0
Friday 31 May 2019 22:13

پاراچنار، دھمکیوں کے نرغے میں قدس کی عظیم الشان ریلی

پاراچنار، دھمکیوں کے نرغے میں قدس کی عظیم الشان ریلی
رپورٹ: ایس این حسینی

آج جمعۃ الوداع کے موقع پر رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے حکم پر پوری دنیا کی طرح پاراچنار میں بھی خودکش دھماکوں پر مبنی دھمکیوں اور افواہوں کے باوجود القدس کی عظیم الشان احتجاجی ریلی منعقد ہوئی۔ تحریک حسینی کے سرپرست اعلی اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی کی قیادت میں القدس کی یہ عظیم الشان ریلی آج نماز جمعہ کے فورا بعد مدرسہ رہبر معظم پاراچنار سے برآمد ہوئی، جس میں سابقہ تمام ریکارڈز توڑتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں عوام و خواص شریک ہوئے۔ حسب سابق اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا یہ احتجاجی جلوس 3 بجے شہید پارک پہنچ گیا۔ جہاں اس نے ایک بہت بڑے جلسہ عام کی شکل اختیار کرلی۔

جلسے سے علامہ عابد الحسینی، تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری، تحریک کے نائب صدر مولانا حاجی عابد حسین، مرتضی حسین بنگش اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ القدس صرف فلسطین اور ایران کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبلہ اول ہونے کے ناطے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام اور دنیا کی سطح پر اٹھایا جائے اور اسے غاصب اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرانے کی مہم اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح عالمی سطح پر چلائی جائے۔ مقررین نے کرم انتظامیہ سے علاقائی بالخصوص طوری اور بنگش اقوام کے مسائل حل کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ یہاں کے دیوانی مسائل سمیت کرم کے تمام مسائل کو عدل و انصاف کی روشنی میں حل کرائے۔

خیال رہے کہ چند روز سے پاراچنار میں القدس ریلی پر خودکش حملہ ہونے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ اس حوالے سے پاراچنار اور صدہ میں سول اور فوجی انتظامیہ نے عوامی جرگے کروا کر امن برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیلیں کیں۔ انہوں نے واضح انداز میں یہ بھی اقرار کیا تھا کہ 23 جون 2017 کو جمعۃ الوداع کے موقع پر ہونے والے دو دھماکوں کا اصل ٹارگٹ بھی قدس جلوس خصوصا علامہ عابد حسینی ہی تھے۔ تاہم زبردست سکیورٹی پلاننگ کے باعث دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جلسے کے اختتام پر قومی اور عالمی مسائل پر مبنی قراردادیں پیش کی گئیں اور اسکے بعد امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں کو نذر آتش کرتے ہوئے جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ پہنچ گیا۔ جہاں مجلس عزا کے بعد جلوس اختتام پذیر ہوگیا۔

عالمی القدس ریلی 2019 کے موقع پر تحریک حسینی کی قراردادیں
1۔ مسئلہ قدس و فلسطین صرف فلسطین اور ایران ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ قبلہ اول ہونے کے ناطے یہ عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ غاصب اسرائیل کی جارحیتوں کے سامنے عالم اسلام کی خاموشی اور عالم عرب کے اسرئیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات خصوصا سینچری ڈیل نہایت معنی خیز ہے۔ چنانچہ مرکزی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو عالمی فورم میں اٹھا کر اسرائیل سے فلسطینیوں کا حق دلائے۔
2۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو دی جانے والی امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور واضح کر دیتے ہیں کہ ایران پر کی جانیوالی جارحیت کی صورت میں پاکستانی مسلمان ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دشمنان اسلام کو شکست و ہزیمت سے دوچار کرکے رکھدیں گے۔
3۔ مسئلہ بالش خیل کرم میں امن و امان کی روح ہے۔ اس کا بلکہ تمام دیوانی معاملات کا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے۔ مسئلہ کو طول دینے کی بجائے اسے فوری طور پر حل کرایا جائے اور علاقے پر رحم کھاتے ہوئے اسے قبائلی فسادات سے بچایا جائے۔
4۔ کرم بھر کے شاملات کی تقسیم ریونیو ریکارڈ کے مطابق کرواتے ہوئے ہر حقدار کو اسکا حق بہم پہنچایا جائے، نیز غیر قانونی قابضین کو بے دخل کرایا جائے۔

5۔ پاراچنار میں فوری طور پر عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے، کیونکہ ٹل یا کسی بھی اور مقام پر عدالت قائم ہونے کی صورت میں ہمارے امثلہ جات کے ضائع ہونے کے خدشات ہیں۔ لہذا ایسا کوئی بھی فیصلہ طوری اقوام کیلئے کسی صورت میں قبول نہیں۔
6۔ بالش خیل سے لیکر عمل کوٹ تک لوئر کرم کا علاقہ ہر طرح سے سرکاری مراعات سے محروم ہے۔ اسے اپر کرم قبول کرتا ہے، نہ ہی لوئر کرم۔ چنانچہ مذکورہ علاقے پر رحم فرما کر اسے الگ تحصیل قرار دیا جائے، تاکہ ضلع کرم کے نام پر آنے والے فنڈز سے آئندہ یہ علاقہ محروم نہ ہو۔
7۔ کرم ایجنسی کو مفلوج کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جن میں سب سے خطرناک حربہ جوانوں کو منشیات کی جانب ترغیب دینا ہے، چنانچہ منشیات فروشوں، ان کے اڈوں، سمگلروں نیز ان کے جملہ سرپرستوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔

8۔ 3 شعبان (11 مئی 2016ء) کو صدارہ میں پیش آنے والے سانحے میں ملوث عناصر کا عدالتی سطح پر ٹرائیل کرکے انہیں قرار واقعی سزا  دلائی جائے، نیز حکومت و تحریک کے مابین ہونے والے معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے سانحے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو معاوضہ دیا جائے۔
9۔ صدہ ہسپتال میں 30 اسامیوں پر بھرتیاں ہوئیں، جس میں ڈسٹرکٹ وائز میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام بھرتیاں صدہ اور سنٹرل کرم سے ہوئیں، جبکہ اپر کرم خصوصا پاراچنار کو سراسر نظرانداز کیا گیا۔ لہذا ان بھرتیوں کو منسوخ کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ وائز از سرنو بھرتیاں عمل میں لائی جائیں۔
10۔ نئے قائم ہونے والے عدالتی دفاتر میں کلیریکل اور کلاس فور افراد کی بھرتیاں میرٹ کی بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے کرواکر قانون و انصاف کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ لہذا ان بھرتیوں کو منسوخ کرکے میرٹ کی بنیاد پر از سرنو بھرتی کرائی جائے۔

11۔ لیوی کو بھرپور اختیارات دیئے جائیں۔ نیز پاراچنار، صدہ اور علی زئی میں ایس ایچ او لیوی فورس سے بھرتی کرائے جائیں، جبکہ سنٹرل کرم میں ایس ایچ او خاصہ دار فورس سے بھرتی کیا جائے، جبکہ خاصہ دار فورس سے ایس ایچ او کی غیر قانونی بھرتی کو فورا کالعدم قرار دیا  جائے۔
12۔ پاراچنار شہر میں پانی، بجلی، صفائی اور نکاسی آب کا دیرینہ مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے۔ نیز ضلع کرم کے تمام ٹیوب ویلز کیلئے شمسی توانائی کا بندوبست کیا جائے، تاکہ گریڈ سٹیشن پر لوڈ کم ہوسکے۔
13۔ کرم میں ہر سال ژالہ باری اور دوسری قدرتی آفات کی وجہ سے کسانوں کے ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصانات ازالہ کرنے کیلئے خصوصی سبسڈی دی جائے۔
14۔ کرم میں باولے کتوں کی بھرمار ہے، روزانہ دسیوں لوگوں کتوں  کے کاٹنے کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ غریب لوگوں میں ٹیکے لگوانے کی استطاعت نہیں ہوتی۔ چنانچہ ذمہ دار اداروں سے گزارش ہے کہ ہسپتال میں سرکاری سطح پر مفت ٹیکوں کا بندوبست کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 797167
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے