0
Sunday 2 Jun 2019 20:38

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(1)

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(1)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

4 جون 2019ء آج امام خمینی کی رحلت کو 30 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، امام خمینی ایک ایسی مجاہد اور مبارز شخصیت تھے، جنہوں نے اپنے عمل و کردار سے انسان کی عزت و کرامت کو بام عروج تک پہنچایا اور طاغوت و سامراج کے خلاف قیام کرکے عزت و سربلندی کے پرچم کو سربلند کر دیا۔ آپ کی زندگی اور سیرت کے کئی پہلو ہیں، لیکن آپ نے انقلابی نطریات کو پیش کرکے اور ان پر عمل درآمد کرکے مظلوموں کو ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھا دیا۔ امام خمینی نے مسلط کردہ نظاموں کے خلاف اقوام کر بیدار کیا اور عالمی سامراجی طاقتوں کے خلاف قیام کرنے کا حوصلہ دیا۔ امام خمینی نے اپنی پوری زندگی میں حق کے اظہار اور حق کے دفاع نیز مظلوم کی حمایت میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔

امام خمینی باطل اور سامراج کے مقابلے میں ایک ننگی تلوار کی مانند تھے، وہ کسی دھمکی، رعب، وحشت اور خطرات سے نہیں ڈرتے تھے۔ دنیا کی دو بڑی سپر طاقتوں روس اور امریکہ نے امام خمینی کو اپنے راستے سے ہٹانے اور اسلامی انقلاب کی تحریک کمزور کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں، لیکن امام خمینی کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش اور تزلزل پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔ امام خمینی کی انہی صفات نے نہ صرف انہیں زندگی میں مقبول و محبوب رکھا بلکہ اب جبکہ آپ کی رحلت کو تین عشرے مکمل ہونے کو ہیں، امام خمینی اب بھی محروموں و مستضعفوں اور انقلابیوں کے قلب و ذہن میں زندہ ہیں۔ آج کی نئی نسل بھی آپ کے انقلابی اظہارات و اقدامات کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتی ہے اور اس راستے کو زندہ رکھنے کے لیے آمادہ وہ تیار نظر آتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام خمینی کی مدبرانہ قیادت میں ایران کے اسلامی انقلاب نے تمام سامراجی طاقتوں کو ماضی میں بھی اور اب بھی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب دنیا کے ہر محروم طبقہ کے لیے ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ ایک قوم مخلص قیادت کی سربراہی میں خالی ہاتھ بھی جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے مقابلے میں صف آراء ہو کر مطلوبہ نتیجہ حاصل کرسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر عالمی طاقتوں کے اندازوں اور طاقت کے توازن کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اس سال امام خمینی کی برسی کے ایام ایسے عالم میں آئے ہیں کہ اسلام کے دشمنوں نے اسلام اور امام خمینی کے افکار و تعلیمات کو جدید فتنے سے کمزور کرنے کی ٹھانی ہے۔ آج امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ممالک ایران کی روز افزوں ترقی اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیاسی و سماجی اثر و نفوذ سے خوفزدہ ہیں، وہ ایران کے اس اثر و رسوخ کو منفی انداز میں پیش کرکے ایک نئی سازش تیار کر رہے ہیں۔

ایران کے اسلامی انقلاب نے اپنی آزادی، خود مختاری اور جمہوریت سے خطے کے عوام میں امید کی کرن روشن کی ہے۔ آج خطے کی انقلابی قوتیں امام خمینی کے سامراج دشمن افکار و نظریات پر یقین کرتی نظر آرہی ہیں اور امام خمینی کے ان افکار و نظریات کی وجہ سے وہ اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کے خلاف اپنے عزم کو بالجزم کر رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سامراجی طاقتوں نے ایرانو فوبیا اور اسلامو فوبیا کے ذریعے خطے میں اسلامی جمہوری ایران کے تعمیری کردار کو مسخ کرکے پیش کرنے کی شیطانی سازش رچائی ہے۔ سامراجی طاقتیں اپنی عجز و ناکامی کا اعتراف نہیں کرتیں، لیکن عملی میدان میں ان کے تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب کے راستے کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

سامراجی طاقتیں اس وقت تکفیری سوچ کے ذریعے اسلامی انقلاب کے راستے میں بند باندھنا چاہتی ہیں اور اسی ہدف کی تکمیل کے لیے تکفیری گروہوں کو ایران کے ہمسایہ ممالک عراق و شام میں سرگرم و فعال کیا گیا تھا، جو ناکام ہوگیا۔ تکفیری سازشوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی حربہ بھی ایران کے خلاف عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے نکل کر ایران کے خلاف ظالمانہ اور یک طرف اقتصادی پابندیاں عائد کرکے ایران کے اسلامی انقلاب پر ایک اور کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے، لیکن سامراجی طاقتیں شاید ایران کے اسلامی انقلاب کے بنیادی فلسفے سے آشنا نہیں ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتصادی پابندیوں سے ایران کو اس کے انقلابی نظریات اور محروموں اور مستضعفوں کی مدد و امداد سے روک لیں گے، لیکن ایران کی گذشتہ چالیس سالہ تاریخ نے اس کو مکمل طور پر غلط ثابت کیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ کے یہ ہتھکنڈے ایک بار پھر برعکس نتائج مرتب کر رہے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب اور اس کے توحیدی اثرات صرف ایران کے اندر تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ نور ہدایت دنیا کی مختلف اقوام کے قلب و ذہن کو منور کر رہا ہے۔ دشمن کو جان لینا چاہیئے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کا پیغام طلم و ستم کے خلاف بیداری و قیام کا پیغام ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے امام خمینی کے افکار و نظریات کو اپنے لیے نصب العین قرار دیتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت اور سامراج کے خلاف قیام و مبارزے کو اپنے لیے مشعل راہ قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراج دشمنی اسلامی انقلاب کا وہ نعرہ ہے، جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ امریکہ نے گذشتہ چار عشرون میں ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے اور اس کے سامراج اور استکبار دشمن سلوگن کو تبدیل کرنے کے ہر طرح کے حربے استعمال کیے۔ معروف ایرانی محقق منوچہر محمدی اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے کامیابی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل جنگ کا آغاز ہوگیا۔ ایران نے سامراج دشمنی پر مشتمل اپنے نظریئے کو ہمیشہ انقلاب کا بنیادی سلوگن قرار دیا۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 797539
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے