھ ایسے ہی ہاتھی ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، سانحہ ساہیوال سے لے کر کیکڑا ون کی سترہ مرتبہ ناکام ڈرلنگ تک اور مسنگ پرسنز کی کارروائیوں سے لے کر سانحہ اوماڑہ پر شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس تک سب کچھ غلط معلومات کے پیشِ نظر ہو رہا ہے۔ ان غلط معلومات کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں، لوگ ریاستی ادارں سے محبت اور ان پر اعتماد کرنے کے بجائے ان سے خوفزدہ ہیں، غلط معلومات کی بنیاد پر ملک و قوم کا بھاری نقصان ہو رہا ہے، صرف کیکڑا ون میں 4 کمپنیوں نے مشترکہ طور پر کھدائی کا کام شروع کیا، جس پر 14 ارب روپے خرچ ہوئے، 5 ہزار میٹر کھدائی کے باوجود تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہوسکے۔ یہ وہی کیکڑا ون ہے جس کے بارے میں وزیراعظم نے 25 مارچ 2019ء کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ تین ہفتوں میں قوم کو  بڑی خوش خبری سنائوں گا۔ اب مسنگ پرسنز ہوں، سانحہ ساہیوال ہو، شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس ہو یا کیکڑا ون کا پراجیکٹ، غلط اطلاعات فراہم کرنے والوں کے خلاف شکایت یا قانونی  کارروائی کا کوئی امکان ہی نہیں۔

تازہ صورتحال یہ ہے کہ ہے کہ ایک طرف بے روزگاری حد سے بڑھ گئی ہے اور دوسری طرف ٹیکسز میں ہوشربا اضافہ، بیرونی قرضے اپنے عروج پر، ڈالر، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایسے میں ہمارے حکمران صبح اٹھتے ہیں اور بیان داغ دیتے ہیں کہ ہم امریکہ و ایران کی جنگ میں غیر جانبدار رہیں گے۔ انہیں اتنی بھی معلومات نہیں کہ امریکہ ان کی چاپلوسیوں سے خوش نہیں ہوتا، اس کے آگے جتنی مرضی ہے دم ہلائیں، ٹرمپ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر بھنگڑے ڈالیں اور رقص کریں اور یا اسے سجدے کریں، ان چیزوں سے امریکہ کا دل نہیں بہلایا جاسکتا، امریکہ کے تھنک ٹینکس موجود ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے جانبدار یا غیر جانبدار ہونے سے کیا فرق پڑنے والا ہے۔

باقی جہاں تک رہی بات امریکہ کی ایران پر حملے کی تو ایران کے تھنک ٹینکس کا بھی دنیا میں لوہا مانا جاتا ہے۔ امریکہ مسلسل افغانستان، شام اور عراق میں ذلت آمیز پسپائی کے بعد نیز تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل کی زبردست پٹائی کا تجربہ کرنے کے بعد اور آئے روز حوثیوں کے میزائل حملوں کی گھن گرج سنتے ہوئے، ایران پر حملہ کرکے اپنی رہی سہی ساکھ کو بھی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے ایران کے خلاف جو جنگ لڑنی ہے، وہ عسکری نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔ جسے امریکہ اچھی طرح ایران کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اگر آج ایران کی حکومت سعودی عرب کی طرح اپنے تیل کے ذخائر کا منہ امریکہ کے لئے کھول دے تو ایران کا شیعہ، کافر، رافضی اور کالا انقلاب پاکستان سے لے کر سعودی عرب اور امریکہ تک کسی کو نہیں چبھے گا۔

غیر جانبداری کا نعرہ لگانے والوں کے پاس اتنی سوچ بھی نہیں کہ وہ خود امریکہ و یورپ کی اقتصادی یلغار کے شکار ہیں۔ سی پیک سے یورپ اور امریکہ کی عالمی تجارتی منڈی کو جو خطرات لاحق تھے، ان کے پیشِ نظر پاکستان پر تاریخ کا بدترین اقتصادی حملہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے تھنک ٹینکس اور ماہرین اقتصاد کو ایک طرف تو یہ جائزہ لینا چاہیئے کہ آج سی پیک کے نام پر ہم پاکستان کے سینے پر جو لکیر کھینچ رہے ہیں، کیا مستقبل میں چین کو اس لکیر تک محدود رکھ سکیں گے اور دوسری طرف یہ دیکھنا چاہیئے کہ آج ہمارے تجارتی بازاروں میں کپڑے سینے والی مشین کی ایک روپے کی سوئی سے لے کر کروڑوں روپے کی مشینری تک جو کچھ بھی ہے، اس پر میڈ ان چائینہ، میڈ ان کوریا، میڈ ان جاپان، میڈ ان یو ایس اے۔۔۔ لکھا ہوتا ہے۔ ہم میڈ ان پاکستان کی پیداوار، کوالٹی یعنی معیار اور مصرف، تینوں چیزوں میں بہت پیچھے ہیں۔

ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں ہمارے خلاف اقتصادی محاذ پر ایک بڑی جنگ تیزی سے جاری ہے۔ ہمارے اکنامک اداروں کو ملکی پیداوار بڑھانے، عوام میں صرف اور صرف پاکستانی مصنوعات استعمال کرنے اور ڈالر کے بائیکاٹ کو یقینی بنانے کے لئے فوری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی ایران کے تیل کو دیکھ کر جیسے رال ٹپک رہی ہے، ویسے ہی پاکستان کا سی پیک بھی اسے للچا رہا ہے۔ چنانچہ وہ جیسے ایران پر اقتصادی شکنجہ کسے ہوئے ہے، ویسے ہی پاکستان کی انڈسٹری اور تجارت سے آخری قطرہ تک نچوڑ نے کے لئے زور لگائے ہوئے ہے۔ ہم اس اقتصادی دباو اور جنگ کے مقابلے کے بجائے ٹیکسز بڑھا کر، مہنگائی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ کرکے اپنی ہی قوم کی کمر پر مزید بوجھ لادے جا رہے ہیں۔ سابقہ غلطیوں پر نظرثانی اور ان کے ازالے کے بجائے، ہر روز الٹی سیدھی پریس کانفرنسیں ہو رہی ہیں اور بیانات داغے جا رہے ہیں، لیکن کیا کوئی ہے، جو ہمارے ملک میں ان جھنجلائے ہوئے ہاتھیوں سے یہ کہے کہ تم کدھر دوڑے جا رہے ہو، تمہاری اطلاعات اور شواہد سب کچھ سر آنکھوں پر، لیکن پہلے یہ تو سوچو کہ چوہے کے بِل میں ہتھنی داخل بھی ہوسکتی ہے!؟
خبر کا کوڈ : 795759
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب