0
Monday 27 May 2019 08:53

كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً

كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً
اداریہ
اکیس رمضان المبارک تاریخ اسلام کا وہ سوگوار ترین دن ہے، جس دن کائنات ایک ایسی ہستی سے محروم ہوگئی، جس کی شہادت پر ہاطف غیبی کی طرف سے فضاوں میں یہ خبر گونجی تھی کہ "تقویٰ کے نشان مٹ گئے"، "دینداری کی مضبوط رسی ٹوٹ گئی"، محمد مصطفیٰ کے ابن عم شہید ہوگئے"، وصی رسول شہید ہوگئے"، "علی مرتضٰی شہید ہوگئے"، "قسم بخدا کہ ہدایت کے ستون گرگئے۔" آج امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت عظمیٰ کو ٹھیک چودہ سو سال ہوگئے۔ ان چودہ سو برسوں میں تاریخ نے کیا کیا دیکھا اور اسلام کے لئے اولاد رسول اور ان کے چاہنے والوں نے کیا کیا قربانیاں نہیں پیش کیں۔ 61 ہجری کی کربلا نے جو تاریخ میں نقش چھوڑے ہیں، وہ آج بھی زندہ حقیقت بن کر ہر باشعور فرد کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ سقیفہ اور مسجد کوفہ سے امیرالمومنین کی پیشانی اقدس پر ابن ملجم لعنتی کی ضربت ہو یا آج یمن میں ظلم کا شکار نہتے علی علیہ السلام کے متوالوں پرجدید ترین ہتھیاروں سے آل سعود کے حملے، سب ایک سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

ظلم اپنی تمام تر حشرسامانیوں اور شیطانی حربوں سے مظلوموں کی بیخ کنی پر مصر و مشغول ہے اور مظلوم حق کا دامن تھامے "ھل من ناصرا ینصرنا" کی آواز بلند کر رہا ہے، دنیا ظالم اور مظلوم میں تقسیم ہو رہی ہے۔ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود شہید مظلوم امیرالمومنین کا یہ جملہ گونج رہا ہے کہ "مظلوم کے ساتھی و مددگار اور ظالم کے مخالف بنو۔" بستر شہادت پر علی شیر خدا کا یہ جملہ ایک عالمی فلاحی حکومت کے لئے بنیادی سلوگن تھا۔ مظلوم کی حمایت عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور ظالم کی حمایت اور اس کے ظلم و ستم پر خاموشی عدل و انصاف کا قتل ہے۔ عدل و انصاف پر مبنی عالمی الہیٰ حکومت میں مظلوم تنہا نہیں ہوگا۔ ریاست اس کے ساتھ ہوگی، وہ شہری چاہے کوئی بھی ہوگا، الہیٰ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس کا میرٹ اس کی مظلومیت ہوگی، نہ دین، نہ مسلک، نہ رنگ، نہ قوم، نہ خاندان، نہ علاقہ اور نہ کوئی دوسری برتری۔

عالم اسلام کے عظیم دانشور آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری نے کیا خوبصورت نکتہ بیان کیا ہے کہ آج اگر علی علیہ السلام زندہ ہوتے تو کیا کرتے۔؟ مسئلہ فلسطین پر خاموش رہتے؟ فلسطین کے مظلوموں کی حمایت نہ کرتے؟ کیا حسن و حسین کو مظلوموں کی مدد کے لئے فلسطین روانہ نہ کرتے؟ وہ علی جو کوفے کی گلیوں میں غریبوں اور مسکینوں کو اپنے ہاتھ سے غذا فراہم کرتے تھے، کیا ان عالمی لٹیروں کے خلاف اعلان جہاد نہ کرتے، جنہوں نے انسانیت کو اپنے چنگل میں اسیر کر رکھا ہے اور جن منحوس پنجوں سے انسانیت کا خون رس رہا ہے۔ یقیناً امیرالمومنیں علی علیہ السلام ہر ظالم کے ظلم کے خلاف میدان میں آتے اور مظلوم کی حمایت میں اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے۔ آج مولا علی علیہ السلام کے چاہنے والوں سے بھی یہی توقعات ہیں "كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً۔"
خبر کا کوڈ : 796585
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے