0
Sunday 2 Jun 2019 08:00

سنچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(5)

سنچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(5)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
اگر امت مسلمہ میں اس حقیقت کو آشکار کیا جائے کہ فلسطین کے داخلی غدار بالخصوص ماجد فرج، سعودی ولی عہد بن سلمان اور بیرونی عناصر کوشنر اور نیتن یاہو قبلہ اول اور مقدس شہر بیت المقدس کو یہودیانے کی سازش میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ امریکی صدر بیت المقدس کو صہیونیوں کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد نصف سے زائد فلسطین پر اپنے ناپاک پنچے گاڑھ رہا ہے اور اگر اب بھی امت مسلمہ بیدار نہ ہوئی تو مسئلہ فلسطین ایک نئے بحران  سے دوچار ہو جائے گا، جس کے حل کے لیے کئی گنا زیادہ قربانیاں دینا پڑیں گی۔ عالمی رائے عامہ کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے جہاں فلسطینیوں پر ہونے والے مطالم اور بالخصوص فلسطینی مہاجرین کی اپنے آبائی وطن کی عدم واپسی کو انسانی حقوق کی تنظیموں میں اٹھانے کی ضرورت ہے، وہاں عالمی اداروں اور عالمی عدالتوں میں ان مسائل کو پیش کیا جائے۔ سنچری ڈیل کے مقابلے میں ریفرنڈم ڈیل کا منصوبہ سامنے لایا جائے اور عالمی رائے عامہ کے سامنے اس بات کو رکھا جائے کہ فلسطینی عوام پر سنچری ڈیل نامی غیر منصفانہ منصوبہ
تھوپنے کی بجائے فلسطینی عوام کی رائے کو ریفرنڈم کے ذریعے پوچھا جائے۔

فلسطین کے حقیقی باشندے چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی، ان سے ان کی تقدیر کا فیصلہ کرایا جائے۔ ریفرنڈم کی تجویز کو عالمی رائے عامہ میں پیش کرنا نہ صرف سنچری ڈیل کے خلاف ماحول پیدا کرنے میں موثر واقع ہوسکتا ہے بلکہ ریفرنڈم کروانے کے حوالے سے بھی اسرائیل اور امریکہ وغیرہ پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے۔ سنچری ڈیل کے سامنے آنے کے بعد فلسطین اور عالم اسلام میں موجود ان تمام قوتوں کو اس بات کا ضرور احسسا ہوگیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل مذاکرات اور ساز باز بات چیت میں نہیں ہے۔ فلسطینی صرف اس صورت میں اپنی سرزمین کو واپس لے سکتے ہیں، اگر انہوں نے مقاومت اور استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ فلسطینی عوام نے اگر استقامت و مقاومت کے راستے کو ترک کیا تو اس کی قسمت اور مقدر میں سنچری ڈیل جیسے معاہدے اور معاملے ہی آئیں گے۔

سنچری ڈیل کے مندرجات آنے سے ایک اور بات واضح ہوگی ہے کہ امریکہ مسئلہ فلسطین میں ثالث نہیں بلکہ پارٹی ہے۔ امریکہ ابھی تک ایک عالمی طاقت اور ثالث کے روپ میں فلسطینیوں کے حقوق کا استحصال کر رہا تھا، اب اس کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، بے نقاب ہونے کی پہلی مکمل جھلک اس وقت بھی نمایاں ہوگی تھی، جب ڈونالڈ ٹرامپ نے بیت المقدس کو صہیونی حکومت کا دارالخلافہ قرار دیا تھا۔ آج امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ان باتوں کو یاد کرنا چاہیئے، جس میں آپ نے بار بار فرماتے تھے کہ اسرائیل کو پالنے والا امریکہ صہیونی حکومت کے خلاف کبھی کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ اسرائیل اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی قانونی قراردادوں اور فیصلوں کا کھلے عام مذاق اڑاتا تھا اور ان پر عمل درآمد سے انکار کرتا تھا، لیکن امریکہ نے اپنے اس لاڈلے اور بگڑے ہوئے ناجائز بچے کی کبھی اصلاح کی کوشش نہیں کی تھی۔ امریکہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ فلسطین کے حل میں ہرگز ثالت نہیں ہوسکتا۔

عالمی برادری اور عالمی اداروں کو سنچری ڈیل کے سامنے آنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو ایک ہی سکے کے دو رخ  قرار دینا ہوگا۔ سنچری ڈیل نے جہاں امریکہ کی جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کی پاسداری کا بھانڈا پھوڑا دیا ہے، وہاں ان تجزیہ نگاروں کی زبانوں پر بھی تالے لگا دیئے ہیں، جو رات دن اسرائیل کے جمہوری، آزاد اور انسانی حقوق کے پابند ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے۔ مغربی اور صہیونی میڈیا اسرائیلی حکومت کو جمہوریت اور امن پسند قرار دیتے ہوئے مظلوم اور نہتے فللسطینیوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دیتا تھا، لیکن سنچری ڈیل نے سب کے چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سنچری ڈیل کے حامی ممالک کی حقیقی ماہیت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی بیاں، عدل و انصاف اور سماجی و شہری حقوق سب کاغذی کارروائی ہے، عمل میں یہ سب ہٹلر، مسولینی اور صدام کے راستے پر گامزن ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 797029
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے