5
Sunday 26 May 2019 17:23

ایران مخالف اقدامات اور امریکی اتحاد کا اصل ہدف

ایران مخالف اقدامات اور امریکی اتحاد کا اصل ہدف
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف پے در پے یکطرفہ اقدامات اور دانستہ طور خلیج فارس کے علاقے میں کشیدگی میں شدت پیدا کرنا، میرے جیسے ادنیٰ تجزیہ نگار کے ذہن میں کئی سوالات کو جنم دے کر مجبور کرتا ہے کہ اس کے جوابات تلاش کروں۔ انقلاب اسلامی 1979ء کے بعد سے ایران وہی ایران ہے اور خلیج فارس میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی اسٹیٹس کو کا راج ہے۔ یہ اچانک ایسی کونسی ڈیولپمنٹ رونما ہوگئی کہ امریکا اور اس خطے میں اسکے اتحادیوں کو ایران پہلے سے زیادہ بڑا خطرہ نظر آنے لگ گیا؟! اگر امریکا، ایران تعلقات کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو امریکی حکومت کے لئے ایران کی موجودہ پالیسی تب سے ہے اور امریکی حکومت بھی ایران سے ناراض تبھی سے ہے۔ جہاں تک سعودی عرب و امارات سمیت جی سی سی یا عرب لیگ کے رکن ممالک کا تعلق ہے، انکا معاملہ بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یوں ہی ہے، البتہ ایران نے کسی بھی مسلمان یا عرب ملک کو دشمن قرار نہیں دیا اور آج بھی سعودی عرب سے مکالمے و مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

اسرائیل کا معاملہ جدا ہے، چونکہ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل ایک جعلی مملکت ہے، جو نسل پرست غیر ملکی یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے قائم کی ہے، لہٰذا وہ وہاں اسرائیل کی جگہ اس پورے فلسطینی علاقے میں ہی فلسطین نام کے ایک ملک کی حمایت کرتا ہے کہ جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، جو کہ آجکل اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہ وہ نکات ہیں جو ایران کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ ایران کی یہ خارجہ پالیسی سال 1979ء سے چلی آرہی ہے تو پھر ملین ڈالر کا سوال یہ بنتا ہے کہ اب امریکا اور اسکے اتحادیوں کو ایران کی پالیسی میں ایسی کونسی خاص تبدیلی نظر آئی ہے، جو امریکی حکومت کو اقدامات کرنے پر مجبور کر رہی ہے اور پروپیگنڈا کی جنگ میں بہت زیادہ شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔
 
امریکی سیاست و بین الاقوامی تعلقات کی تھوڑی سی شدھ بدھ رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ امریکا میں زایونسٹ لابی کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے اور زایونسٹ لابی کی تاریخ کی ابجد بھی اگر کوئی جانتا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ زایونسٹ لابی نے اپنے طویل المدت اہداف تک مرحلہ وار سفر کیا ہے اور ان کے حصول کے لئے انکے داؤ پیچ بھی بہت پیچیدہ ہوتے ہیں نیز زایونسٹ لابی اپنے اہداف اور اپنے خاص افراد کو مقدس راز کی طرح چھپا کر رکھتے ہیں۔ اب کوئی بہت بڑا کھوجی ہو جو کھوج لگا کر معلوم کرلے تو الگ بات، ورنہ زایونسٹ لابی پس پردہ اور غیر محسوس انداز میں مسلسل اپنے اہداف تک پہنچنے کا سفر جاری رکھتی آئی ہے۔
 
اس حوالے سے اگر آپ روتھس چائلڈ خاندان کی تاریخ اور اسکے بعد زرعی اور سیاسی زایونزم تحریک کے اعلانیہ قیام تک کا سفر دیکھیں، پھر پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زایون کی دستاویز جو پہلی مرتبہ 1903ء میں اختصار کے ساتھ جو روس کے روزنامہ زنامیہ میں شایع ہوئے اور پھر زار روس کے سول سرونٹ سرجئی نائی لس نے اس کو تفصیل سے بیان کیا۔ پھر اسکے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی ترجمے شایع ہوئے۔ گو کہ زایونسٹ اور ان کے حامی اس دستاویز کو جعلی قرار دیتے ہیں، لیکن اگر 1897ء کی پہلی زایونسٹ کانگریس کے بعد سے اسرائیل کے قیام تک اور حتیٰ کہ آج تک کی عرب اور مسلمان ممالک کے اور خاص طور پر فلسطین کے تناظر میں دنیا کی اور خاص طور پر سامراجیت اور جنگوں کی تاریخ پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس دستاویز میں لکھے ہوئے پروٹوکولز پر مرحلہ بہ مرحلہ عمل ہو رہا ہے۔
 
اب اس پس منظر میں سوال یہ کیا جائے گا کہ اس ایجنڈا میں ایران کو کس خانے میں فٹ کریں؟! اگر مذکورہ پروٹوکولز کو درست مان لیں اور زایونسٹ تحریک یعنی یہودیوں کی نسل پرستانہ تحریک کی سو سالہ ڈیڈ لائن کے نقطہ آغاز کو پہلی عالمی زایونسٹ کانگریس منعقدہ 1897ء سے شروع کریں تو زایونسٹوں کا عالمی کنٹرول 1997ء میں ہونا تھا۔ لیکن جو ایک تبدیلی دنیا میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں رونما ہوئی، وہ ایران کا اسلامی انقلاب تھا، جس نے ایک قدیم تہذیب و تمدن اور تاریخی اہمیت کے حامل ملک ایران سے نہ صرف امریکی مداخلت کو ختم کرکے سامراجیت کو ذلیل و رسوا کیا تھا بلکہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کرکے اس کا سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔ تنظیم آزادی فلسطین کو ایران میں فلسطینیوں کا بلا شرکت غیرے نمائندہ تسلیم کر لیا تھا۔
 
اسکے بعد لبنان، فلسطین اور شام کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت میں شدت آئی۔ لبنان میں امریکی سی آئی اے کی سازشوں کو ناکام بنایا گیا، اسرائیل کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کی افواج پر بھی حملے ہوئے اور یوں لبنان سے پہلے اسرائیل کے سرپرست اور مددگار ملکوں کی افواج انخلاء پر مجبور ہوئی اور بعد میں خود اسرائیل جنوبی لبنان سے فرار پر مجبور ہوا۔ 2005ء میں غزہ سے انخلاء پر مجبور ہوا اور جب جب اسرائیل اپنے اہداف کے مکمل حصول میں ناکام ہوا یا اس پورے خطے میں اسرائیل، اس کے مددگار اور دوست ناکام ہوئے یا رسوا ہوئے تو انہوں نے اس کا الزام ایران پر لگایا۔
 
 انہوں نے اپنی دانست میں شام و عراق پر اس لئے جنگیں اور دہشت گردی مسلط کیں کہ اس طرح ایران زمینی راستے سے کوئی مدد براستہ شام لبنان و فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرانے کی تحریک چلانے والوں کو نہ پہنچا سکے۔ یمن کی جنگ اس لئے شروع کی گئی کہ بحری راستے سے ایران کوئی مدد اسرائیل کے مخالفین کو نہ پہنچا سکے، وجہ یہ نہیں تھی کہ یمن کی زیدی حوثی تحریک سے کوئی خطرہ لاحق تھا بلکہ امریکا کی سابق وزیر خارجہ اور سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کونڈولیزا رائس کے اپنے الفاظ میں امریکا نے سعودی عرب کی مدد سے ایک بحری جہاز پر چھاپہ مارا تھا، جس میں اسلحہ برآمد کیا اور یہ اسلحہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو بھیجا جا رہا تھا۔
 
یہ چند مثالیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ جس طرح علامہ اقبال نے تقریباً ایک صدی قبل کہا تھا کہ۔۔۔۔  فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے۔۔ تو ایران سے دشمنی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایران نے نسل پرست یہودی تحریک زایونزم کی وسعت پذیری کو اس خطے میں ختم کرکے رکھ دیا۔ پہلے اسرائیل جہاں چاہتا تھا، چڑھ دوڑتا تھا اور قبضہ کر لیا کرتا تھا، اب اسے قبضہ چھوڑنا پڑ رہا تھا۔  اس لئے زایونسٹ لابی نے ڈیل آف دی سینچری یعنی صدی کے سب سے بڑے معاہدے یا سودے کے نام پر سرزمین فلسطین پر قبضے میں وسعت اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لئے ایک سازش تیار کی ہے۔ چونکہ اس کی راہ میں واحد رکاوٹ ایران کی قیادت میں جمع مقاومت کا محور ہے، اس لئے شام و عراق و یمن کے محاذ گرم کئے گئے، تاکہ اسرائیل کی مخالف قوت منتشر ہو کر رہ جائے۔
 
مقاومت کے محور کی جانب سے ماضی میں کبھی بھی سعودی و اماراتی تنصیبات پر یا ان کی حدود پر مسلمان و عرب مفادات پر کبھی حملے نہیں کئے اور اگر اب سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں کہیں اکا دکا راکٹ یا ڈرون میزائل کی خبریں آتی ہیں تو اس کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ جنگ شروع کس نے کی ہے؟ جب سعودی و اماراتی اتحاد نے بلاوجہ یمن پر جنگ مسلط کی ہے، وہ وہاں بمباری اور قتل عام کر رہے ہیں تو پھر انہیں یمنیوں کے ردعمل پر بلبلانا نہیں چاہیئے، جنگ ختم کر دیں، جوابی حملے یا ردعمل خود بخود رک جائے گا۔ سعودی عرب کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کے داخلی مسائل بھی ہیں، سعودی شاہی خاندان کے خلاف سیاسی و مذہبی مخالفین کی تحریکیں ہیں، پھر یمن جنگ اور جمال خاشقچی کے قتل کی وجہ سے پوری دنیا میں سعودی عرب بدنام ہوا ہے۔ وہ ایران ایران کا شور مچا کر دنیا کی توجہ اپنے مظالم سے ہٹانا چاہتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سعودی و اماراتی شیوخ و شاہ کی حکومتیں امریکی اسلحہ کی بڑی خریدار ہیں۔ خریداری کا یہ سلسلہ شروع سے ہی ہے۔ ان کے امریکا کے ساتھ سکیورٹی کے معاہدے ہیں، انہوں نے امریکی افواج کو اڈے تک بنا کر دیئے ہیں، انہی کی سکیورٹی کا بہانہ بنا کر امریکی بحری بیڑہ یہاں پہلے سے موجود رہا ہے۔ قطر میں بھی اسکا اڈہ ہے۔ یہ سب پرانی خبریں ہیں۔ اڈے تو اس کے اور بھی جی سی سی ممالک میں ہیں، لیکن بعض ممالک ایران کے خلاف امریکا کے اعلانیہ اتحادی اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے سے گریزاں ہیں۔ عمان اور کویت کا بیانیہ جنگ کے خلاف ہے۔ عراق اور پاکستان ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں۔ خود امریکا جو ایک لاکھ بیس ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، وہی پیچھے ہٹ رہا ے، اب ڈیڑھ ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے کہ ایرانی صدر ٹرمپ کو فون کر لے۔ اف! یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے!!! شاید ایسا اس لئے بھی ہے کہ عالمی رائے عامہ خلیج فارس میں یا کہیں سے بھی ایران کے خلاف امریکا کی جنگ کی مخالفت پر مبنی ہے۔
 
لیکن ملین ڈالر سوال کا جواب یہ ہے کہ کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ، یعنی امریکا اور اس کے اتحادیوں کا اصل ہدف اسرائیل کا تحفظ ہی ہے۔ ایران، ایران کا شور اس لئے مچایا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کو مفت بیچ دینے پر مبنی ڈیل آف دی سینچری کی راہ میں واحد رکاوٹ ایران کی قیادت میں جمع مقاومت کا محور ہے، اس لئے امریکی اتحاد کی کوشش ہے کہ ایران اور مقاومت کے محور کو پہلے ہی اتنی مشکلات کا شکار کر دو کہ یہ انہی میں الجھ کر رہ جائیں اور وہاں فلسطین کو مفت میں فروخت کر دیا جائے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ نتیجہ ہمیشہ برعکس ہی نکلتے دیکھا ہے۔
 
پہلے عرض کیا کہ عالمی زایونسٹ کانگریس منعقدہ 1897ء سے شروع کریں تو زایونسٹوں کا عالمی کنٹرول 1997ء میں ہونا تھا، لیکن 1997ء میں اسرائیل کو اپنی سکیورٹی کے لالے پڑے ہوئے تھے اور مسلمان ممالک کے سربراہان او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں تہران میں امام خامنہ ای کی قیادت میں جمع تھے!!!  کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ غیبت ولی عصر میں مستضعفین کا عالمی مرکز کہاں ہے! علامہ اقبال نے یونہی نہیں کہہ دیا تھا:  
دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے اس خواب کی تعبیر بدل جائے
تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے!
خبر کا کوڈ : 796409
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب