0
Friday 31 May 2019 06:24

قدس کی آزادی، پاکستان میں ایک توانا آواز

قدس کی آزادی، پاکستان میں ایک توانا آواز
رپورٹ: ایس اے زیدی

مسلمانوں کے قبلہ اول پر صہیونی قبضہ کو امت مسلمہ کی ایک واضح اکثریت نہ صرف مسترد کرتی ہے بلکہ اس اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کی جاتی ہے۔ رہبر کبیر انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی رہ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس کے نام سے منسوب کرنے کا تاریخی قدم اٹھایا، امام خمینی رہ کے اس اقدام سے امریکی و صہیونی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا اور بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ و بے گناہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف باقاعدہ تحریک کا آغاز ہوا۔ برادر اسلامی ملک ایران سے جنم لینے والی اس تحریک نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی مسلم ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، بلکہ بعض یورپی اور غیر مسلم ممالک میں بھی یوم القدس کی ریلیاں نکلنا شروع ہوگئیں۔ وطن عزیز پاکستان میں عالمی یوم القدس کا بانی طلبہ تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو سمجھا جاتا ہے، اسلامی انقلابی جذبہ سے سرشار امامیہ طلبہ نے سرزمین پاکستان پر مردہ باد امریکہ اور نامنظور اسرائیل کے شعار کو جلا بخشی، بعدازاں تحریک جعفریہ نے امامیہ جوانوں کیساتھ ملکر اس سلسلے کو مزید مضبوط انداز میں آگے بڑھایا۔ یوں پاکستان میں یوم القدس ایک عوامی ایونٹ کے طور پر سامنے آنے لگا۔

آہستہ آہستہ یوم القدس کی اہمیت دیگر مکاتب فکر کے جید علمائے کرام بھی تسلیم کرنے لگے تھے، تاہم چونکہ یوم القدس کا بیڑہ مکتب اہلیبت ع کے ماننے والوں نے اٹھایا تھا، شائد امت مسلمہ سے اس بنیادی مسئلہ کو مسلکی عینک سے دیکھا جا رہا تھا۔ امامیہ آرگنائزیشن اور اصغریہ آرگنائزیشن نے مسلسل یوم القدس میں اپنے آپ کو میدان میں حاضر رکھا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود مختلف اہم شیعہ علمائے کرام، مدارس اور اداروں کے ذمہ داران بھی اس عالمی تحریک کا حصہ بنے رہے۔ شیعہ جماعت مجلس وحدت مسلمین کے قیام کے بعد یوم القدس منانے کی تحریک مزید مضبوط ہوئی اور ملک بھر میں یہ سلسلہ منظم انداز میں پھیلنے لگا۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے غیر سیاسی پلیٹ فارم ملی یکجہتی کونسل میں بھی یوم القدس کو مشترکہ طور پر منانے کا معاملہ زیر غور آیا، اور مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ جماعتوں نے اس پلیٹ فارم کے سائے تلے یوم القدس منانے کا اعلان کیا۔ اب ملک کے مختلف شہروں میں ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے مشترکہ ریلیوں کی روایت بھی پڑ چکی ہے۔ یہاں خاص طور جماعت اسلامی کا کردار انتہائی مثبت رہا ہے، جماعت اسلامی نے دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی نسبت مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کو کسی نہ کسی طرح اجاگر رکھنے کی کوشش کی۔

شیعہ جماعتوں میں علامہ سید حامد علی موسوی کی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ایک غیر سیاسی و غیر انقلابی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے، تاہم ٹی این ایف جے کی جانب سے بھی گذشتہ چند سالوں سے مسئلہ بیت المقدس پر بات کی جانے لگی ہے، اس مرتبہ علامہ حامد موسوی نے بھی جمعۃ الوداع کو یوم القدس اور حمایت مظلومین کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا۔ بیت المقدس کی صہیونی پنجوں سے آزادی کیلئے شروع کی جانے والی اس عالمی تحریک کو بعض معتصب قوتوں نے مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی، کیونکہ اس تحریک کی بنیاد امام خمینی رہ نے ڈالی تھی، لہذا امریکی ٹکروں پر پلنے والے بعض مسلم حکمرانوں اور نام نہاد اسلامی تحریکوں (شدت پسند ملاوں) نے محض انقلاب اسلامی اور مقاوومتی قوتوں کی مخالفت میں قدس کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ امام خمینی رہ نے ہمیشہ اسلام اور امت مسلمہ کی بات کی، نہ کہ کسی خاص مسلک اور قوم کی۔ آیت اللہ خمینی رہ نے فلسطین اور بیت المقدس کو ملت اسلامیہ کا مسئلہ قرار دیا تھا، واضح رہے کہ نہ تو اس وقت فلسطین میں کوئی امام خمینی رہ کا ہم مسلک آباد تھا، اور نہ ہی اس تحریک سے ایران کو بظاہر کوئی سیاسی و دنیاوی مفاد تھا۔

وقت گزرنے کیساتھ ساتھ پاکستان میں یوم القدس کو پذیرائی ملتی گئی اور آج ملک بھر کے گوش و کنار میں مسلمانوں کے قبلہ اول کی آزادی، فسلطینیوں کی حمایت میں اور اسرائیلی مظالم کیخلاف شیعہ، سنی ملکر ریلیاں نکال رہے ہیں۔ پاکستان امت مسلمہ کے ان گنے چنے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں اسرائیل اور امریکہ کیخلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، خاص طور پر صہیونی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے پاکستانی قوم زیرو ٹالرینس پر کھڑی ہے۔ اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو امریکہ نہ سہی تاہم اسرائیل کے حوالے سے لگ بھگ پاکستان کی تمام بڑی لبرل سیاسی جماعتیں بھی بظاہر واضح موقف پر دکھائی دیتی ہیں۔ ہر دور حکومت میں پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں کے اظہار یکجہتی و ہمدردی سمیت اسرائیلی مظالم کی مذمت کی گئی اور اسے قومی پالیسی قرار دیا گیا، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بات مذمت سے کچھ آگے لیجائی جائے، پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے اور اسرائیل بھی پاکستان کے وجود کو اپنے عزائم کی تکمیل میں ایک رکاوٹ سمجھتا ہے، لہذا حکومت پاکستان کو اس حوالے سے اپنے موقف میں مزید سختی لانے اور یوم القدس کو سرکاری طور پر منانے کی ضرورت ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق برادر اسلامی ملک ایران کے بعد پاکستان میں آج عالمی یوم القدس کی مناسبت سے سب سے زیادہ ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، پاکستان میں شدید گرمی کے باوجود شیعہ، سنی مسلمان لاکھوں کی تعداد میں روزہ کی حالت میں اپنے قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں آج سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے ویژن کے مطابق دنیا بھر کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کی اسلام دشمنی اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کو نہ کبھی تسلیم کیا تھا اور نہ ہی کبھی کریں گے۔ آج پاکستان سمیت دنیا کے 45 سے زائد ممالک میں یوم القدس کی مناسبت سے نکالی جانے والی ریلیاں یقیناً امام خمینی رہ کی جانب سے امت مسلمہ پر کئے جانے والا احسان عظیم ہے۔ پاکستان میں بلاشبہ اس تحریک کو تقویت بخشنے کا کریڈٹ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے جوانوں کو جاتا ہے، جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود قبلہ اول کی آزادی اور امریکہ و اسرائیل کیخلاف آواز بلند کرنے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور آج اسی بدولت قدس کی آزادی کا شعار پاکستان میں ایک مضبوط اور توانا آواز بن چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 797502
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب