2
Thursday 30 May 2019 02:10

اردن اور سعودی عرب میں بڑھتی دوریاں

اردن اور سعودی عرب میں بڑھتی دوریاں
تحریر: علی احمدی

اردن اور سعودی عرب کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ برطانوی اخبار ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے دوریوں کا نتیجہ اردن اور خطے میں سعودی عرب کے حریف ممالک کے درمیان قربتوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے اردن کی مالی امداد بھی کم کر دی ہے جس کے باعث اردن شدید اقتصادی مشکلات سے روبرو ہے اور اس دباو سے تنگ آ کر اردن خطے میں سعودی عرب کے سب سے بڑے دشمن تصور کئے جانے والے ممالک سے تعلقات بڑھانے پر مجبور ہو گیا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں اردن کے سفیر مروان المعشر نے حال ہی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومان اپنی بنیادی حکمت عملی اور پالیسیز میں شاید تبدیلی نہ لا سکے لیکن ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام آپشنز آزمانے کیلئے تیار ہے۔
 
گذشتہ ماہ اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم نے قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی کو خط لکھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا جائزہ لیا گیا۔ اسی طرح قطر کے امیر نے بھی گذشتہ برس جون کے مہینے میں اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے قطر میں 10 ہزار اردنی شہریوں کو روزگار فراہم کرنے کے مواقع پیدا کئے ہیں جبکہ اردن کے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کیلئے بھی 50 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری انجام دی ہے۔ اردن کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں مغربی ممالک کے سیکورٹی سیٹ اپ میں بنیادی حیثیت ہونے کے ناطے اردن نے گذشتہ چند ماہ سے ترکی اور قطر سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ایران کی سمت بھی آہستہ آہستہ قدم بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔ اگرچہ یہ تبدیلی ہنگامی حالات میں رونما ہو رہی ہے لیکن اردن میں اقتصاد کی بحرانی صورتحال کے پیش نظر یہ تبدیلیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔
 
یاد رہے گذشتہ برس موسم گرما میں اردن عوام کے شدید سیاسی اور اقتصادی احتجاج کی لپیٹ میں تھا جس کے نتیجے میں اردن حکومت تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ نئے ٹیکسز بھی واپس لے لئے گئے تھے۔ اردن کے ایک اعلی سطحی حکومتی عہدے دار نے بتایا کہ دیگر ممالک سے ہمارے تعلقات کی بنیاد ہمارے ملکی مفادات ہیں۔ ہمارے کسی ملک سے کوئی اختلافات نہیں۔ ترکی، قطر اور حتی ایران سے ہمارے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ ہمارے تعلقات کا انحصار ان نتائج پر ہے جو ہم قومی مفادات کی روشنی میں حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی حکام نے اردن کو خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں سعودی عرب کے حریف ممالک سے دور رہے اور قطر اور ایران کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا بھی خیال رکھے۔
 
اردن کی جانب سے سعودی بلاک سے دوری اور اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ایک اور بڑی وجہ سینچری ڈیل کی مخالفت ہے۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق ایک نیا منصوبہ پیش کر رکھا ہے جو سینچری ڈیل یا صدی کی ڈیل کے نام سے معروف ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن مختلف امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس منصوبے کی منظرعام پر آنے والی بعض شقیں انتہائی پریشان کن ہیں اور خود فلسطینی حکام کے علاوہ اکثر اسلامی ممالک نے ان کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ دوم نے بھی سینچری ڈیل سے متعلق سامنے آنے والی شقوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ جلاوطن فلسطینی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اردن میں مقیم ہے جبکہ سینچری ڈیل میں جلاوطن فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔
 
اردنی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ سینچری ڈیل منصوبہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ عنقریب سینچری ڈیل کا سرکاری سطح پر باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف مقبوضہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق کی پامالی کے نتیجے میں فلسطینی جوانوں میں مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے رجحانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس جو اسرائیل سے مذاکرات کے شدید حامی ہیں، بھی سینچری ڈیل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس مخالفت کی بنیادی وجہ سینچری ڈیل میں فلسطینیوں کے بنیادی ترین حقوق یکسر طور پر نظرانداز کئے جانا ہے۔ ماضی میں مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل زیر بحث رہا ہے لیکن سینچری ڈیل میں آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا تصور ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 796989
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب