0
Monday 3 Jun 2019 23:37

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(2)

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
آج بھی ایرانی عوام رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں امام خمینی کے سامراج مخالف نطریئے کو لے کر اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور جب تک یہ جذبہ اور عزم زندہ و تابندہ رہے گا، کوئی طاقت ایران کے اسلامی انقلاب کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ امام خمینی کے بارے میں دوست دشمن سب یہی تجزیہ کرتے ہیں کہ ان کی تمام انقلابی صفات میں سامراج دشمنی کی صفت تمام صفات پر غالب نظر آتی ہے۔ امام خمینی کی ذات اور ان کے افکار و نظریات سے سامراج کی دشمنی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کو برپا کرکے دوسرے اسلامی ممالک کے عوام کو بھی ایک راستہ بتایا ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں اس انقلاب کو مثال اور نمونہ قرار دے کر سامراج کے غلبہ سے آزاد ہوں۔ ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کہتے ہیں، آج اسلام اور اسلامی اقدار کی برکتوں سے اسلامی بیداری علاقے میں ایک عظیم آزمائش اور امتحان سے گزر رہی ہے۔ اس اسلامی بیداری کا بنیادی نعرہ سامراج سے بیزاری اور آزادی کا نعرہ ہے۔ اس بیداری کا پہلا نتیجہ سامراجی طاقتوں کے خلاف عوام کا سراپا احتجاج ہونا ہے۔

ایران کے اسلامی انقلاب کا نعرہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا، بلکہ آج یہ نعرہ اور نظریہ ایک آئیڈیل اور مثالی نمونے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے، جس نے نہ صرف ملت ایران کی تقدیر و سرنوشت کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ دوسری قوموں اور ملتوں کو بھی اس راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ امریکہ کے معروف تجزیہ نگار نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی ایران دشمنی کی بنیادی وجہ ایران کے اسلامی انقلاب کا سامراج دشمن ہونا نیز سامراجی طاقتوں کے تسلط پر سرتسلیم خم نہ کرنا ہے۔ نوم چومسکی مزید کہتے ہیں، ایران جب تک آزاد و خود مختار رہے گا اور امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا، امریکہ کی جانب سے دشمنی اور عداوت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امریکہ ایران کو ہرگز قبول نہیں کرے گا، چونکہ ایران اپنی خود مختاری اور آزادی سے باز آنے والا نہیں ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب نہ صرف ایران کے اندر بنیادی تبدیلیوں اور ایران میں اسلامی و انسانی اقدار کے نفاذ کا باعث بنا بلکہ اس انقلاب نے عالمی سطح پر بھی ایک نئے سیاسی و سماجی نطام کو متعارف کرایا۔

ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت اور طاقت کے توازن پر نمایاں اثر مرتب ہوا۔ رہبر انقلاب اسلامی بارہویں صدارتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر ایران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ایران کی نئی نسل اور نوجوانوں نے اسلامی انقلاب سے پہلے کی صورت حال کا مشاہدہ نہیں کیا ہے۔ امام خمینی نے ایرانی قوم کو ساتھ لے کر جو عظیم انقلاب برپا کیا اور سامراجی طاقتوں کو ایران سے نکال باہر کرکے جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس نے ایران کی قوم و ملت اور حکومت کی سمت اور اہداف کو بدل کر رکھ دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی ایران کے خلاف مختلف سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، گذشتہ برسوں میں امریکہ کے موجودہ حکمرانوں کی طرح گذشتہ حکمرانوں نے بھِی واضح طور پر ملت ایران سے دشمنی کی ہے، ان میں بعض نے ریشمی دستانے ہاتھ پر چڑھا کر دشمنی کی ہے، لیکن یہ تمام منفی ہتھکنڈے اس بات کا باعث بنے کہ آج ایران کے عوام اور حکام کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور انہون نے دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف راستے تلاش کیے۔

امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد یہ کوشش کی تھی کہ اس انقلاب کو اوائل ہی میں ختم کر دیں، لیکن سامراجی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود آج ایران مشرق وسطیٰ میں ایک مقاومت اور استقامت کے مضبوط اور قومی بلاک میں تبدیل ہوچکا ہے اور اسے بلاشک و شبہ امریکہ اور اس کے حواریوں کی شکست فاش قرار دیا جا سکتا ہے۔ آج اس انقلاب کو چالیس سال پورے ہوگئے ہیں، لیکن آج بھی بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کے افکار و نظریات اور بلند و بالا امنگیں زندہ و تابندہ ہیں۔ امام خمینی اپنے الہیٰ وصیت نامے میں لکھتے ہیں،  ہماری قوم، امت مسلمہ بلکہ تمام مستضعفین جہاں کو اس بات کا فخر ہے کہ ان کے دشمن خدا، قرآن اور اسلام کے دشمن ہیں۔ ہمارے دشمن درندہ صفت لوگ ہیں، جو اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی جرم اور ظلم و ستم سے دریغ نہیں کرتے، وہ اپنے گھٹیا اور پست مفاد اور اقتدار تک پہنچنے کے لیے دوست دشمن کو نہیں پہچانتے۔

ان میں ریاستی دہشت گردی کا حامی امریکہ سرفہرست ہے، جس نے پوری دنیا میں آگ لگا رکھی ہے اور اس کا اتحادی اسرائیل ہے، جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ایسے ایسے وحشیانہ جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے کہ قلم اسے لکھنے اور زبان بیان کرنے سے شرمندہ ہے۔ انقلاب اپنے راستے پر گامزن ہے اور اس کا مستقبل امید اور نشاط و مسرت سے مالا مال ہے اور اس انقلاب کا سفر جاری رہے گا۔ جس انقلاب اور نظام کے بانی امام خمینی تھے، وہ نہ ٹرامپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوتا ہے اور نہ امریکی جنگی بیڑا "ابراہم لنکن" خلیج فارس میں آکر ایرانی قیادت اور عوام کو ڈرا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب اپنی نمو، رشد اور ترقی و ارتقاء کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور آج ایک بار پھر بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی 30 ویں برسی پر اپنے رہبر و رہنما سے تجدید عہد کر رہا ہے کہ وہ اس عظیم اسلامی انقلاب کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 797546
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب