0
Thursday 23 May 2019 09:17

جواد ظریف اسلام آباد میں

جواد ظریف اسلام آباد میں
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پاکستان کے دورے پا جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس دو روزہ دورے میں پاکستان کے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور اعلٰی سول و عسکری حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے موصولہ رپورٹس کے مطابق دورے کے دوران پاک ایران تعلقات، ایران امریکہ کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال نیز عمران خان کے دورہ ایران کے موقع پر انجام پانے والے سمجھوتوں اور ان پر عملدرآمد کا فالو اپ زیر بحث آئے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ ایسے عالم میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے ناعاقبت اندیش علاقائی اتحادیوں نے خلیج فارس کے اندر سلامتی کی صورتحال کو کشیدہ بنا رکھا ہے۔ امریکہ نے "ابراہم لنکن" نامی جنگی بیڑا خلیج فارس کی طرف روانہ کر دیا ہے اور امریکی اتحادی سعودی عرب نے امریکہ کو سیاسی تنہائی سے نکالنے کے لئے 30 مئی کو خلیج فارس تعاون کونسل اور او آئی سی کا اجلاس بلا لیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ڈرا دھمکا کر ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں، تاکہ ڈونلڈ ٹرامپ کی انا کو تسکین پہنچ سکے اور وہ آنے والی امریکی انتخابات میں اپنی اس کامیابی کو سینہ پھیلا کر امریکی عوام اور صہیونی لابی کے سامنے پیش کرسکے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگی ماحول کے ساتھ ساتھ سفارتی جنگ بھی اپنے پورے عروج پر ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پمپیئو یکے بعد دیگرے عرب ممالک کا دروہ کر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ کا دورہ عراق اور عراق سے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا تہران آنے کا عندیہ اسی سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان سے پہلے ایران کے تین بڑے خریداروں ہندوستان، جاپان اور چین کا دورہ کیا ہے اور تیل کی ایکسپورٹ کو جاری رکھنے پر ان ممالک سے کامیاب مذاکرت کئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا دورہ پاکستان بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ سعودی عرب پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جب بھی حالات بہتر ہونے لگتے ہیں، سعودی عرب پاکستان کو تیل یا پیٹرو ڈالر کا دانہ ڈال دیتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ابھی پاکستان جانے کا اعلان ہی کیا تھا کہ سعودی عرب نے کافی عرصے سے رکے تیل کے معاملے کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ سعودی عرب تین سال تک پاکستان کو ہر سال تین ارب بیس کروڑ ڈالر کا تیل ادھار دے گا۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت نے پاکستان کے لئے تین سال کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیاں بھی موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اس وقت سخت ترین اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کے ایران سے تعلقات میں مسلسل رخنے ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کا دفتر خارجہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسیاں بنانے والے حقیقی کرداروں کے لئے سخت امتحان کا وقت ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ ناقابل اعتماد ہے اور سعودی عرب پاکستان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اب دیکھیئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورے کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 795881
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے