0
Thursday 30 May 2019 07:44

ایرانو فوبیا کا عملی جواب

ایرانو فوبیا کا عملی جواب
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے حالیہ دورہ عراق میں ایک ایسے معاہدے کی بات کی ہے، جو عرب دنیا کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں میں مسلسل گونج رہا ہے۔ وہ ایران جس سے خلیج فارس کے مختلف ممالک کو گذشتہ چالیس برسوں سے ڈرایا جا رہا تھا، اس ایران کے وزیر خارجہ نے عراقی وزیراعظم، صدر مملکت اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ ملاقات میں عدم جارحیت کے علاقائی معاہدے کی بات کی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب سے لے کر آج تک گذشتہ چالیس برسوں میں امریکہ نے ایران سے ڈرا دھمکا کر ان عرب ممالک سے کیا کیا مفادات حاصل نہیں کیے۔ امریکی حکومت کا کوئی بھی صدر یا اہم فرد دورے پر آتا تو ایران کو علاقہ کے لیے خطرہ قرار دے کر ان کو ہتھیار بیچ کر چلا جاتا، خلیج فارس کے ممالک امریکہ کی اسلحہ منڈی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے دورہ سعودی عرب میں بھی سینکڑوں ارب ڈالر کے اسلحے کے سودے ہوئے اور سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کو بھی شوق دلایا اور اس نے بھی بڑی مقدار میں ہتھیار خریدے۔ اب جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آئو علاقے میں عدم جارحیت کے حوالے سے معاہدہ کرتے ہیں تو خلیج فارس کے ان ممالک کو امریکہ سے ہتھیار خریدنے کی بجائے ایران کے ساتھ جلد سے جلد عدم جارحیت کا معاہدہ کر لینا چاہیئے، لیکن صورتحال برعکس ہے۔ ایرانی حکام عرصے سے اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ ایک اسلامی ممالک کا اتحاد تشکیل پا جائے، جو معاہدے میں شریک کسی بھی ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو اپنے اوپر جارحیت سمجھے اور اس کے بارے میں فوری ردعمل کا اظہار کرے۔

بعض افراد ایران پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ علاقے میں امن و سلامتی کے لیے ایران کوئی قدم نہیں اٹھاتا، حالانکہ ایران نے اس حوالے سے متعدد اقدامات انجام دیئے، لیکن عرب ممالک نے اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ ایک طرف ایران عدم جارحیت کے معاہدے کی پیشکش کر رہا ہے تو دوسری طرف سے متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے نئے معاہدے کیے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان چند ماہ پہلے جس معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، عرب میڈیا کے مطابق اس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ، یو اے ای کی فوجی طاقت کو مزید بہتر بنائے گا۔ ایران اور خلیج فارس ممالک کے درمیان مائنڈ سیٹ اور پالیسیوں کا یہی فرق ہے، ایران عدم جارحیت کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای ہر روز امریکہ سے جدید ہتھیار خرید رہے اور انہیں اپنے گوداموں میں جھونک رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 797007
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے