0
Sunday 2 Jun 2019 10:40

امریکہ کی وزارت خارجہ کا عرب ماڈل

امریکہ کی وزارت خارجہ کا عرب ماڈل
اداریہ
زمان و مکان کسی بھی اقدام کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں بعض اوقات زمان و مکان فیصلے کی نوعیت کو بھی بدل دیتے ہیں۔ بہت سے ماہرین جب بھی کسی اہم ایشو کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس میں زمان و مکان کو ضرور مدنظر رکھتے ہیں بعض امور زمان کے عنوان سے جبکہ بعض مکان کے حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا کوئی ہنگامی اجلاس اگر یوم القدس کے ایام میں مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں منعقد ہو رہا ہو تو مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لینے والوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج مشرق وسطی امریکہ اور اس کے ناعاقبت اندیشی اتحادیوں کی وجہ سے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بارود کے اس ڈھیر میں معمولی چنگاری بھی خطے کے ممالک کو ایسے بحران میں مبتلا کر سکتی ہے جس کا ازالہ بھی ممکن نہ ہو۔ امریکہ نے ابراہیم لنکن نامی جنگی بحری بیڑا خلیج فارس کے لیے روانہ کر دیا ہے۔ بدنام زمانہ فلسیطن و فلسطینی مخالف سنچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین ایک صفحے پر ہیں اس سنچری ڈیل کے لیے ۱۲۰ ارب ڈالر کا بجٹ بھی مختص کر دیا گیا ہے جس کا 70% عرب ممالک اور 20% امریکہ اور دس فیصد یورپی ممالک دیں گے۔

دوسری جانب اس سنچری ڈیل اور یوم القدس کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمان مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعتہ الوداع کو سڑکوں پر نکلے، ان حالات میں مکہ مکرمہ میں او آئی سی اور جدا میں جی سی سی نیز عرب لیگ کا سربراہی اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ اس اجلاس کو زمان و مکان کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ امت مسلمہ کو سعودی فرمانروا ملک سلمان نے او آئی سی اور عرب دنیا کو جی سی سی اور عرب لیگ کے اجلاس میں مشغول کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان ممالک میں یوم القدس کی مناسبت سے جو عوامی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں وہ پس منظر میں چلے جائیں اور علاقائی و عالمی میڈیا او آئی سی کے وزرائے خارجہ اور سربراہی اجلاس کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں اور سنچری ڈیل کا معاملات منظر عام پر نہ آ سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ملکر امریکہ کی وزارت خارجہ ک بی ٹیم بن کر ایران کے خلاف عالمی یا علاقائی اتحاد بنانے کی کوشش کی ہے لیکن اس میں امریکہ کو پہلے کی طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور عرب ممالک کو ایسی شرمندگی نصیب ہو گی کہ وہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 797531
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے