0
Sunday 26 May 2019 08:34

امریکی وزیر خارجہ کا سفید جھوٹ

امریکی وزیر خارجہ کا سفید جھوٹ
اداریہ
امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے گذشتہ دنوں امریکی کانگریس کے اس اعتراض کے جواب میں کہا کہ ٹرامپ حکومت کانگریس کی اجازت کے بغیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار فراہم کر رہی ہے، کہا ہے کہ ہم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایران کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہتھیار فراہم کئے ہیں۔ ٹرامپ انتظامیہ اور وزیر خارجہ مائیک پمپئو چاہے جس طرح کی توجیہات پیش کرتے رہیں، حقیقیت یہ ہے کہ امریکہ نے صرف اپنے مفادات بالخصوص امریکہ میں اسلحہ ساز صنعت کاروں کی مضبوط لابی کو اقتصادی بحران سے نکالنے اور اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے خطے میں ایرانو فوبیا کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے پہلے دورہ یعنی دورہ سعودی عرب میں شمشیروں کے رقص کے بعد سعودی عرب سے سینکڑون ارب ڈالر کے جدید ہتھیاروں کی فروخت کے سودے کیے تھے۔

ٹرامپ نے اس دورے کے بعد ایک انٹرویو میں دورہ سعودی عرب کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اخباری رپورٹر کے سامنے تین بار کہا تھا کہ "جاب"، "جاب"، "جاب" یعنی میں نے سعودی عرب کے دورے میں امریکیوں کے لیے جاب یعنی ملازمت کے وسیع مواقع حاصل کیے ہیں۔ بعد میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ امریکہ نے سعودی عرب کو پانچ سو ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے کرکے امریکہ کی جمود کا شکار ہتھیاروں کی صنعت کو دوبارہ زندہ کرکے اسلحہ لابی کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے وابستہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد کا روزگار بحال کر دیا ہے اور نئے ملازمین کے لیے جاب کے مواقع بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کانگریس کو بے وقوف بنا رہے ہیں کہ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایرانی خطرات سے نجات دلانے کے لیے ہتھیار دے رہے ہیں، حالانکہ یہ ہتھیار یمن کے مظلوم شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں یا سعودی گوداموں میں گل سڑ رہے ہیں۔

آل سعود اور آل نہیان امریکہ کو خوش کرنے کے لیے یہ ہتھیار خریدتے ہیں، تاکہ وہ ان کی آمریتوں اور ڈکٹیٹر شپ کی حفاظت کرے اور ان کے خلاف عوامی تحریکوں کو نہ اٹھنے دے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو شاہ ایران، کرنل قذافی، حسنی مبارک، بن علی اور اس طرح کے دیگر آمروں کا انجام نہیں بھولنا چاہیئے، امریکہ کے جب مفادات پورے ہو جاتے ہیں تو وہ کسی کا خیال نہیں رکھتا اور آنکھیں پھیرتے ہوئے نئے حکمران ٹولے پر اپنی محبتیں نچھاور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ عرب حکمران جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نہ پہلے کسی ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور نہ آئندہ کرے گا۔ ایران تو ہمسایہ ممالک سے مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے کا کہتا رہا ہے، تاکہ بیرونی جارحیتوں کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔ ایرانو فوبیا امریکہ کا قدیمی ہتھیار ہے۔
خبر کا کوڈ : 796329
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب