0
Thursday 23 May 2019 15:37

دنیا کو جنگ کی طرف ہانکنے والا صدر

دنیا کو جنگ کی طرف ہانکنے والا صدر
تحریر: طاہر یاسین طاہر

جنگیں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتیں، ہزاروں چلتے پھرتے سانس لیتے انسان آن کی آن میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ جنگ کا دوسرا نام ہی تباہی اور انسانی جانوں کا قتل ہے۔ قدیم و جدید عہد کی جنگوں کے طریقہ ہائے کار میں فرق ضرور آیا ہے لیکن بنیادی مقاصد آج بھی وہی ہیں۔ طاقت کا اظہار، کمزور ممالک یا ریاستوں کے وسائل پر قبضے کی دوڑ۔ "کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بنام وطن۔" اس کے سوا جنگوں کا مرکزی نقطہ کچھ نہیں۔ استثنیٰ موجود ہوں گے، شاید۔ جب مکہ والے نئے مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے تھے اور اسلام قبول کرنے والے کمزور طبقات پر ظلم کے پہاڑ توڑتے تھے، یہاں تک کہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم آن پہنچا۔ پھر وہی مکہ والے جو نبی اکرم ﷺ کے خون کے پیاسے تھے، فتح مکہ کے دن تھر تھر کانپ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گردنیں جھکائی ہوئی تھیں۔

یہ مگر تاریخ کا ایک منفرد اور سبق آموز عہد تھا۔ اس عہد سے پہلے اور بعد میں، قوت و ملوکیت کے اظہار کے لیے انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنایا گیا۔ یہ کھیل آج تک جاری ہے۔ طاقت کے اپنے اظہاریے ہوتے ہیں۔ معاشی طاقت ہی عسکری طاقت کی بنیادی ہوتی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے؟ اور دنیا کے ہر کونے میں اس کے مفادات اور اس کے غیر اعلانیہ "سفیر" شہنشاہ و بادشاہ موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم بڑی جارحیت سے چلائی تھی۔ ٹرمپ کی طبیعت میں ہیجان ہے، مجھے حیرت ہے کہ امریکہ جیسے ملک کا صدر غیر مستقل مزاج اور جذباتیت کا خطرناک امتزاج ہے۔ یہی بات پوری دنیا اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے لیے حیرت اور خطرے کا باعث ہے۔

مودی کی طرح ٹرمپ بھی دوسری ٹرم کے انتخابات کے لیے اپنی قوم کی توجہ اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے، اس مقصد کے لیے ٹرمپ نے روایتی پروپیگنڈہ وار کا سہارا لیا۔ جدید دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اور یہ باور کرانے میں لگا ہوا ہے کہ ایران امریکہ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے سے امریکہ پہلے ہی یکطرفہ طور پر دستبردار ہو کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرچکا ہے۔ جواب میں ایران نے بھی اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور گارنٹی ممالک جیسے فرانس، جرمنی، چین اور روس کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا۔ لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے بننے والی نئی صورتحال نئے خطرات کا پتہ دیتی ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ دنوں کہا کہ گیند ایران کے کورٹ میں ہے، وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرلے، جبکہ امریکی صدر نے اپنے مخصوص لہجے میں دھمکی دی ہے کہ "ایران باز آجائے یا پھر خاتمے کیلئے تیار رہے۔" یاد رہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے گرد معاشی شکنجہ کسنے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بیان جاری کیا تھا  کہ "ملک ایسے سخت دباؤ کا شکار ہے، جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق" امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ  2015ء میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے برقرار رہنے کے بارے میں خدشات ہیں۔

گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ اس کے ردعمل میں ایران نے اشارہ دیا کہ اگر معاہدے میں شامل دیگر فریق بھی امریکہ کے ساتھ ملے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر دے گا۔" بی بی سی ہی کی رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں سے ملک میں توانائی، شپنگ اور اقتصادی صنعت مشکلات کا شکار ہیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ ایران کو نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کرے، جس میں نہ صرف ملک کا جوہری پروگرام بلکہ بلیسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہو، کیونکہ امریکی حکام کے مطابق اس سے مشرق وسطیٰ کو خطرہ ہے۔ امریکہ اپنا پیٹرئٹ میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی بی52 بمبار بھی قطر کے ایک فضائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ ابراہام لنکن بحری بیڑہ بھی روانہ کیا جا چکا ہے۔

یہ سب نشانیان امن کی نہیں بلکہ جنگ کی ہیں اور اگر جنگ نہیں بھی ہوتی تو ان جارحانہ نشانیوں سے ایران کو دبائو میں لانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پروپیگنڈہ اور جھوٹی انٹیلجنس رپورٹ کے تحت عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ شام اور لیبیا کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں سعودی عرب سے خام تیل کی ترسیل والی بحری کشتیوں پر میزائل حملے ہوئے۔ ان حملوں کا الزام سعودی عرب اور امریکہ نے یک زبان ایران پر لگایا ہے۔ ایران نے پہلے کہا کہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، مگر جب اس حملے کا ذمہ دار مسلسل ایران کو قرار دیا جانے لگا تو ایران نے بھی ترکی بہ ترکی اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دے دیا ہے۔

یہ آشکار ہے کہ سعودی عرب سے خام تیل کی ترسیل والے بحری جہازوں یا کشتیوں پر مزید حملے ہوسکتے ہیں، یہ حملے کون کرے گا؟ طے شدہ بات ہے کہ ایران ایسا نہیں کرے گا، لیکن کیا اسرائیل بھی ایسا نہیں کرے گا؟ جس سے اسے فائدہ ملے؟ کیا امریکہ اپنے کسی مقدس اتحادی کے ذریعے اپنے بحری جہازروں پر دو چار میزائل فائر نہیں کرائے گا؟ تاکہ اس بات کو جواز بنا کر ایران پر حملہ کیا جائے؟ دفاعی تجزیہ کار اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی سیاسی و عسکری کروٹوں پر نظر رکھنے والے صحافی کسی بڑی جنگ کے امکان کو رد کرتے ہیں۔ میرا اپنا بھی یہی خیال ہے۔ مگر جنونی انسان اور طاقت کے اظہاریوں کی عادی امریکی قوم سے کچھ بھی بعید نہیں۔ اگر امریکہ ایران کی طرف دو چار میزائل فائر کرتا ہے تو ایران کا جوابی وار فوری طور پر تیل کی بڑی رسدگاہ آبنائے ہرمز ہوگا۔ اس کے بعد خطے میں امریکی تنصیبات اور مفادات ایرانی میزائلوں کا پہلا ہدف ہوں گے۔

ان اہداف میں اسرائیل کسی صورت بھی نہیں بچ پائے گا اور امریکہ کسی طور نہیں چاہے گا کہ ایرانی میزائل اسرائیل میں جا گریں۔ پھر امریکہ کو اتنی بڑی جنگی پریکٹس کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ جبکہ وہ افغانستان سے نکلنے کی بابت بھی چالیں چل رہا ہے؟ حالیہ دنوں میں امریکہ نے خطے میں اپنا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ 20 ہزار فوجیوں کو بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس سب کے باوجود کیسے مان لیا جائے کہ کوئی جنگ نہیں ہوگی؟ اگرچہ امریکی صدر جنگی ساز و سامان سے لیس بحری بیڑہ اور بیلسٹک میزائل روانہ کرچکا ہے، مگر ساتھ یہ بھی کہنا کہ امریکہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا، عجیب ذہنی بیجارگی اور دنیا کے عاقل افراد کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے۔

بے شک عرب ممالک بھی چاہتے ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ آور ہو اور اس کا انفرا اسٹرکچر تباہ کرے، لیکن امریکہ کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آجائے۔ اس حوالے سے امریکہ نے اپنے کچھ عرب دوستوں کو بھی متحرک کیا ہے، جن کے ایران سے تعلقات بہتر ہیں، مگر اب ایرانی صدر مذاکرات کے لیے تیار نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایرانی قوم کو ڈرا دھمکا کر مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے، جو کسی طور ممکن نہیں۔ آخری تجزیئے میں فوری طور پر امریکہ ایران جنگ کا امکان تو نہیں، مگر ایران امریکہ تنائو خطے میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم ایک نئے عمرانی معاہدے کو جنم دے گا۔ امریکہ نے اگر ایران پر میزائل فائر کیا تو ایران کا جوابی حملہ تیل کی سپلائی والے کنٹینر اور اسرائیل کی تنصیبات ہوں گی۔۔ جس کا امریکہ سمیت اس کا کوئی اتحادی بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

جنگیں امن کا راستہ کبھی بھی ہموار نہیں کرتیں، اس کے باوجود امریکی صدر کے مشیر انہیں ایک ایسی جنگ کی طرف آمادہ کر رہے ہیں، جس کے نتائج مشرق وسطیٰ ہی نہیں دنیا بھر کے لیے نہایت خطرناک اور انسانیت کش ہوں گے۔ کیا پورے امریکہ اور یورپ میں دس بیس افراد بھی ایسے نہیں جو عدل پسند ہوں اور امریکی عوام کو اپنے صدر اور صدر کے مشیروں کی نالائقیوں اور جنگی جنون سے عادلانہ تبصروں و تجزیات کے ذریعے آگاہ کریں؟ کیا امریکی بحری بیڑہ پہنچتے ہی امریکی جنگی جہاز ایران کی طرف اڑان بھرنا شروع کر دیں گے؟ کیا ایران کو، عمان و قطر امریکہ سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کر لیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا عالمی معاہدے کے ضامن ایران کے کسی کام آسکیں گے یا ہم خطے میں ایک نئی مگر خطرناک پراکسی کا سامنے کرنے والے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات اگلے دس سے پندرہ دن میں ملنا شروع ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 795887
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے