2
Tuesday 4 Jun 2019 23:54

ایران کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی

ایران کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)

چند دن پہلے امریکہ کے سیکرٹری امور خارجہ مائیک پمپئو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف ذلت آمیز پسپائی اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ کسی پیشگی شرط کے بغیر ایران سے مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ وہ سویڈن کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے اس اعلان نے ہمیں متعجب نہیں کیا بالکل ایسے ہی جیسے ایران کی جانب سے امریکی سیکرٹری خارجہ کی اس پیشکش کے فوری جواب نے ہمیں متعجب نہیں کیا جس میں امریکہ سے مذاکرات کیلئے امریکہ کے غرور آمیز رویے میں بنیادی تبدیلی کو شرط کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ ایسے کیا حقائق ہیں جن کی وجہ سے امریکی حکومت جو کل تک طیارہ بردار جنگی جہاز اور بمبار طیارے خطے میں بھیج کر جنگ کے طبل بجا رہی تھی اور آج اس طرح سخاوت مندانہ انداز میں ایران کو مذاکرات کی پیشکش کرتی دکھائی دے رہی ہے؟
 
یہی مائیک پمپئو دو ہفتے پہلے ایران سے مذاکرات کیلئے 12 شرطوں کا اعلان کر چکے تھے۔ ان کی جانب سے اپنی ان شروط سے پیچھے ہٹ جانے کی واحد وجہ اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ایران جنگ کی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں اور ایرانی قوم اپنے قائد آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے پیچھے متحد کھڑی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں کہ ایران ہر قسم کی جنگ، چاہے وہ جنگ اقتصادی ہو یا فوجی، کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ لہذا دوسروں کی توقعات سے کہیں زیادہ جلدی امریکی حکومت ایران کو دھمکیاں دینے والی پالیسی چھوڑ کر اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات کا منہ توڑ جواب صرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے ہی سامنے نہیں آیا بلکہ ایران کے اتحادی ممالک اور گروہوں نے بھی ان دھمکیوں کا سخت جواب دیا ہے۔
 
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے عالمی یوم القدس کے موقع پر اپنی تاریخی اور مستحکم تقریر کے دوران امریکی حکمرانوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ایران کے خلاف جنگ کی آگ جلاتے ہیں تو وہ ہر گز ایران کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسرائیل، آل سعود رژیم اور خطے میں امریکہ دیگر تمام مفادات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جی ہاں، امریکہ کو نہ صرف ایران بلکہ تمام اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا کیونکہ نسل پرستی اور تکبر، بدمعاشی اور دھمکیوں والی سیاست کے الٹے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ مائیک پمپئو کی جانب سے اپنی ہی پیش کردہ شروط سے ذلت آمیز پسپائی کا واحد مطلب موجودہ امریکی حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔
 
ایران، شمالی کوریا کی طرح ہر گز ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا اور اگر بیٹھے گا تو مغربی طاقتوں سے اپنے جوہری معاہدے کی روشنی میں تمام ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کے مکمل خاتمے کے بعد ہی اس کا امکان پایا جاتا ہے۔ جب تک موجودہ امریکی حکومت سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ انجام پانے والے جوہری معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہیں کر لیتی ایران ہر گز امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے مذاکرات کیلئے سب سے پہلے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی جانب واپس پلٹنا ہو گا اور اس پر مکمل عمل پیرا ہونا ہو گا۔ اس کے بغیر وہ صرف ایران سے مذاکرات کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس وقت بھی ایران اس شرط پر مذاکرات کرے گا کہ اس میں جوہری پروگرام سے متعلق امور کے علاوہ کسی اور ایشو پر بحث نہ کی جائے جن میں ایران کا میزائل پروگرام بھی شامل ہے۔
 
امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پمپئو اس لئے ایران سے مذاکرات کی منتیں کر رہے ہیں کیونکہ ان کے صدر کا اپنے ٹیبل پر پڑے ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے کا انتظار لمبا ہو گیا ہے۔ وہ وقت گزر گیا ہے جب امریکی حکومت قومی وقار اور عزت نفس کے حامل لیڈران پر اپنا ارادہ مسلط کرتے ہوئے انہیں معافی مانگنے کیلئے واشنگٹن آنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ ہم مائیک پمپئو کو یہ مکمل یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ایران ہر گز ایک "عام" ملک کی طرح ایکٹ نہیں کرے گا اور کسی قیمت پر اپنے میزائل پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ کیونکہ امریکی حکام کی نظر میں "عام" ملک کی جو تعریف ہے اس کے مطابق ایک ملک کو اپنے تمام نکات قوت سے ہاتھ دھو کر ویرانے میں تبدیل ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایرانی لیڈران گذشتہ چالیس برس کے دوران حاصل ہونے والے سنہری تجربات کی روشنی میں امریکہ کے اقتصادی دباو کا بھی کامیابی سے مقابلہ کریں گے کیونکہ ان میں بعض عرب حکمرانوں والی حماقت اور بیوقوفی نہیں پائی جاتی۔
 
خبر کا کوڈ : 797987
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب