0
Friday 31 May 2019 23:55

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور تشویشناک صورتحال

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور تشویشناک صورتحال
تحریر: نادر بلوچ

صوبہ بلوچستان ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کے نشانے پر ہے، کوئٹہ کے ہزارہ گنجی بازار کا واقعہ، اس کے بعد اماڑہ میں چودہ جوانوں کی شہادت اور اس سانحہ کے کچھ ہی دنوں بعد گوادر جسے عموماً سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے محفوظ سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشتگرد سمندر کے راستے کشتی کے ذریعہ پہنچنے اور اپنا ٹارگٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی ہرگز توقع نہیں تھی کہ بی ایل اے کے دہشتگرد سمندر کے راستے سے بھی حملہ آور ہوسکتے ہیں، ایک غیر متوقع راستے سے دہشتگرد کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئے۔

عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں صرف بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اور خاص کر بی ایل اے ہی ایکٹو کردار ادا کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں دو اور بھی کالعدم تنطیمیں ہیں، جو صوبے میں محفوظ انداز میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں کالعدم لشکر جھنگوی اور جیش العدل نامی تنظیم شامل ہے، جبکہ ان تینوں تنظیموں کے آپس میں روابط اور ایک دوسرے کے لیے سہولت کاری کا کام بھی انجام دیتی ہیں، ایک دوسرے کو کارروائی میں سپورٹ کرتی ہیں۔ لشکر جھنگوی کی کارروائیاں عموماً ہزارہ شیعہ برادری کے خلاف ہوتی ہیں، اسی طرح جیش العدل نامی تنظیم سرحدر پار یعنی ایران مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے جبکہ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی تمام کارراوائیاں پاک فوج اور چائنیز ایکسپرٹس کے خلاف ہیں۔

یہ سوال کہ کیسے یہ تنظیمیں ایک دوسرے کے لیے سہولت کاری کا کام انجام دیتی ہیں، اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پچھلے سال 23 نومبر کو بی ایل اے کی جانب سے کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا، جس میں تینوں حملہ آوروں سمیت سات افراد مارے گئے، اس واقعہ کی ذمہ داری بی ایل اے کے اہم کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو نے قبول کی تھی، جو بعد میں افغانستان کے شہر قندھار میں خودکش دھماکے میں پانچ دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا تھا، اسلم بلوچ کی ہلاکت یہ چیز واضح کرتی ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگرد افغانستان میں قیام پذیر ہیں اور انہیں سی آئی اے اور ’’را‘‘ مکمل سپورٹ کر رہی ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی اعتراض اٹھاتے ہیں کہ بغیر ثبوت کے ’’را‘‘ کا نام کیوں لیا جاتا ہے، وہ اس لیا جاتا ہے کہ ہندوستان کے سکیورٹی ایدوائزر یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ وہ اپنا بدلہ بلوچستان اور کراچی میں لے رہے ہیں اور کچھ گروپوں کو سپورٹ کر رہے ہیں، اس کے علاوہ بی ایل اے کی جتنی بھی کارروائیاں ہوتی ہیں، اس کی ویڈیوز بھارت سے اپلوڈ کی جاتی ہیں اور زیادہ تر سوشل میڈیا اکاونٹس کا آئی پی ایڈریس کا کھرا بھی بھی بھارت جا پہنچتا ہے۔ ابھی پی سی ہوٹل کے بعد بی ایل اے کی بنائی جانے والی ویڈیو بھی ہندوستان سے ہی اپلوڈ کی گئی اور انہیں اکاونٹس سے زیادہ تر شیئر کی گئی۔

بات ہو رہی تھی بلوچستان میں تین دہشتگرد گروپوں کی تو یہ بات بھی واضح ہے کہ اب تینوں گروپ الگ الگ یکے بعد دیگرے اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بناتے ہیں، فروری میں جیش العدل نامی تنظیم نے ایران کے شہر زاہدان میں سپاہ پاسداران کی بس کو نشانہ بنایا تو اس کے کچھ ہی عرصے بعد لشکر جھنگوی نے داعش کے نئے روپ میں کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں کارروائیاں کیں، اس کے ایک ہفتے بعد ہی اماڑہ واقعہ ہوا اور اس کے کچھ ہی دنوں بعد پی سی ہوٹل کا واقعہ پیش آیا، تینوں گروپس بلوچستان سے آپریٹس ہوتے ہیں اور تینوں نے اپنے ٹارگٹس کو کامیابی سے نشانہ حاصل کیا ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ بات تشویش ناک ہے کہ بی ایل اے اب بولڈ اقدامات لے رہی ہے، گذشتہ سال چینی قونصلیٹ پر خودکش حملہ ہوا تو اماڑا میں پانچ بسوں سے لوگوں کو اتارا گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو شناخت کرکے نشانہ بنایا گیا، اس طرح سمندر کے راستے سے کشتی استعمال کرتے ہوئے گوادر میں پی سی ہوٹل مں گھسنا اور اپنے اہداف کو نشانہ بنانا سیکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے، بی ایل اے کا کہنا ہے کہ اہداف کے حصول کے بعد ان کے بندوں نے خود ہی اپنے آپ کو گولیوں سے مار ڈالا ہے۔

اس ناکامی کی کئی وجوہات ہیں، بڑی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں پولیس کا سسٹم نہیں ہے، جس کے باعث سکیورٹی برانچ کا سسٹم بھی نہیں، اس لیے کیسز رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور عدالتی کارروائیاں بھی نہیں ہو پاتیں، اسی لیے مسنگ پرنسز کا مسئلہ بھی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مسنگ ہونے والے افراد کا کیس عدالتوں میں جا نہیں پاتا اور پولیس نہ ہونے کے باعث کیسز آگے نہیں بڑھ پاتے، جبکہ لیویز اور ایف سی کی عام شہریوں تک اس طرح اپروچ نہیں ہوتی، جیسے پولیس کی ہوتی ہے، اس لیے عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ایک بڑا گیپ ہے، جسے فِل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ علیحدگی پسند تنظیمیں اپنے مکروہ اہداف کے حصول کے لیے لوگوں کے جذبات سے کھیلتیں رہیں گی۔
خبر کا کوڈ : 797319
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے