0
Friday 24 May 2019 20:36

سید المسلمین، امام المتقین حضرت علی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت

سید المسلمین، امام المتقین حضرت علی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت
تحریر: ظہیر عباس جٹ
جامعۃ المصطفیٰ العالمیه  


امام علیہ السلام کا نشست و برخاست، انداز گفتگو ہر طرح سے مومنین کے لئے اسوه تھا۔ امام علیہ السلام کا طریقه تربیت انسان کی زندگی کو بدل دیتا تھا۔
امام علیہ السلام نے میدان جنگ میں بھی انسانی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ لوگوں کو شجاعت و جوانمردی کا درس دیا. امام کی زندگی میں بے شمار تربیتی نکات موجود تھے۔ امتیازات پر مسلسل اہل قلم نے لکھا اور لکھتے رہیں گے، ان میں سے بعض کا یہاں پر ذکر کیا جا رہا ہے۔
1۔ امام علیہ السلام نے اپنی حکومت کے پانچ سالہ دور میں تاریخ کو بتایا کہ عدل و انصاف کسے کہتے ہیں اور اسلامی حکومت کے اصلی خطوط کیا ہیں، الفاظ اور نعروں سے ہٹ کر عدل و انصاف کی حقیقی تصویر پیش کی۔
2۔ آپ کی حکومت علم و تقوٰی و پرہیزگاری اور فداکاری پر قائم تھی. قانون کے مطابق آپ کے فرزندان رشتہ دار اور دوسرے تمام افراد آپ کی نظر میں برابر تھے۔ امام علیہ السلام نے خود ارشاد فرمایا۔ "بیت المال سے جو مال لے گئے ہیں ان سے واپس لوں گا اگرچہ اس سے عورتوں کا مهر ہی کیوں نہ ادا کیا گیا ہو، یا اس سے کنیزیں خریدی گئی ہوں۔(1)

 3۔ اپنے افسروں کو برابر کی ہدایت فرماتے تھے کہ لوگوں کے ساتھ برابری اور نرمی سے پیش آنا، لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا ہرگز ناانصافی نہ کرنا۔
4۔ یہ باتیں انہیں انسانیت کے ناطے تعلیم دیتے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑتے تاکہ لوگوں کی مشکلات حل کرنا تمہارا انسانی فرض ہے تم افسر ہو یا نہیں ہو یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کرو۔
5۔ ان سے فرماتے کسی کو بات کرنے اور غرض مدعا کی رو سے ان کو روکو نہیں، ٹیکس حاصل کرنے کے لئے سواریاں یا دیگر سامان کو فروخت نہ کرنا، وصولیوں کے لئے کسی کو نہ مارنا۔
6۔ زکوۃ وصول کرنے والوں سے فرمایا، ادب و احترام کے ساتھ لوگوں کے پاس جاؤ پہلے ان کو سلام کرو پھر یوں کہو کہ اے بندگان خدا، ہمیں خدا کے ولی اور خلیفہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ وہ حق حاصل کریں جو خدا نے تمہارے اموال میں قرار دیا ہے۔ کیا تمہارے اموال میں خدا کا کوئی حق ہے تاکہ اس کے ولی کو ادا کرو۔ اگر انہوں نے نہیں کہا تو واپس چلے آؤ اور اگر کہا ہاں تو جس قدر وه دیں، ان سے لے لو اگر دینے کے بعد واپس لینا چاہیں تو انہیں واپس کر دو۔
7۔ فرمایا کرتے تھے جن زمینوں کا ٹیکس حاصل کر رہے ہو ان کی آبادی اور خوشحالی کی کوشش کرو، اگر ٹیکس حاصل کر لیا اور اسے خوش حال اور آباد نہیں کیا تو تم نے شہروں کو برباد اور لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

8۔ زمین کی ویرانی صاحبان زمین کی تنگدستی کی بنا پر ہے اور ان کی تنگدستی کا سبب یہ ہے کہ حکمرانوں نے پیسوں کے انبار لگا لئے ہیں۔
9۔ جو لوگ گورنر ہونے والے تھے ان سے فرماتے تھے کہ ان کے ایمان و عمل کو دیکھنا نسلوں اور قبیلے کو نہیں، یعنی کردار و تقویٰ مھم تھا۔
10۔ امام علیہ السلام خود ان لوگوں کی نگرانی کرتے تھے اگر تھوڑا سا انحراف دیکھتے تو فورا ہی سرزنش کر دیتے تھے اور ان کی اصلاح فرماتے تھے امام علیہ السلام نے جو خط بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کو لکھا تھا اس روش کا مکمل ترجمان ہے، آپ نے اسے لکھا "میں نے سنا ہے کہ شہر کے بڑے لوگوں نے تمہیں ایسی دعوت میں مدعو کیا جہاں نرم و لذیذ کھانے تھے اور پر تکلف دسترخوان تھا۔ مجھے یہ امید نہیں تھی کہ تم اس طرح کی دعوت کو قبول کرو گے اور شرکت کرو گے، جہاں تنگدست اور فقیروں کی کوئی جگہ نہ ہو۔ ہوش میں آؤ ہوشیار رہو اور مشتبہ چیزوں کے استعمال سے پرہیز کرو"(2) قاضی شریح نے 80 دینار کا ایک گھر بنوایا تھا امام علیہ السلام نے اس کی سرزنش کی اور فرمایا کہ ایسا گھر کیوں بنوایا ہے، امام علیہ السلام نے اس کو کافی ڈانٹا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امام علیہ السلام خود اپنے وزیروں، افسروں کی نگرانی کرتے تھے۔(3)
 
امام الاتقیاء حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کا عدل و انصاف:
حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد عمار ہمدانی کی بیٹی سوده امیر شام کے پاس گئی، جنگ صفین کے موقع پر سوده حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں جو کام کئے تھے اور جو خدمتیں کی تھیں، امیر شام نے یہ ساری باتیں یاد دلا کر سوده کی سرزنش کی اور اس کے بعد پوچھا کہ تم یہاں کس کے لئے آئی ہو۔ انہوں نے کہا، اے امیر شام: ہمارے جو حقوق تونے ہم  چھین لئے ہیں خدا تمہیں اسکا بدله ضرور دے گا، آپ ہم پر ہمیشہ ایسے لوگوں کو مسلط کرتے رہے، ہو جو ہمیں تیار فصل کی طرح کاٹتے تھے، ہم پر عرصہ حیات تنگ کرتے تھے، ہر وقت موت کی دھمکیاں دیتے تھے، اس وقت تم نے بسر بن ارطاته کو وہاں تعینات کیا ہے کہ ہمارے مردوں کو قتل کرے اور ہمارے اموال لوٹ لئے، اگر تم اسے معزول کر دو تو بہت اچھا ہے ورنہ ہم خود کو ہی اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر امیر شام کو غصہ آ گیا اور کہا، تم مجھے اپنے قبیلے سے ڈراتی ہو میں تمہیں بدترین حالت میں بسر کے پاس بھیجوں گا پھر وہ جو مناسب سمجھے گا ویسا ہی برتاؤ تمہارے ساتھ کرے گا۔ تھوڑی دیر سودہ خاموش رہیں، گویا اپنے ذہن میں پرانی شان و شوکت اور عزت و سربلندی کی تصویر کھینچ رہی تھیِں، پھر کہا َ"خدا کا سلام ہو اس ذات پاک پر جو قبر میں محو خواب ہے، جس کے بعد عدل و انصاف مردہ ہو گئے، اس نے حق کے ساتھ عہد و پیمان کیا تھا، اس نے کسی بھی چیز کو حق کا بدل قرار نہیں دیا، اس کی ذات حق و ایمان سے بھرپور تھی۔

اس وقت امیر شام نے پوچھا تم کس کا ذکر کر رہی ہو۔۔۔۔؟ سوده نے جواب دیا "میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام امام المتقین کو یاد کر رہی ہوں، ایک مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ شخص کی شکایت کروں جو زکوۃ جمع کرنے پر مامور تھا، جب میں پہنچی اس وقت امام نماز پڑھنے جا رہے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے نماز شروع نہیں کی اور بہت ہی خندہ پیشانی سے فرمایا: کوئی کام ہے؟ عرض کیا ہاں اور اپنی شکایت پیش کی۔ یہ سن کر وہاں مصلے پر کھڑے ہوگیے اور اپنے خدا سے کہنے لگے خدایا، تو گواہ رہنا میں نے ہرگز اس شخص کو یہ حکم نہیں دیا کیا کہ وہ تیرے بندوں پر زیادتی کرے، ایک کاغذ نکالا حمد و ثناء خدا اور قرآن کی ایک آیت لکھنے کے بعد تحریر فرمایا: میرا خط پڑھتے ہی اپنا مال و اسباب سمیٹ لو اور انتظار کرو یہاں تک کسی اور کو وہاں بھیجوں تاکہ وہ تمہاری ذمہ داریوں کو سنبھال لے" یہ خط مولا نے مجھے دیا۔ خدا کی قسم نہ اس خط کو بند کیا اور نہ ہی اس پر مہر لگائی، میں نے خط معمور زکوۃ کو جاکر دیا، وہ وہاں سے معزول ہوا اور چلا گیا یہ واقعہ سننے کے بعد مجبورا امیر شام نے حکم دیا کہ جو یہ کہے وہ لکھ دو۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع
1۔ رھبران معصوم علیہ السلام صفحہ 118 ۔119
2۔  فضائل امام علی علیہ السلام صفحہ 153 اور 154
3۔  فضائل الامام علی علیہ السلام صفی 153 ۔154
4۔ سفینۃ البحار جلد 1 صفحہ 171 اور 172
خبر کا کوڈ : 796136
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب