0
Wednesday 5 Jun 2019 08:02

اللھم اھل الکبریا و العظمۃ

اللھم اھل الکبریا و العظمۃ
اداریہ
اسلام ایک اجتماعی و سماجی دین ہے، یہ دین انسانیت کو اس کے کمال تک پہنچانے کے لیے آیا ہے۔ رسول خدا اور قرآن کریم نے معاشرے کی اصلاح کے لیے جتنے فرامین اور احکامات دیئے ہیں، وہ انفرادی عبادات و اصلاح سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسلام دین ہے، صرف مذہب نہیں۔ ماہرین نے مذہب اور دین کا جو فرق بتا ہے، وہ یہ ہے کہ مذہب عبادات کے مجموعے کو کہتے ہیں، یعنی جب مذہب کی تعریف کی جاتی ہے تو اس مذہب میں موجود عبادات کی اقسام اور طریقہ کار پر گفتگو کی جاتی ہے، لیکن جب دین کا نام آتا ہے تو اس سے مراد معاشرے کو چلانے والا نظام ہوتا ہے۔ خداوند عالم نے بھی اسلام کا جہاں پر تعارف کرایا ہے تو "إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ" "دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے" سے کرایا ہے۔ قرآن میں دین یعنی نظام اسلامی کے دو بنیادی نکات بارہا بیان کیے گئے ہیں، یعنی اللہ کی عبادت اور طاغوت سے دوری۔ انفرادی عبادات ہوں یا اجتماعی عبادات، دین اسلام میں اس دو نکاتی فارمولے پر عمل کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

لا الہ سے مراد طاغوت کی نفی ہے اور الا اللہ سے مراد خدا کی طرف رجوع ہے۔ دین اسلام نے جہاں سماجی و سیاسی نطام میں غیر خدا سے انکار کو وطیرہ بنایا ہے، وہاں عبادات میں بھی اس پر خصوصی تاکید کی ہے کہ طاغوت اور شیطان سے ہر صورت میں برات کا اظہار کرو۔ دین اسلام نے اللہ کی عبادت اور طاغوت اور غیر خدا سے برات کے لیے انفرادی سے زیادہ اجتماعی عبادت پر زور دیا ہے۔ جماعت کے ساتھ پڑی جانے والی نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی انفرادی نماز پر فوقیت دی گئی ہے۔ نماز جماعت کے بعد ہر ہفتہ نماز جمعہ کی اجتماعی عبادت کو غریبوں کا حج قرار دیا گیا، اسی طرح حج کی عبادت پر بھی تاکید کرنے کا ایک بڑا ہدف اور انجام دیئے جانے والے احکامات طاغوت سے نفرت اور خداوند عالم کی عبادت کا عملی مظہر ہیں۔

ان عبادات میں ایک نماز عید کی کھلے میدانوں میں ادائیگی بھی ہے، اس عبادت میں جہاں توحید کا اقرار ہے، وہاں مسلمانوں کی طاقت کا اطہار بھی ہے۔ عید کے خطبات میں مسلمانوں کی اجتماعی مشکلات کا ذکر اور مظلوموں و محروموں سے اظہار یکجہتی بھی لازمی ہے۔ آج مسلم دنیا طاقت کے طاغوتوں کے ہاتھوں اسیر ہے، یمن، بحرین، افغانستان، فلسطین اور کشمیر سمیت کئی مسلمان خطے امریکی اور سامراجی طاغوت کے خونی پنجوں میں زخ٘می پرندے کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ اس سال کی عید فطر میں مسلمان ممالک بالخصوص سعودی عرب اور پاکستان کی جیلوں اور عقوبت خانوں میں موجود ان افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، جنہیں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسنگ پرسن بنا دیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 798010
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے