0
Monday 27 May 2019 17:39

یوم القدس اور ہماری ذمہ داری

یوم القدس اور ہماری ذمہ داری
تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب شیعہ علماء کونسل پاکستان


بیت المقدس کا احترام اور تبریک تمام الہیٰ اور آفاقی مذاہب میں موجود ہے۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام سے وابستہ تمام پیروکار بیت المقدس کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق مانتے ہیں۔ اپنی تاریخ کے مطابق اس سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے انداز کے مطابق اس سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس عقیدت میں وقت کی رفتار اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ نرمی اور شدت آتی رہتی ہے۔ اہل اسلام کو دیگر مذاہب کی نسبت یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنے سے گذشتہ تمام الہیٰ ادیان اور تمام الہیٰ پیغمبران کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ یہ ماننا ان کے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ یہ امتیاز بھی اہل ِاسلام کو حاصل ہے کہ تمام الٰہی ادیان و انبیاء سے منسلک عبادت گاہوں کا احترام اور ان کی توقیر اپنے اوپر واجب قرار دی ہوئی ہے بلکہ ان عبادت گاہوں کو اسلام کے ساتھ جوڑا ہوا ہے اور اسی نسبت کے سبب ان پر اپنا وہی حق جتایا جاتا ہے، جو دیگر مذاہب کے ہاں جتایا جاتا ہے۔

ایک طرف اسلام کی مثبت اور ہمدردانہ فکر یہ ہے کہ وہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ اول سمجھ کر اس کے ساتھ قرب کا اظہار کرتا ہے، دوسری طرف دیگر مذاہب بالخصوص یہودیت کے اندر نہ صرف اسلامی شعائر کا عدم احترام موجود ہے بلکہ ان شعائر سے نفرت اور دوری اختیار کرنے کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ اسلام چونکہ گذشتہ شریعتوں کو منسوخ سمجھ کر شریعت ِ محمدی (ص) کو فوقیت دینے کا درس دیتا ہے، اس لیے انہی تعلیمات کے نتیجے میں اسلام کے قبل کے شعائر کو بھی اللہ کے شعائر سمجھ کر نہ صرف عزت و احترام کا قائل ہے بلکہ ان شعائر کو اپنی حفاظت و تحویل میں رکھنا اپنی بنیادی ذمہ داری حتیٰ کہ شرعی فریضہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل اسلام بیت المقدس کو اپنی عقیدتوں اور ایمان کا محور سمجھتے ہوئے اس پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو بیت المقدس اور خانہ کعبہ دونوں ظہور ِاسلام سے قبل ہی اس زمین پر موجود ہیں۔ دونوں کو اسلام سے قبل جائے عبادت اور اللہ سے قرب کا ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے، یعنی دونوں مقامات میں سے کسی کی تعمیر یا تشکیل بانی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے نہیں فرمائی بلکہ پہلے سے موجود ان دونوں مقدس مقامات کو اللہ کے حکم اور وحی کے ساتھ مانا اور منوایا۔ اعلان نبوت سے پہلے اور بعد میں دونوں مقامات کو اللہ کے آخری نبی (ص) نے اپنی عبادت کو مرکز بنائے رکھا، اس عبادت میں اوائل اسلام کے ساتھی بالخصوص ام المومنین سیدہ خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا اور امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز اور دیگر عبادات انجام دیتے ہیں، حضرت علی اس بات پر فخر کرتے نظر آتے ہیں کہ میں پہلا نمازی ہوں جس نے نبی اکرم (ص) کے ساتھ بیت المقدس اور خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر گرامی قدر (ص) کی زبانی حضرت علی  کو  ''مُصَلّی اِلی القِبلَتَین'' کا لقب عطا ہوا ہے، یعنی دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والا۔

واقعہ معراج اسلام اور پیغمبر ِاسلام (ص) کی تاریخ میں سنگ ِمیل کی حیثیت رکھتا ہے، اس واقعہ کی وجہ اسلام کو دیگر مذاہب سے بہت سارے امتیازات بھی حاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قرب سے لے کر آسمانوں کی سیاحت اور آخرت، جنت، جہنم کے حالات سے لے کر عبادتوں کی تشکیل نو تک تمام مراحل اسی واقعہ کے ساتھ منسلک و وابستہ ہیں۔ اسی طرح بیت المقدس کا ذکر بھی اسی واقعہ میں کلیدی مثال ہے۔ لہذا اہل اسلام بجا طور پر بیت المقدس یعنی اپنے قبلہ اول کو اپنی تحویل میں لینا اپنا بنیادی اور شرعی حق سمجھتے ہیں۔ ستر سال قبل تک قبلہ اول اسلامی سلطنت کا حصہ رہا ہے، لیکن اسرائیل کے ناجائز قیام اور اس میں صیہونی حکومت کی تشکیل کے بعد قبلہ اول یہودی اور صیہونی تسلط میں چلا گیا۔ سات دہائیوں سے دنیا کے مسلمان کسی نہ کسی طریقے سے قبلہ اول کو بازیاب کرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اس بازیابی میں دیگر ممالک کے علاوہ اس خطے کے باسی یعنی فلسطینی عوام پیش پیش ہیں، کیونکہ صیہونی ریاست نے جہاں قبلہ اول پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، وہاں فلسطینی عوام کے آبائی علاقوں پر قبضہ کرکے انہیں بے دخل کیا ہوا ہے۔ لہذا گذشتہ سات دہائیوں سے مسلم عوام جہاں قبلہ اول کی بازیابی کی بات کرتے ہیں، وہاں اہل فلسطین کو ان کی سرزمین واپس کرکے ان کا اپنا آزاد ملک قائم کرنے کے مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ بیت المقدس پر قبضے، اسرائیل کے ناجائز وجود اور فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملات اگرچہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی اور عرب لیگ سمیت تمام عالمی اداروں اور فورمز پر موجود ہیں، لیکن ان تمام اداروں کے ذریعے آج تک کوئی مستقل حل سامنے نہیں آسکا۔

1947ء سے لے کر 1979ء تک قبلہ اول اور فلسطین کا معاملہ سفارتی اور عمومی احتجاج کی حد تک رہا، لیکن ایران میں اسلامی انقلاب رونما ہونے کے بعد رہبر ِ انقلاب حضرت امام خمینی نے اس مسئلے پر دلیرانہ اور عوامی نوعیت کو فیصلہ فرمایا اور پورا سال اس مسئلے پر آواز اٹھانے کے علاوہ سال کا ایک دن اس مسئلے کے لیے مخصوص کرنے کا اعلان فرمایا۔ اس کے لیے انہوں نے ماہ ِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو قبلہ اول کی آزادی کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے اس دن کو بطور ''یوم القدس'' منانے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان فقط ایران تک محدود نہ رہا بلکہ عالم ِ اسلام کے ہر ملک حتیٰ کہ دنیا میں بسنے والے اہل ِاسلام تک یہ آواز پہنچی تو دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بسنے والے اہل ِاسلام اس کے ہم آواز ہوئے۔ بات اہل ِ اسلام تک نہیں رہی بلکہ دیگر مذاہب یعنی عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم، سکھ ازم، بدھ ازم اور ہر انصاف پسند انسان اس معاملے میں امام خمینی کا ہم رکاب و ہم صدا بنا اور یوں قبلہ اول اور فلسطین کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔

اسی تسلسل میں گذشتہ چالیس سال سے دنیا بھر میں یوم القدس پورے جذبے اور شوق سے منایا جاتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت زیادہ جوش و جذبہ دکھائی دیتا ہے، اس کی ایک بنیادی وجہ تو اہل پاکستان کی اسلام اور شعائر اسلام سے گہری اور ایمانی وابستگی ہے، جبکہ دوسری اہم وجہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح  کی طرف سے اوائل ایام میں ہی اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہ کرنے اور اسے قبلہ اول اور فلسطینی عوام پر قابض اور مسلط ہونے کے بارے میں پالیسی بیان ہے، جو ہماری ریاستی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے پاکستانیوں کی ذمہ داری دیگر ممالک کی نسبت دوہری ہو جاتی ہے۔ اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہر سال ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کے موقع پر یوم القدس منایا جاتا ہے، اس موقع پر احتجاجی پروگرامز اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

یوم القدس سے پہلے ملک کے مختلف حصوں میں سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ یوم القدس کی تمام تقاریب میں پاکستانی شہری بلاتفریق مذہب و مسلک شرکت کرتے ہیں اور قبلہ اول کے ساتھ اپنی وابستگی، فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بات کسی جانبداری کی حامل نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے کہ اسرائیل کی پشت پر بعض یورپی ممالک، بعض عرب ممالک اور خاص طور پر امریکہ جیسی نام نہاد عالمی طاقت موجود ہے۔ انہی عناصر کی وجہ سے ستر سال گذرنے کے باوجود یہ مسئلہ عالمی اداروں کے توسط سے حل نہیں ہو پایا۔ انصاف کے دعویدار عالمی اداروں پر امریکہ اور اسرائیل کو ویٹو پاور کی وجہ سے عملی قبضہ حاصل ہے۔ ان دونوں ممالک کی حمایت کرنے والے سارے ممالک اس گناہ میں شریک نظر آتے ہیں، چاہے ان کا تعلق عرب سے ہو یا عجم سے۔

ستر سال سے یہ معاملہ عالمی اور مقامی سیاست کا شکار ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہان اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کر رہے، لیکن مسلم عوام ہر سال ان کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح ہر سال یوم القدس کے ذریعے عالمی اداروں کا ضمیر جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا میں آنے والے روز بروز تبدیلیاں اور بدلتی ہوئی سیاسی و عالمی صورت حال اس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ اب قبلہ اول کی آزادی کا مرحلہ قریب تر ہو رہا ہے اور جلد ہی بیت المقدس سے صیہونی تسلط کا خاتمہ ہونے والا ہے اور مظلوم فلسطینی عوام کو ان کا پیدائشی حق ملنے والا ہے۔ ہر مسلمان بلکہ ہر انصاف پسند انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قبلہ اول کی آزادی کے لیے سرگرم قوتوں کا دست و بازو بنے اور اس تحریک کا حصہ بنتے ہوئے یوم القدس کے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
خبر کا کوڈ : 796547
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب