0
Wednesday 29 May 2019 12:46

مسجد الاقصیٰ، اسلام اور تاریخ کے نقطہ نظر سے(2)

مسجد الاقصیٰ، اسلام اور تاریخ کے نقطہ نظر سے(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
مسجد اقصیٰ کی عمارت کے نیچے معبد سلیمان جسے معروف طور پر ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے، کے بارے میں یہودیوں کے دعوے کی ان کے پاس کوئی دلیل اور ثبوت نہیں ہے۔ تاہم وہ یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے کہا کہ وہ اسے گرا کر اور کھدائی کرکے بزعم خویش نیچے سے ہیکل سلیمانی نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی عقیدے کی وجہ سے 21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کو  آگ لگا دی، جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب سے عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا۔ یاد رہے کہ صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد یہ منبر نصب کیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی  آزادی کے لیے تقریباً 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران میں وہ اس منبر کو  اپنے ساتھ رکھتا تھا، تاکہ فتح ہونے کے بعد اسے مسجد میں نصب کرسکے۔
 
مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کا یہ سانحہ تاریخ کا ایک نیا موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مسلمان حکمرانوں میں بھی ایک بیداری پیدا ہوئی۔ اسی کے نتیجے میں آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (OIC) معرض وجود میں آئی، جس کا پہلا اجلاس مراکش کے دارالحکومت رباط میں منعقد ہوا۔ پاکستان کی طرف سے سابق صدر یحییٰ خان نے نمائندگی کی۔ کانفرنس میں اس صہیونی سازش کی سخت مذمت کی گئی، تاہم بعدازاں او آئی سی نے بیت المقدس کی آزادی کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ رفتہ رفتہ وہ اعلیٰ اسلامی مقاصد سے دور ہوتی چلی گئی۔ اب تو یہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ او آئی سی کو  صہیونیت کے خلاف بھڑکے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔
 
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ فلسطین میں ہمیشہ سے یہودی یا بنی اسرائیل رہتے تھے۔ یہ خیال تاریخ سے نابلد ہونے کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہودی مذہب کا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد شروع ہوا۔ حضرت موسیٰؑ مصر سے بنی اسرائیل کو نکال کر لائے تھے۔ انھوں نے بنی اسرائیل کو اس مقدس شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا، جس کا تذکرہ ہم قبل ازیں کرچکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنی اسرائیل کے داخلے سے پہلے ہی مقدس تھا، جہاں پر اُس زمانے میں ایک ظالم بادشاہ حکمران تھا، جس کے پاس ایک زبردست طاقتور فوج موجود تھی، جس سے بنی اسرائیل خوفزدہ ہوگئے تھے۔
 
حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی نمرود کی سرزمین سے نکل کر اسی سرزمین میں پناہ گزین ہوئے۔ ان کے ساتھ حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔ قرآن حکیم کی آیات شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُس زمانے میں موجود اس سرزمین کو مقدس قرار دیا ہے۔ اس سے اس امر کو تقویت پہنچتی ہے کہ خانۂ کعبہ اور بیت المقدس کی سرزمین پروردگار کے ہاں ابتداء ہی سے مقدس قرار دی گئی ہے۔ اس کا تعلق کسی قوم سے نہیں ہے، تاہم یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ کوئی سرکش یا ظالم قوم ان مقدس مقامات پر قابض ہو یا قابض رہے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو پہلے سے موجود ظالم حکمران کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے مامور کیا گیا تھا، بعد میں بھی اگر کوئی قوم ظلم کرنے لگے تو وہ اس سرزمین پر کوئی حق نہیں رکھتی۔ البتہ دوسری طرف کوئی ایسی قوم جو ظلم کے خلاف قیام کرے اور عدل کی حکمرانی کا ارادہ رکھتی ہو، اسے سنت الٰہی کے مطابق قیام کرکے ظالموں سے ان مبارک مقامات کو آزاد کروانے کے لیے اقدام کرنا چاہیئے۔
 
ہماری اس رائے کو تاریخ کی اس حقیقت سے تقویت ملتی ہے کہ فلسطین میں سب سے پہلے بودوباش اور سکونت اختیار کرنے والے کنعانی تھے، جنھوں نے چھ ہزار سال قبل میلادی وہاں رہائش اختیار کی، یہ ایک عرب قبیلہ تھا اور جزیرہ نمائے عرب سے فلسطین میں آیا تھا۔ اس قبیلے کے یہاں آباد ہونے کے بعد ہی اس سرزمین کو فلسطین کا نام دیا گیا۔ اس سلسلے میں احمد العوضی نے اپنی کتاب الصہیونیۃ نشاتھا، تنظیماتھا، انشتطھا میں تاریخی حوالوں کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سرزمین بنیادی طور پر یہودیوں کا مسکن نہیں تھی، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھی تقریباً چھ سو سال بعد اس سرزمین میں داخل ہوئے، جو تقریباً چودہ سو سال قبل مسیح کا زمانہ بنتا ہے۔

آیئے اس سلسلے میں قرآن حکیم کی چند ایک آیات پر نظر ڈالتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے بارے میں سورہ انبیاء میں ہے: وَ نَجَّیْنٰہُ وَ لُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ (انبیاء:71) "اور ہم  نے اسے (حضرت ابراہیم) اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی، جس میں ہم نے سب جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔" اس آیہ مجیدہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین اور خاص طور پر بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے پہلے ہی برکتوں والی سرزمین قرار دے رکھا تھا۔ نیز یہ برکتیں کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ سب جہانوں کے لیے ہیں۔ جب بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زحمتوں اور کوششوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے نجات دی تو اس سرزمین پر بالآخر انھوں نے حکومت قائم کرلی۔ اس حوالے سے بھی قرآن حکیم میں موجود آیت میں اس سرزمین کو برکتوں والی قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا(اعراف:137) "اور ہم نے کمزور کر دی جانے والی قوم کو اس سرزمین کے مشارق و مغارب کا وارث بنا دیا، جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔" یعنی بنی اسرائیل کے یہاں آنے سے یہ سرزمین بابرکت نہیں ہوگئی بلکہ اللہ کے ہاں یہ پہلے ہی سے بابرکت ہے۔
 
حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعات قرآن حکیم کی مختلف سورتوں میں مختلف پہلوئوں سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک آیت سورہ انبیاء میں جس میں اسی امر کا اعادہ کیا گیا ہے، جس کا ذکر سطور بالا میں آیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖٓ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (انبیاء:81) "اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا، جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی کہ جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے۔" ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے بھی یہ سرزمین برکت والی تھی، ان کے بعد بھی برکت والی تھی، بنی اسرائیل جب آئے تو اس وقت بھی برکت والی تھی، بعدازاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں بھی برکت والی تھی اور آخری پیغمبرؐ آئے تو اس وقت بھی یہ سرزمین برکت والی تھی، جیسا کہ ہم پہلے سورہ بنی اسرائیل کی اس آیت کا ذکر کرچکے ہیں، جس میں واقعہ معراج کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔ "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے اردگرد کو ہم نے برکتوں والا بنایا ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھا سکیں، بے شک وہ وہی ہے جو سمیع بھی ہے بصیر بھی۔"
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 796955
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے