0
Saturday 1 Jun 2019 11:09

لاہور قدس کی آزادی کیلئے مال روڑ پر اُمڈ آیا، سنچری ڈیل بھی مسترد

لاہور قدس کی آزادی کیلئے مال روڑ پر اُمڈ آیا، سنچری ڈیل بھی مسترد
لاہور سے ابوفجر کی رپورٹ

جمعۃ الوداع  کو دنیا بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم القدس منایا گیا۔ اس حوالے سے لاہور میں مال روڈ پر 2 مرکزی جلوس برآمد ہوئے جبکہ تیسرا بڑا جلوس ایجرٹن روڈ پر نکالا گیا، جو لاہور پریس کلب سے  پی آئی اے بلڈنگ تک پہنچا۔ مال روڈ پر برآمد ہونے والے جلوسوں میں ایک جلوس کا اہتمام تحریک بیداری امت مصطفیٰ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کی قیادت علامہ سید جواد نقوی نے کی جبکہ دوسرا جلوس ’’تحریک آزادی قدس‘‘ کے زیراہتمام تھا، جس میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس جلوس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کی۔ ایجرٹن روڈ سے برآمد ہونیوالے جلوس کا اہتمام شیعہ علماء کونسل کی جانب سے کیا گیا تھا جبکہ اس کی قیادت ایس یو سی پنجاب کے صدر علامہ سبطین سبزواری نے کی۔

کراچی میں 19 سال بعد پہلی بار باہمی اتحاد کا مظاہرہ دیکھا گیا کہ یوم القدس کے جلوس میں شیعہ علماء کونسل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے مشترکہ شرکت کی۔ باہمی وحدت کے اس مظاہرے کو پورے ملک میں سراہا گیا، تاہم لاہور میں اس وحدت کا فقدان نمایاں رہا۔ ایک کاز، ایک مقصد اور ایک منزل کیلئے تین الگ الگ ریلیوں کا اہتمام اس بات کا عکاس تھا کہ دلوں میں ابھی کچھ کدورت موجود ہے، اگر جلوس کے منتظمین وحدت کا مظاہرہ کرتے اور تین جلوسوں کی بجائے ایک جلوس نکالا جاتا تو افرادی قوت کیساتھ ساتھ ’’اتفاق‘‘ کی برکت کے ثمرات زیادہ دکھائی دیتے۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے مسائل کی بنیادی وجہ ہی باہمی افتراق و انتشار ہے۔ اگر امتِ مسلمہ اپنے اپنے فرقوں کے حصار سے نکل کر ’’اسلام ناب محمدی‘‘ کی پیروی کرے اور رسول کریم (ص) کی ہدایت کہ ’’امت جسد واحد کی مانند ہے‘‘ پر عمل کرتے یا قرآن کے حکم ’’واعتصمو بحبل اللہ جمعیاً ولا تفرقو‘‘ کو تسلیم کر لیتے تو امتِ مسلمہ کے تمام مسائل ہی حل ہو جاتے۔ مظلوم فلسطینی صرف امت کے افتراق کے باعث اسرائیلی مظالم سہہ رہے ہیں۔ امت میں وحدت ہوتی تو بیت المقدس کب کا آزاد ہوچکا ہوتا۔

لاہور میں سب سے بڑی ریلی تحریک بیداری امت مصطفی کی تھی، جس میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے طلبہ، جامعہ ام الکتاب کی طالبات سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ریلی میں علماء کرام کی بھی ایک کثیر تعداد شامل تھے۔ علامہ سید جواد نقوی نے مال روڈ پر پینوراما سنٹر کے سامنے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ ناجائز صیہونی ریاست کے تحفظ کیلئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظالم اور پاگل پن کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دے کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو عالمی مسئلہ بنا دیا اور اب ان شا اللہ دنیا بھر کے غیرتمند مسلمان فلسطین کی آزادی تک اس تحریک کو جاری رکھیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے بہت جلد دنیا اسرائیل کی نابودی اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام دیکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رہبر معظم امام خامنہ ای فلسطینی تحریک کے روح رواں ہیں، جبکہ قائد مقاومت سید حسن نصر اللہ کی قیادت میں حزب اللہ اسرائیل کے مقابلے میں کامیابیاں حاصل کرے گی اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ذلت و رسوائی کیساتھ منہ کی کھانی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ سنچری ڈیل یہ ہے کہ فلسطینیوں سے ان کی سرزمین کو قیمتاً خرید لیا جائے، اب امریکہ کی کوشش ہے کہ عرب ملک مل کر فلسطینیوں کو زمین کے پیسے دے دیں اور فلسطینی اپنا ملک بیچ کر کہیں اور جا آباد ہوں اور اس مقصد کیلئے مصر میں کچھ اراضی بھی مختص کی جا رہی ہے۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ ٹرمپ نے اس مقصد کیلئے 10 ارب ڈالر دینے کی پیش کش کی ہے، محمود عباس سے بھی بات کی گئی ہے، اگر ٹرمپ کا یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے مقابل میں کشمیر کی آزادی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، جو کچھ اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے، مودی بھی کشمریوں کی زمین خرید کر آبادی کا توازن بگاڑ رہا ہے۔
 
ادھر تحریک آزادی قدس ریلی سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ پاکستان کے غیور عوام نے شدید گرمی میں روزے کی حالت میں بھی اپنے بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نکل کر امام خمینی کے حکم پر اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرکے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق کیساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کیخلاف مظالم رکوانے کیلئے امت مسلمہ کو یکجا ہونا ہوگا۔ ہم فلسطین، یمن، کشمیر سمیت تمام مظلوم مسلمانوں کے حامی اور مددگار رہیں گے اور دشمن کی شکست تک میدان میں استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں گے۔ کشمیر پر بھارتی تسلط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کو بھی کشمیر میں قتل عام بند کرنا ہوگا کیوں کہ کشمیر پر بھارتی تسلط غاصبانہ ہے، جس سے جلد چھٹکارا پا کر کشمیری مسلمان فتح حاصل کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ فلسطینیوں کی آزادی بہت قریب ہے، وہ جلد ہی آزادی کا سورج دیکھیں گے۔
 
ایجرٹن روڈ سے برآمد ہونیوالی ریلی سے خطاب میں ریلی سے خطاب میں علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ فلسطین فقط عرب ہی نہیں پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ امام خمینی نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دے کر فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی عملی حمایت کی ریت کا اعلان کیا۔ جس پر امت مسلمہ کے تمام طبقات اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ اب اہلسنت برادران کی کچھ تنظیموں نے بھی فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے کرنا شروع کئے ہیں۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ اسرائیل کے پنجوں سے بیت المقدس کو آزاد کروانے کیلئے شیعہ سنی اتحاد کے ساتھ ایران اور سعودی عرب تنازع کو بھی ختم کرنا چاہیئے، حکمران بھی امریکہ کی خوشنودی کی بجائے، فلسطینیوں کے حقوق کیلئے حماس اور حزب اللہ کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف قدم فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگا اور شدید عوام ردعمل آئے گا۔یوم القدس کی مناسبت سے لاہور میں نکالی جانیوالی ریلیاں الگ الگ ضرور تھیں، مگر ان کا مقصد ایک تھا اور وہ بیت المقدس کی پنجہ یہود سے آزادی تھا۔ اس موقع پر درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے جہاں بیت المقدس کی آزادی کی دعا کی، وہیں ملت جعفریہ پاکستان کی باہمی وحدت کیلئے بھی دست دعا بلند کرتے ہوئے ملت کی سرفرازی کی دعائیں بھی کیں۔
خبر کا کوڈ : 797372
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے