0
Wednesday 29 May 2019 08:21

غلبے کی جنگ

غلبے کی جنگ
اداریہ
آج دنیا میں غلبہ کی جنگ جاری ہے، اس جنگ میں جہاں سامراجی طاقتیں پورے زور و شور سے مصروف ہیں، وہاں اسلامی قوتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اسلامی بلاک کی شناخت کے حوالے سے اس وقت تین بڑے بلاک عالمی منظرنامے میں موجود ہیں۔ پہلا منظر نامہ سعودی عرب کی صورت میں ہے، جو پورے عالم اسلام پر اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ آل سعود کا نظام بنیادی طور پر تکفیریت اور ابن تیمیہ کے افکار سے متاثر ہے اور اس کا نتیجہ طالبان، القاعدہ، الشباب، بوکو حرام، داعش اور جہبۃ النصرہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ افغانستان میں طالبان کی خلافت اور عرب دنیا میں داعش کی خلافت اس کے چند مظاہر ہیں۔ دوسری لابی ترکی کی ہے، ترکی بھی عالم اسلام کی قیادت کا خواب دیکھتا ہے اور خلافت عثمانیہ کے دور کو احیاء کرنے کا خواہشمند ہے۔ یہ اسلامی نطام بظاہر جدید و قدیم کی آمیزش ہے، لیکن اس اسلام میں سیکولر نظریات غالب ہیں، البتہ اس کو اخوانی اسلام کی جدید شکل بھی کہا جا سکتا ہے۔

اس نظام اسلام میں امریکہ سے بھی تعلقات عین اسلام ہے اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر قابض اسرائیل سے بھی ہر طرح کے تعلقات جائز ہیں۔ اس کو سعودی اسلام کی طرح امریکائی اسلام کہا جا سکتا ہے۔ تیسری لابی یا برانڈ ایران کے اسلامی انقلاب کی بعد سامنے آئی، جو امام خمینی کے بقول اسلام ناب محمدی ہے، اس کی بنیاد خدا پر ایمان اور طاغوت سے نفرت پر استوار ہے۔ حقیقی اسلام یعنی محمدی اسلام اور امریکی اسلام میں جنگ کا جاری رہنا ایک لازمی امر ہے۔ اس جنگ کا فاتح حقیقت میں سامراج کو شکست دے رہا ہے، کیونکہ سامراج کبھی بھی محمدی اسلام کو عالم اسلام میں رائج نہیں ہونے دے گا۔ اس غلبے کی جنگ میں امریکہ اور صہیونی لابی نے اسلام کی ان تینوں برانڈوں کو آپس میں دست گریباں کرنے کی سازشیں عرصے سے شروع کر رکھی ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سامراجی طاقتوں کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اس نئے اسلامی برانڈ نے جسے امام خمینی حقیقی محمدی اسلام کہتے تھے، سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور اس کی ڈکثیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سامراجی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کو محدود کرنے کے لیے بعض علاقائی اتحاد مثلاً خلیج فارس تعاون کونسل بنوائی اور بعض اسلامی اداروں بالخصوص او آئی سی کو ایران کے خلاف لا کھڑا کیا۔ او آئی سی مسلمانوں کے درمیاں طویل جنگوں من جملہ ایران پر مسلط کردہ جنگ اور حال ہی میں یمن پر جاری سعودی جارحیت پر اپنا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی، لیکن چند دن پہلے الفجیرہ اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر معمولی حملے نے اس تنظیم کو متحرک کر دیا اور اگلے چند دنوں میں خلیج فارس تعاون کونسل کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سربراہی اجلاس سعودی عرب میں بلا لئے گئے ہیں۔ اجلاسوں کے مقاصد اس کے بلانے کی وجوہات سے ظاہر ہو رہے ہیں، اسلامی ممالک کا جو اجلاس امریکہ اور اس کے حواریوں کے کہنے پر منعقد ہو رہا ہے، اس کے نتائج پہلے سے واضح ہیں۔
خبر کا کوڈ : 796827
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب