0
Sunday 2 Jun 2019 11:59

امام خمینیؒ کے 30 سال بعد کا ایران

امام خمینیؒ کے 30 سال بعد کا ایران
تحریر: ثاقب اکبر
 
4 جون 2019ء کو بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی تیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ مختلف شعبوں میں آج کا ایران کہاں کھڑا ہے۔ اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور دیگر شعبوں میں ایران نے کس قدر پیش رفت کی ہے۔ سیاسی امور پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ایران کی آج کی فوجی طاقت کا جائزہ بھی لینا چاہیئے۔ امام خمینی کی زندگی میں جس خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی گئی تھی، کیا آج کا ایران اسی پر قائم ہے، یہ سوال بھی بہت اہم ہے۔ ایران کی موجودہ روحانی قیادت اور حکومتی قیادت کے حوالے سے بھی بات کی جانا چاہیئے۔ حکومت پر عوام کے اعتماد کی نوعیت بھی لائق اعتنا ہے۔ آج کے ایرانی عوام اور خصوصاً نوجوان طبقے کی اخلاقی حالت کا تقابلی مطالعہ بھی اس ضمن میں اہمیت رکھتا ہے۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں پیش رفت پر بات کرنا بھی اہم ہے۔ مذکورہ اور دیگر اہم شعبوں پر حقیقی ناقدانہ نگاہ ڈالے بغیر آج کے ایران کی صحیح اور پوری تصویر ابھر کر سامنے نہیں آسکتی، جبکہ ایک مختصر سے مقالے میں ان میں سے کسی ایک شعبے پر بات کرنے کا حق بھی ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے ان عناوین و موضوعات کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ قارئین یہ امر پیش نظر رکھیں کہ ہمارا موضوع کتنا پہلو دار ہے۔ اس حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ ایران کی پیش رفت کی قدر پیمائی اس کے خلاف عائد پابندیوں اور کھڑی کی گئی مشکلات کو سامنے رکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ بہرحال ہم ذیل میں چند اہم نکات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
 
امام خمینی کی قیادت میں آنے والے انقلاب کا خارجہ پالیسی کے حوالے سے بنیادی نعرہ یہ تھا کہ تہران کے فیصلے تہران میں کیے جائیں، کہیں اور نہیں۔ اس دور کی دو بڑی طاقتوں کو سامنے رکھ کر ہی لاشرقیہ ولا غربیہ، جمہوریہ اسلامیہ کا شعار بلند کیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایران آج بھی اس پالیسی پر گامزن ہے کہ ایران کی قسمت کے فیصلے کہیں اور نہیں بلکہ تہران میں کیے جائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آج کے ایران نے روس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر رکھے ہیں، لیکن یہ تعلقات روس کی مداخلت یا اس کی ڈکٹیشن کے معنی میں نہیں بلکہ دو طرفہ ہیں اور قومی خود مختاری کے تحفظ کے ساتھ ہیں۔ امام خمینی نے امریکی حاکم نظام کو شیطان بزرگ قرار دیا تھا۔ امریکا نے ایران سے اپنی دشمی آج تک ترک نہیں کی۔ اُس نے اس وقت ایران کے خلاف خوفناک پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اس کے اردگرد فوجی طاقت جمع کر رکھی ہیں، لیکن ایران اس کے سامنے امام خمینی کے دور کی طرح سینہ سپر ہے اور پوری دنیا ساتھ دے نہ دے، لیکن ایران کی اس جرأت و استقامت کی داد دے رہی ہے۔
 
امام خمینی نے القدس اور فلسطین کی آزادی کو عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو سرطان کا پھوڑا کہا تھا، وہ اسے غاصب صہیونی ریاست کہتے تھے۔ آج کا ایران اسی روش پر گامزن ہے اور اس کے لیے ہزار مشکلیں جھیل رہا ہے۔ اسرائیل بھی ایران دشمنی میں پیش پیش ہے بلکہ دیکھا جائے تو امریکا کو ایران کے خلاف کھینچ کر خطے میں لانے میں اسرائیل ہی کا بنیادی کردار ہے۔ امریکا ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی ناز برداریوں میں مصروف ہے، یہاں تک کہ یہ ناز برداریاں اسے اب رسوائی تک پہنچا رہی ہیں۔ داخلی طور پر دیکھا جائے تو اسرائیل کی توسیع کے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں اور وہ پھیلنے کی بجائے سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ لبنان کا بیشتر حصہ حزب اللہ نے آزاد کروا لیا ہے۔ غزہ کی تحریک آزادی پہلے سے زیادہ منظم اور طاقتور ہوچکی ہے۔ اس دوران میں اسرائیلی مختلف مواقع پر فوجی ناکامیوں سے بھی دوچار ہوچکا ہے۔ اس کے ناقابل شکست ہونے کا تصور ٹوٹ چکا ہے۔ اس سارے عمل کے پیچھے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
 
امام خمینی نے ایک اسلامی جمہوری نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کے لیے عوام سے ایک آئین منظور کروایا تھا، تاکہ عوامی رائے دہی کی بنیاد پر یہ نظام چلتا رہے۔ امام خمینی کی زندگی میں بھی اس آئین پر عمل درآمد ہوتا رہا اور آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی اس میں کوئی تعطل دیکھنے میں نہیں آیا، اس کی روشنی میں مسلسل انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنتی رہیں۔ تمام تر داخلی و خارجی مشکلات کے باوصف یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے۔ منتخب حکومتیں اپنی مدت مکمل کرتی رہی ہیں اور ہر نئی حکومت رائے دہی کے آئینی تقاضوں کے مطابق منتخب ہوتی رہی ہے۔ امام خمینی کو ایرانی دستور کے مطابق رہبر اور روحانی قائد کی حیثیت حاصل تھی۔ اُن کی رحلت کے بعد موجودہ رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا انتخاب عمل میں آیا۔ گذشتہ تیس برسوں کے دوران میں رہبر کو منتخب کرنے والی مجلس خبرگان کو عوام آئینی مدت کے لیے منتخب کرتے رہے ہیں۔ ہر نئی منتخب مجلس خبرگان نے موجودہ رہبر کی توثیق کی ہے۔ یہ تمام امور خوش اسلوبی سے جاری رہے ہیں۔
 
انقلاب اسلامی کی کامیابی، نئی انقلابی حکومت کے قیام اور نظام حکومت کی تبدیلی سے بہت سے لوگوں اور گروہوں کے مفادات پر ضرب لگی تھی، ایسے لوگ بھی تھے، جو دین و مذہب سے بیزار تھے۔ ایسے لوگ آج بھی ہیں۔ استعماری طاقتوں اور خصوصاً امریکی مقادات کو اس انقلاب کی وجہ سے بڑی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ ان طاقتوں اور داخلی طور پر شکست خوردہ اور مراعات سے محروم ہو جانے والے طبقے کے مفادات اس نکتے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ موجودہ نظام ختم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ داخلی طور پر سازشوں کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔ ایسے عناصر نے امام خمینی کی زندگی میں بھی انقلابی قیادت پر مہلک وار کیے، بعد میں بھی انھوں نے مختلف حیلوں، بہانوں اور طریقوں سے اس نظام کے خاتمے کی کوششیں کیں، لیکن ہر مرتبہ ناکام ہوئے۔ استعماری معاشی پابندیوں کے اثرات سے سوئے استفادہ ان عناصر کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ تاہم عوام کی اکثریت موجودہ حکومت کی حامی ہے۔ تمام انتخابات میں عوام کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف حکومت کی حمایت میں یا حکومت کے ایما پر ہونے والے عوامی مظاہروں کا ان سے کوئی تقابل نہیں، ایسے مظاہر ے عوامی حمایت کے لیے عموماً ریفرنڈم قرار پاتے ہیں۔
 
تعلیم کے شعبے میں ایران کی پیش رفت کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ ایران میں ماڈرن، فزیکل اور سوشل سائنسز کے تمام شعبوں میں خیرہ کن ترقی ہوئی ہے۔ گذشتہ تیس برسوں میں نئی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے قیام کا یہ حال ہے کہ ایران کا کوئی بچہ ایسا نہیں، جس کے لیے کسی تعلیمی ادارے تک رسائی اور داخلہ ممکن نہ ہو۔ اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم و تحقیق میں ایرانی پیش رفت سے ساری دنیا واقف ہے۔ سائنس اور طب کے مختلف شعبوں میں ایرانی ترقی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ سکولوں کا نظام خاص طور پر نوجوان نسل کی اخلاقی اور روحانی تربیت سے گندھا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ نوجوان نسل کی اکثریت دین دوست ہے۔ کیا بعید ہے کہ وہ اپنی گذشتہ نسل سے زیادہ دین اور موجودہ حکومت کے ساتھ وابستگی رکھتی ہو۔ اس سلسلے میں ہمارے کچھ ذاتی تجربے بھی ہیں، سکولوں کا نظام غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھتا ہے اور مختلف طریقے سے نئی نسل کی جسمانی اور روحانی نشوونما میں اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔
 
دینی تعلیم کے شعبے میں ایرانی پیش رفت مشہود ہے۔ ایک طرف روایتی سلسلہ تعلیم و تدریس جاری ہے اور دوسری طرف جدید دینی اور سماجی علوم پر مبنی یونیورسٹیوں کے قیام نے دانشِ دینی کے مختلف شعبوں میں بڑی تعداد میں ماہرین تیار کیے ہیں۔ اس طرح طرز تعلیم و تدریس میں بھی عصری تقاضوں کے مطابق جدت دیکھنے میں آرہی ہے اور نت نئے موضوعات پر تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یوں گذشتہ نظام میں مختلف شعبوں میں تخصص کی جو کمی محسوس کی جاتی تھی، اس کی تلافی ہوگئی ہے۔ ایران کو اسلامی انقلاب کے فوری بعد ایک بہت بڑی وسیع اور طویل جنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ جنگ استعماری طاقتوں کے ایما پر عراق کے صدام حسین نے مسلط کی تھی۔ اسے علاقے کی بادشاہتوں، ملوکیتوں اور آمریتوں کا تعاون بھی حاصل تھا۔ اسی زمانے میں خلیج تعاون کونسل معرض وجود میں آگئی تھی۔ امام خمینی کے بعد خطے میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ عراق پر امریکا نے چڑھائی کر دی، اسے تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔ یہاں تک کہ اس کے خلاف عوامی مزاحمت بھی منظم ہونے لگی۔ اس نے اپنی نگرانی میں وہاں ایک آئین منظور کروایا۔

اس آئین پر اگرچہ تحفظات کا اظہار کیا جاسکتا، تاہم اس کے تحت بننے والی حکومتوں کے ساتھ بھی امریکی تعلقات مشکلات کا شکار ہونے لگے۔ پھر ایک دن داعش جیسے سفاک گروہ نے دو تہائی عراق پر قبضہ کر لیا۔ آج دنیا کی نظر میں یہ کھلا راز ہے کہ داعش کو امریکا ہی نے وجود بخشا تھا، جسے علاقے کے رجعت پسند اور توسیع طلب ممالک کا تعاون حاصل تھا۔ یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا۔ عراق کو اس عفریت سے نجات دلانے کے لیے ایران نے جو مدد کی، اس سے خطے میں پانسہ ہی پلٹ گیا۔ آج امریکا کے مختصر سے فوجی دستے عراق میں رہ گئے ہیں، جن کے نکلنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن ایران اور عراق کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوچکی ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے اراکین بھی پہلے کی طرح متحد نہیں رہے، اگرچہ اس کے اہم ترین مالی طاقت رکھنے والے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات دن بدن تاریک تر ہوتے جا رہے ہیں۔ شام میں دہشت گردی کے سر اٹھانے کے بعد حکومت کے ہاتھ سے شام کا بیشتر علاقہ نکل چکا تھا، یہاں بھی شامی حکومت کی درخواست پر ایران اور لبنان میں اس کی حامی ملیشیا نے نتیجہ بخش کردار ادا کیا۔ ایران کے قائل کرنے پر روس نے بھی شامی حکومت کی مدد کی اور آج صورت حال دمشق حکومت کے حق میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مجموعی طور پر اس خطے میں ایرانی خارجہ حکمت عملی بہت کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ ایک اور رُخ سے دیکھا جائے تو اسے خطے میں ایران کے اسلامی انقلاب کی پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
 
فوجی اعتبار سے ایران پہلے سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ داخلی طور پر اسلحہ سازی میں ایران کی پیش رفت نے اس کے دشمنوں کو انگشت بدنداں کر رکھا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی نے ایران کی مہارت کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس نے ڈرون کشتیاں بھی تیار کر لی ہیں۔ اس کی میزائل ٹیکنالوجی نے اس کے دشمنوں کے دلوں پر دھاک بٹھا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں بہت کروفر سے فوجی طاقت کے ساتھ داخل ہونے والا امریکا آج ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بے چین دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ایران نفسیاتی جنگ بھی جیت چکا ہے۔ مواصلات اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے ایران نے بہت ترقی کی ہے۔ سڑکوں اور ریلوے لائنوں میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ایرانی ریل کا نظام علاقے کے ممالک کے نسبت ترقی یافتہ دکھائی دیا ہے۔ موٹرویز اور ہائی ویز کا ہر طرف ایک جال بچھا ہوا نظر آتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی جدید سے جدید گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جن لوگوں نے 30 سال پہلے اور آج کا ایران دیکھا ہے، وہ ہماری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔
 
حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا اور واپس آکر متعدد بار اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران کی داخلی ترقی پر اپنی خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ ایران اپنا سیٹلائٹ فضا میں بھیج چکا ہے۔ دوا سازی کے شعبے میں بھی ایران نے کمالات کرکے دکھائے ہیں۔ اس وقت بیشتر گاڑیاں یا ان کا بیشتر حصے ایران میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں ایران نہ فقط خود کفیل ہے بلکہ اسے صادر بھی کر رہا ہے۔ ایران کئی مرتبہ پاکستان کو بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کرچکا ہے، سینکڑوں نہیں بلکہ چھوٹے بڑے ہزاروں ڈیم بنائے جا چکے ہیں۔ عوام تک پانی کی رسائی صحرائی خطوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے میں بھی ایران نے خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔ ایرانی عدلیہ میں کام کی رفتار بھی حیرت میں ڈال دینے والی ہے۔ ہمارے ہاں لاکھوں مقدمات عدالتوں میں حل طلب پڑے رہتے ہیں، جبکہ ایرانی عدلیہ میں فیصلے تیز رفتاری سے کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے قانون شکنی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور معاشرے میں امن و امان برقرار رہتا ہے اور اقتصادی و سماجی سرگرمیاں آسانی سے جاری رہتی ہیں۔ کھیلوں کے شعبے میں بھی ایران نے نام کمایا ہے۔ ترقی کی یہی رفتار دیگر شعبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، البتہ اس رفتار کو عالمی اقتصادی پابندیوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ قومیں ارادہ کر لیں تو معجزات آج بھی ہوسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 797571
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب