0
Saturday 1 Jun 2019 10:25

یوم القدس کی کامیاب ریلیاں اور حکمرانوں کا امتحان

یوم القدس کی کامیاب ریلیاں اور حکمرانوں کا امتحان
اداریہ
اس سال کا یوم القدس گذشتہ برسوں سے بھی زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا۔ یوم القدس اب ایک دن نہیں بلکہ تحریک اور موومنٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس سال یوم القدس کی مناسبت سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سیمینارز، جلسے، جلوس اور علمی نشستیں ہوئیں، تجزیہ نگاروں نے مقالات لکھے، الیکڑانک میڈیا نے بھی تمام تر پابندیوں کے باوجود یوم القدس کا ذکر ضرور کیا، البتہ سوشل میڈیا اس موضوع میں سب سے آگے نکل گیا، فلسطین کاز اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ترانوں، تصویروں، ویڈیو کلپس اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں مختصر تحریریں بھی بہت موثر رہیں، سوشل میڈیا نے فلسطینیوں کی مظلومیت کو نمایاں کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایران سمیت پچاس کے قریب ملکوں میں قدس ریلیاں یا احتجاجی مظاہرے ہوئے، امت مسلمہ میں فلسطین اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے ہمیشہ سے خصوصی ہمدردیاں موجود رہی ہیں، اگر امن ایشو کو صحیح طریقے سے امت مسلمہ کے اندر پیش کیا جائے تو تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا ہو سکتا ہے۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے اعلان اور مختلف ممالک میں گذشتہ چالیس برسوں میں القدس ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ اگر یوم القدس اور فلسطین کے مسئلے کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے تو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کے علامت بن سکتا ہے۔ فلسطین اور قبلہ اول کا مسئلہ ماضی میں بھی مسلمانوں کا سب سے اہم اور ترجیحی مسئلہ تھا اور آج بھی اس کی اہمیت اور افادیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس سال کا یوم القدس سنچری ڈیل کی مذمت کے سلوگن سے منایا گیا، امت مسلمہ کے جس فرد تک سنچری ڈیل کی معمولی تفصیلات پہنچیں، اس کی طرف سے سخت ردعمل کا اطہار کیا گیا۔

یوں بھی یوم القدس کی ریلیوں میں منظور کی جانے والی قراردادوں اور ریلیوں اور مظاہرین سے خطاب کرنے والے مقررین نے جس شدت سے سنچری ڈیل کو مسترد کیا ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان عوام سنچری ڈیل جیسی منحوس اور طالمانہ ڈیل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، اب ساری ذمہ داری مسلمان حکمراںوں پر آ پڑی ہے۔ مسلمان عوام نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کر دیا، اب مسلمان ممالک کے حکمران مسئلہ فلسطین کے تناظر میں سنچری ڈیل پر اپنا موقف واضح کریں۔ سعودی عرب میں منعقدہ او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے لیے ایک کڑا امتحا ہے کہ وہ آل سعود، آل خلیفہ اور ان کے آقائوں امریکہ و اسرائیل کی خواہشات پر لبیک کہتے ہیں یا سنچری ڈیل کو مسترد کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 797367
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے