0
Tuesday 4 Jun 2019 19:30

غمزدوں کی عید

غمزدوں کی عید
تحریر: بنت الہدیٰ
 
(ہر اس ماں کے نام جو عید کا دن بھی اپنے گمشدہ بیٹے کی تصویر آنکھوں سے لگائے انتظار میں گزار دیتی ہیں۔)
عید کا دن ہے، اپنے دونوں بیٹوں کے نئے کُرتے استری کر دوں۔۔
وہ دو دن سے تیز بخار میں تھی، مگر بیٹوں کی خاطر بستر سے اٹھی اور اجلے سفید رنگ کے دو نئے کرتے پاجامے الماری سے نکالے۔ کرتے کی سلوٹیں دور کی اور ہینگر میں لٹکا کر فوراً کچن کی اور چل دی۔
حسن کو شیر خورمہ بہت پسند ہے۔ دودھ چولہے پر رکھتے ہوئے دھیان پھر ماضی میں کہیں جا الجھا۔۔۔
"امی یہ کیا آج بھی بھائی کی پسند کا شیر خورمہ بنایا ہے اور میری پسند کا کیا؟"
"اچھا اب ناراض مت ہو، اگلی عید پر تمہاری پسند کی کھیر ہی بناوں گی۔"
"آپ صرف مجھے بہلانے کے لئے کہ رہی ہیں نا!"
"نہیں میری جان۔ وعدہ، میں اگلے برس عید پر تمہاری پسند کی کھیر بھی ساتھ بناوں گی۔"
 
اسے اپنے بیٹے سے کیا وعدہ یاد آگیا
دودھ کو ابال آتے ہی دو علیحدہ ہانڈیوں میں آدھا آدھا انڈیل کر ایک میں حسن کی پسند کا شیر خورمہ اور دوسرے میں حیدر کی پسندیدہ کھیر تیار کی۔
کچن سے فارغ ہو کر گھڑی پر نظر کی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔۔ نماز کی تیاری شروع کر دی۔۔
دوران نماز پھر دھیان پیچھے کی اور پلٹا۔۔۔
حیدر چھوٹا اور شرارتی تھا۔ سجدے میں جاتے ہی پیٹھ پر آبیٹھا۔ سوچا سجدہ طویل کر دوں اور بیٹے کو نیچے نہ اتاروں۔۔ مگر شرارت بھی طول کر گئی، سجدے سے اٹھی تو دونوں ہاتھ گردن میں ڈال دیئے۔
ذہن سے ماضی کے خیالات کو جھٹک کر نماز میں دھیان لگانے کی کوشش کرتے ہوئے نماز مکمل کی۔
جاء نماز سمیٹ کر اٹھی تو بے اختیاری میں اطراف میں نگاہ پھیری۔۔ مگر وہاں کوئی نہ تھا۔
 
خالی گھر اور خاموشی۔۔۔
ماضی سے پھر خود کو حال میں لے آئی۔ حسن اب 22 برس کا ہوچکا ہے اور حیدر بھی 20 سال کا ہے۔
دونوں ہی گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے عید کی چھٹی گزار رہیں ہونگے۔ شام تک آجائینگے تو چائے بیٹوں کے ساتھ ہی پئیوں گی۔
وہ قرآن مجید ہاتھوں میں لئے آرامدہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ پھر سے یادوں کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔
وہ قرآن مجید میز پر رکھ کر دوڑتی ہوئی دروازے تک پہنچی گھڑی کی سوئیاں بھی بیٹوں کے آنے کا وقت بتا رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ حسن اور حیدر ہی ہونگے۔
مگر دروازے پر کوئی نہ تھا۔۔
شاید پھر سے وہی وہم تھا۔
 
وہ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی کھڑکی کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔۔۔
کھڑکی میں کھڑا وجود گھر کے اندر تھا، مگر آنکھیں گھر کو آنے والے رستے پر سے گزرتے ہوئے لوگوں کے درمیان اپنے بیٹوں کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔
ایک اداس نظر گھڑی پر ڈالی۔ سوئیاں رینگ رہی تھیں۔ ساڑھے چھ بجے تھے۔ کتنی ہی ساعتیں پہلے وقت دیکھا تو چھ بیس ہوئی تھی۔ حیدر پانچ بجتے ہی گھر آجایا کرتا اور پھر اس کے ساتھ باتوں میں وقت کتنی آسانی سے گزر جاتا، اب تو لمحہ لمحہ بوجھ تھا جیسے۔۔۔
آسمان پر شام کی سرخی پھیل رہی تھی۔۔ رنگ بدلتا آسمان اب سیاہ تاریک رات میں ڈھل رہا تھا۔۔
 
دن تو جیسے تیسے بچوں کے کاموں میں، ان کے پسندیدہ کھانے بنانے۔۔ طے شدہ کپڑوں کو الماری سے نکال کر پھر سے طے کرنے، شیلف پر سلیقے سے رکھی ہوئی کتابوں کو اٹھا کر پھر سے اپنی جگہ پر رکھنے اور گھر کے کاموں کے دوران ماضی کی سیر میں گزر ہی جاتا تھا۔۔ مگر یہ رات۔۔۔
راتیں بہت سخت ہو جاتی تھی۔ انتظار میں گزرنے والی جدائی کی ہر رات کسی امتحان سے کم نہیں۔ جس میں ایک ماں کے پاس تنہائی اور آنسووں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
پورے دن میں ایک یہی مرحلہ بہت کٹھن ہوتا ہے۔
نماز مغرب کے بعد وہ پھر سے انتظار کا ہاتھ تھامے کھڑکی میں آگئی۔۔ کہ شاید رات کے جس لمحے میں وہ حیدر کو گھر سے لے گئے تھے، شاید اسی لمحے واپس چھوڑ جائیں۔۔
بیٹوں کی یاد سے مزیّن خالی گھر رات کے سناٹے میں اکثر ماضی کی آوازوں سے گونجنے لگتا۔۔
 
کچن سے اسے اپنی ہی آوازیں آرہی تھی۔۔
"کتنی بار کہا ہے باہر کی الٹی سیدھی چیزیں مت کھایا کرو۔۔۔ لیکن تم دونوں کو ہی باہر کے کھانے اتنے پسند ہے کہ میری سنتے ہی نہیں، آج پھر دونوں برگر کھا کر آئے ہو۔۔" حسب معمول وہ دونوں پر چلّا رہی تھی۔۔
ہمت جوڑ کر اس نے خود کو کچن تک پہنچایا، دل چاہا کہ خود کو روک لے اور کہے نہ ڈانٹو انہیں، جو بھی پسند ہے کھا لینے دو۔۔ یہی تو دن ہیں اپنی مرضی کرنے کے۔۔
وہ پھر کچھ سوچتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
مگر یہ آوازیں کہاں ساتھ چھوڑتی تھی، رات بھر اسی طرح کانوں سے ٹکراتی رہتی۔۔
وہ پھر سے انہیں ڈانٹ رہی تھی۔۔
"آدھی رات ہوگئی ہے اب تک سوئے نہیں۔۔۔ صبح نماز کے لئے آنکھ نہیں کھلے گی اور دفتر کے لئے بھی لیٹ ہو جاو گے۔۔ فوراً سے بتیاں گل کرو اور سو جاو۔۔"
 
وہ خود کو ان کے کمرے میں لے گئی۔ جہاں دونوں اسے سامنے دیکھ کو اپنا منہ چادر میں چھپا کر مزید ڈانٹ سے بچنے کے لئے سونے کی اداکاری کرنے لگتے تھے۔
وہ دونوں بیٹوں کو پیار کرنے کے لئے آگے بڑھی۔ وہ تو اب وہاں نہیں تھے، سو تکیے کو سینے سے لگا کر رونے لگی۔۔
حسن گذشتہ برس شہر میں ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوچکا تھا اور حیدر چھ مہینے پہلے بلا جرم اسیر کر لیا گیا تھا۔ وہ دونوں ہی تو اس کی کل کائنات تھے۔
وہ اب دیوار پر لگی حسن اور حیدر کی تصویروں کی طرف دیکھنے لگی۔ ایک تصویر میں حسن بمشکل چند ماہ کا تھا۔ بےاختیار جی چاہا ہاتھ بڑھا کر ان گول گول گالوں کو چھو لے۔ آنسو اب ایک تواتر سے آنکھوں سے گر رہے تھے۔ اسے اپنے بچوں کے ساتھ کیے رتجگے یاد آ رہے تھے۔۔
"دن میں کام اور رات میں بچوں کا یہ رونا۔۔ نیند تو اب پوری ہی نہیں ہوتی۔ ایک گھنٹہ بھی لگ کر سونے مل جائے یہی بہت ہے۔"
 
اسے اپنی ہی شکوہ کرتی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اب بستر بھی خالی تھے اور وقت بھی بہت، مگر آنکھوں سے نیند کوسو دور تھی۔
نیند کی جگہ اب بیٹے کے انتظار نے لے لی تھی۔ وہ چاہ کر بھی خود کو پرسکون نہیں کرسکتی تھی۔۔ ہاتھ میں پکڑا تکیہ مسلسل بہتے ہوئے آنسووں سے بھیگ چکا تھا۔ رات کی تاریکی ختم ہونے کو تھی۔
جبکہ چشم و چراغ سے محروم گھر اب بھی تاریک تھا۔
آبدیدہ نظروں سے اپنے بیٹے کی راہ تکتی ہوئی غمزدہ ماں کی کوئی عید مبارک نہیں ہوتی۔۔۔!
خبر کا کوڈ : 797965
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب