1
Monday 3 Jun 2019 22:56

حسینیؑ جذبوں کے امین، خمینی کے متوالوں کو سلام

حسینیؑ جذبوں کے امین، خمینی کے متوالوں کو سلام
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

یوم القدس کی اہمیت اور حساسیت میں ہر آنے والے دن اضافہ ہو رہا ہے، اس روایت کا آغاز پاکستان کے امامیہ نوجوانوں نے کیا۔ یوم القدس کا عظیم الشان طریقے سے برپا کیا جانا اس احساس کا تسلسل ہے، جس کا درس کربلا نے دیا ہے۔ ملت پاکستان نے 88ء میں گلگت اور چند سال قبل کوئٹہ میں یوم القدس کی وجہ سے متعصب اور متحارب یزیدی قوتوں کے عتاب کا سامنا کیا ہے، اسی طرح پورے ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دیکر سعودی اور صہیونی لابی نے ہر گلی کوچے میں اسی جذبے کی پاداش میں ملت تشیع کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح عزاداری کے اجتماعات کو نشانہ بنائے جانے کے پس پردہ مقاصد میں بھی انہی جذبوں کو سرد کرنا تھا، جو ملت تشیع کی زندگی کے ضامن اور نسل در نسل ظلم کے سامنے ڈٹے رہنے سے عبارت ہیں۔ امسال اسی جذبے کے ساتھ کراچی اور اسلام آباد سمیت متعدد جگہوں پر تمام شیعہ جماعتوں نے مشترکہ القدس ریلیاں منعقد کیں، جس طرح عزاداری کے اجتماعات مل کر منعقد کئے جاتے ہیں۔

بزرگ دانشور اور آئی ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر سید امتیاز رضوی نے آئی ایس او پاکستان کے یوم تاسیس کی مناسبت سے اس امر کی طرف تنظیم کو متوجہ کیا تھا کہ امامیہ نوجوان اگر اتحاد ملت کے لیے مخلصانہ کوشش کریں تو اس میں کامیابی ہوسکتی ہے۔ جس طرح آئی ایس او نے کئی روایتیں توڑیں، بدلی اور شروع کی ہیں، اسی طرح بھی امامیہ نوجوان کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری بھی متعدد بار بار اس کا اظہار کرچکے ہیں کہ ملت تشیع کو عزاداری، حمایت مظلومین جہان، استحکام پاکستان اور انسداد دہشت گردی جیسے بنیادی ایشوز پر متحد ہو کر کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اس سال یوم القدس کی مناسبت سے قبل کراچی میں شیعہ لاپتہ عزاداروں کی رہائی کیلئے جس طرح عظیم الشان اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا اور یوم القدس بھی مشترکہ طور پر منایا گیا، اس سے یہ امید زیادہ مضبوط ہوئی ہے کہ یہ عمل آئندہ بڑی کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اس سے بھی زیادہ خوش آئند یہ ہے کہ اپنی اپنی جگہ پہ تمام تنظیمیں اور جماعتیں اپنے اہداف اور اسلوب کیساتھ پہلے سے زیادہ مستحکم ہوچکی ہیں، یہی چیز آئندہ اتحاد میں موجود رکاوٹوں کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ جس طرح سے امام خمینی اور آپ کے سچے جانشین اور نائب امام زمانہ علیہ السلام سید علی خامنہ ای نے مسلمان عوام، ریاستوں اور حکومتوں کو مسئلہ فلسطین کی جانب متوجہ فرمایا ہے، یہ مسئلہ ظالم اور مظلوم کے درمیان فرق کی مثال اور معیار بن چکا ہے۔ اسی شدت کیساتھ یوم القدس کا برپا کیا جانا، ولایت و رہبری کیساتھ شیعہ تنظیموں اور جماعتوں کے تمسک کی دلیل ہے۔ جس طرح امام خمینی نے مسئلہ فلسطین کو سرد خانے کی نذر ہونے سے بچایا، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رہبری و ولایت کا اس میں اساسی کردار ہے۔ آج بھی رہبر معظم کا سایہ ایک عظیم نعمت ہے، مسلمان عوام کا فرض یہ ہے کہ اپنے رہبر کی آواز پہ لبیک کہیں، لبیک یعنی رہبر وقت کی پالیسی کے عین مطابق اپنا کردار ادا کرنا، دشمن کی چالوں کو ناکام بنانا۔

عالم اسلام کا کھلا دشمن اسرائیل اور امریکہ ہیں، جو مختلف حیلوں سے اسلامی دنیا کے وجود کو زخم پہ زخم لگا رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں میں موجود منافق حکمرانوں اور کمزور ایمان کے حامل لوگوں کے ذریعے جسد اسلامی کو اندر سے کینسر زدہ کر دیا ہے۔ مقاومتی بلاک کی قیادت جس شخصیت کے پاس ہے، وہ اس وقت کے امام خمینی ہیں، جو امام کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں، دنیا میں جو بھی وقت کے رہبر سے متمسک ہے، وہ حسینیؑ جذبوں کا امین ہے، پاکستان میں انقلاب اسلامی سے قبل اور انقلاب کی کامیابی کے بعد اور اب انقلاب کے دوسرے مرحلے اور تا ظہور امام مہدیؑ، انقلاب کا ساتھ دینے والوں کی کمی نہیں، ان میں یہ سب لوگ شامل ہیں، جو مسلسل یوم القدس کی ریلیاں، مظاہرے، سیمینار، نشریات، اشاعتوں، بحث و تمحیص سمیت تمام وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاتے ہیں، یہی رہبرِ وقت کی آواز پہ لبیک کہنا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی نے حق کی خاطر جو استقامت دکھائی، اس کے اثرات پوری اسلامی دنیا میں آج بھی موجود ہیں۔

جس طرح یمن، شام، لبنان، بحرین، سعودی عرب، عراق، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں عزاداری، یوم القدس اور اسلامی اہداف کو آگے بڑھانے میں شیطانی طاقتیں رکاوٹیں ڈالتی رہی ہیں، وہاں تمام بحرانوں اور تصادموں میں ولایت و رہبری کی بصیرت کے زیر سایہ شیعہ شخصیات نے اپنی جانیں دیں، عوام نے قربانی دی، لیکن اپنے ممالک کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کیا، جس سے دشمن کے تمام حربے اور ہتھکنڈے ناکام ہوئے، لبنان سے حزب اللہ کے ہاتھوں استعماری طاقتوں کی بے دخلی سے لیکر یمن کی انصار اللہ کے ہاتھوں 45 ممالک کے ظالمانہ عسکری اتحاد کی شکست تک عظیم الشان کامیابیاں، اسلام حقیقی کی زبردست سچائی، کربلا سے حاصل ہونیوالے حق پرستانہ جذبے، ولایت و رہبری کی بصیرت، شہداء کے پاکیزہ خون کی برکت اور امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مقدس کیوجہ سے نصرت خداوندی کا ثبوت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کبھی غافل نہیں رہا، لیکن اسکی چالیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں، آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ خط امام خمینی پہ چلنے والی شیعہ تنظیمیں، عالم اسلام کیلئے حق و صداقت اور اسلام کے راستے میں کامیابی کی مثال بنیں، ان شاء اللہ روز بروز پیدا ہونیوالے اتحاد کے امکانات اسکا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔

امید کی جانی چاہیئے کہ خط امام خمینی کو پاکستان میں متعارف کروانے اور آگے بڑھانے والے بزرگ اور نوجوان دانشور، ولایت و رہبری سے متسمک گروہوں، تنظیموں اور جماعتوں کا حوصلہ بڑھاتے رہیں گے، ساتھ ہی انہیں شاندار ماضی کی روشنی میں عمدہ مستقبل کیلئے مشاورت جاری رکھیں گے۔ نہ صرف یہ کہ مضبوط سے مضبوط تر ہونے والے پیروان ولایت و رہبری کو بلکہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کامیاب تاریخ اور خط مقاومت کی حالیہ کامیابیوں کو مثال بنا کر پاکستانی عوام، ریاست اور حکومتوں کو بھی متوجہ کرتے رہینگے، کیونکہ ملت اسلامیہ کا اتحاد شیطانی طاقتوں کو شکست دینے، انکی چالیں ناکام بنانے اور عالم اسلام میں حقیقی اسلامی نظام کی راہ ہموار کرنیکا پیش خیمہ ہے۔ یہ کامیابیاں نظریہ امامت، منہج ولایت فقیہ، رہبری و ولایت کی بصیرت اور حقانیت کی دلیل اور تائید ایزدی کا ثبوت ہیں۔ اسی لیے ایمان سے عاری، جواری اور خائن استعماری بلاک اور انکے اتحادی اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ان خائن اور استعماری آلہ کار حکومتوں کا ساتھ دینے والے حکمرانوں کی جانب سے روز روشن کی طرح عیاں حقائق سے چشم پوشی اور مسلمان عوام کو گمراہ کرنے کیلئے پروپیگنڈہ اس کا باعث نہیں بن سکے گا کہ بارہویں لعلِؑ ولایت کے مقدس وجود کا سورج طلوع نہ ہو۔ جن بچوں، خواتین، بزرگوں، جماعتوں اور تنظیموں نے رہبری کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے یوم القدس کا بھرپور انعقاد کیا، وہ یقین رکھیں کہ رہبر معظم اور سید حسن نصر اللہ کے لبوں پہ مسکراہٹ لانے کا سبب بننے والے امامِ وقت کے قلبِ نازنین کیلئے فرحت کا سبب ہیں۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ جس طرح پوری اسلامی دنیا میں ولایت و رہبری کے سائے میں مسلمان مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، پاکستانی مسلمان ان سے پیچھے نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ یوم القدس کی مناسبت کے ذریعے پاکستانی مسلمانوں کو اس وقت کی کربلا فلسطین کی طرف مسلسل متوجہ کرنیوالوں، جاری رکھنے والوں، صعوبتیں برداشت کرنے والوں اور شہید ہونیوالوں کے صدقے ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
خبر کا کوڈ : 797783
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے