2
Friday 24 May 2019 18:06

تاجکستان کی جیلوں میں دوسری ہنگامہ آرائی، چند غور طلب نکات

تاجکستان کی جیلوں میں دوسری ہنگامہ آرائی، چند غور طلب نکات
تحریر: حسن بہشتی پور

چند دن پہلے تاجکستان کے وحدت جیل میں ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا جس میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد 32 تک بیان کی جاتی ہے۔ اس واقعہ میں معروف شیعہ رہنما آیت اللہ سید قیام الدین کو بھی انتہائی وحشیانہ انداز میں روزے کی حالت میں ذبح کر کے شہید کر دیا گیا۔ تاجکستان کی وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیانیے میں اس ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو قرار دیا گیا ہے۔ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ وحدت جیل میں ہنگامہ آرائی کا ماسٹر مائنڈ گل مراد حلیم اف تھا۔ یاد رہے گل مرار حلیم اف تاجکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف کا بیٹا ہے جو داعش میں وزیر جنگ کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس ہنگامہ آرائی کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں مزید معلومات سامنے آئیں گی لیکن گذشتہ چند برس کے دوران تاجکستان کے سیاسی حالات اور سابق سوویت یونین میں مشابہہ واقعات کی روشنی میں اس بارے میں چند غور طلب نکات بیان کئے جا سکتے ہیں۔
 
1)۔ گذشتہ 6 ماہ کے دوران تاجکستان میں رونما ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے جس میں جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران چند قیدی مشکوک انداز میں قتل کر دیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 8 نومبر 2018ء کے دن تاجکستان کے شہر "خجند" کے جیل نمبر 4 میں ایسا ہی ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس میں کم از کم 27 افراد قتل کر دیے گئے تھے جبکہ بعض ذرائع کے مطابق قتل ہونے والے افراد کی تعداد 47 تھی۔ حکومت نے اس وقت بھی اس ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار داعش کو ٹھہرایا تھا۔ البتہ حکومت کے اس دعوے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی۔
 
2)۔ دسمبر 2018ء میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اوف نے ملکی سطح پر جیلوں کے سربراہ عزت اللہ شریف زادہ کو برطرف کر کے ان کی جگہ جنرل منصور جان عمر اوف کو تعینات کر دیا جو تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب سربراہ بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ خجند جیل میں ہنگامہ آرائی اور جیلوں کی ابتر صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
 
3)۔ تاجکستان کی وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ بیانیے میں اس نکتے کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کے بقول داعش سے وابستہ باغی قیدیوں نے کن محرکات کے تحت تاجکستان کی اسلامی تحریک کے چند رہنماوں کو قتل کیا ہے؟ جبکہ اس سے پہلے تاجکستان کی حکومت اس موقف پر بضد تھی کہ تاجکستان اسلامی تحریک تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت اور اس کے ساتھ تعاون میں مصروف ہے اور یہ دونوں مسلح جدوجہد کے ذریعے تاجکستان کی حکومت سرنگون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اب وہ یہ وضاحت دینا بھول گئے ہیں کہ داعش سے وابستہ باغی قیدیوں نے تاجکستان اسلامی تحریک کے قید رہنماوں کو قتل کیوں کیا ہے؟
 
4)۔ شام اور عراق میں داعش کا فتنہ شروع ہونے کے بعد ایسی خبریں موصول ہو رہی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ تاجکستان کے سینکڑوں شہری روس، یورپی ممالک اور ترکی کے راستے شام جا کر داعش سے ملحق ہو رہے ہیں۔ شام اور عراق میں داعش کی نابودی کے بعد اس سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اپنے اپنے ملک واپس جانا شروع ہو گئے تھے۔ تاجکستان سے آنے والے تکفیری دہشت گردوں کی بڑی تعداد تاجکستان، افغانستان یا شہریت رکھنے والے یورپی ملک واپس لوٹ گئی تھی۔
 
5)۔ سابق سوویت یونین دور میں جیلوں میں قید حکومت مخالفین سیاسی رہنماوں کو راستے سے ہٹانے کا ایک رائج حربہ اس جیل میں ہنگامہ آرائی برپا کروا کر ان سیاسی رہنماوں کو مشکوک انداز میں قتل کروا دینا تھا۔ اگرچہ پورے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ تاجکستان کی موجودہ حکومت بھی اسی حربے کو بروئے کار لا رہی ہے لیکن دوسری طرف اس ہنگامہ آرائی میں داعش کے ملوث ہونے پر مبنی دعوے پر بھی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
 
6)۔ تاجکستان کے وحدت جیل میں حالیہ ہنگامہ آرائی کے دوران سابق وزیر تجارت زید سعید اوف بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زید سعید اوف کا شمار تاجکستان کے بڑے تاجروں میں ہوتا ہے جو انتہائی کامیاب بزنس مین ہیں۔ انہوں نے 2013ء میں "نیا تاجکستان" نامی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور 2015ء میں ان پر کرپشن اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کر کے طویل مدت تک جیل کی سزا سنا دی گئی تھی۔ اصولی طور پر داعش سے وابستہ باغی قیدیوں کو چاہئے تھا کہ زید سعید اوف کو بھی قتل کر دیتے لیکن انہوں نے اسے زندہ چھوڑ دیا کیونکہ موجودہ حالات میں سابق وزیر کا قتل امام علی رحمان اوف حکومت کے نقصان میں تھا۔ یہ امر اس واقعے کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 796072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے