0
Wednesday 5 Jun 2019 11:38

عید اور بدترین درندے

عید اور بدترین درندے
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

آج عید کا دن ہے، تقریباً ہر گھر میں چہل پہل ہے، بچے کھیل کود میں مصروف ہیں، دوستوں اور عزیز و اقارب کا تانتا بندھا ہوا ہے، عیدی تقسیم ہو رہی ہے، فطرانہ بانٹا جا رہا ہے، نئے نویلے نوٹ کھڑک رہے ہیں، انواع و اقسام کے کھانوں کی مہک بکھری ہوئی ہے، ابھی تو چند دن مزید پارکوں کے چکر لگانے ہیں، عید ملن پارٹیاں دینی ہیں، اور۔۔۔اور یہ کہ ہم مصروف بہت ہیں اور اس مصروفیت میں ہمیں یاد ہی نہیں کہ عید کا دن ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے، اس روز سب سے اہم ذمہ داری دوسروں کا احساس اور ان سے ہمدردی کرنا ہے، اگر انسان کے دل سے دوسروں کا احساس اور ہمدردی ختم ہو جائے تو وہ ایک درندے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

دوسروں کے احساس اور ان سے ہمدردی کے جذبے کا ایک اظہار فطرانے کی ادائیگی سے ہوتا ہے، فطرانہ ادا کرکے ہم کسی نادار پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہیں، بدقسمتی سے عید کے ایام میں ہم اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ کبھی ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ دینِ اسلام کتنا انسان دوست دین ہے! یہ دین کسی نادار اور فقیر کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ جاکر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، لیکن ہر صاحبِ ثروت اور صاحبِ استطاعت کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ جا کر مستحقین، محتاجوں اور غریبوں کو ڈھونڈے اوران کی عزت و آبرو کی حفاظت کے ساتھ ان کی مدد کرے۔
 
ہم اتنے بے حس اور لاپرواہ ہوگئے ہیں کہ ہم کسی مفلس اور نادار کا منہ بھی نہیں دیکھنا چاہتے، اس کے ساتھ دو منٹ بیٹھنا بھی نہیں چاہتے، اس کے گھر جا کر اس کا درد دل بھی نہیں سننا چاہتے، چنانچہ ہم اپنا واجب صدقہ یعنی فطرانہ بھی چندے کے ڈبوں میں پھینک دیتے ہیں، کسی مفتی، مولوی، خطیب یا ذاکر کو دے دیتے ہیں اور کبھی یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ ہمارے فطرانے کا مصرف کہاں ہوا ہے۔ ہمیں شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ فطرانے کا مستحق تک پہنچنا ضروری ہے اور اگر وہ مستحق تک نہ پہنچے تو وہ ادا ہی نہیں ہوتا، لہذا فطرانہ دینے کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ مستحق تک نہیں پہنچا تو اس کا واپس لے کر مستحق تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر واپس نہیں لے سکتے تو پھر دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

فطرانہ مستحق تک تبھی پہنچے گا کہ جب ہم اپنے اور ضرورت مند افراد کے درمیانی فاصلے کو ختم کریں گے۔ جب صاحبِ استطاعت اور نادار کے درمیان سے چندے کے ڈبوں، اشخاص و تنظیموں اور اداروں کے فاصلے کو ہٹا دیا جائے گا، تب امیر کے دستر خوان کا لقمہ غریب کے منہ تک پہنچے گا اور ہمیں شاید آج تک یہ بھی نہیں معلوم کہ اگر کسی شخص کے ہمسائے یا عزیز و اقارب میں ضرورت مند افراد موجود ہوں اور وہ اپنا فطرانہ کسی دوسرے علاقے میں بھیج دے تو اس کا فطرانہ تو ادا ہو جائے گا، لیکن وہ شخص گنہگار محسوب ہوگا۔ ہم میں سے شاید بہت سارے افراد یہ بھی نہیں جانتے کہ فطرانے کا مستحق کون ہے۱؟ ہم میں سے اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ فطرانے کا مستحق وہ ہے، جو بھیک مانگتا ہو، کپڑے پھٹے پرانے پہنتا ہو اور ہر جگہ مانگنے والوں کی صف میں کھڑا ہو، نہیں ہرگز نہیں۔

بہت سارے خوددار اور غیرت مند لوگوں کے پاس سال بھر کا خرچہ نہیں ہوتا، لیکن وہ اپنی ناداری کا اظہار نہیں کرتے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، ایسے سفید پوش اور غیرت مند لوگ ہمارے صدقات، خیرات اور وجوہات شرعیہ کے زیادہ مستحق ہیں۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ جب کسی کے ضرورت مند اور سفید پوش ہونے کا ہمیں یقین ہو جائے تو پھر اس کی مدد کرتے ہوئے اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ ہم آپ کو صدقہ یا فطرانہ دے رہے ہیں بلکہ ہم اسے اخلاق و مروت کے ساتھ بغیر صدقے اور فطرانے کا عنوان بتائے اس کی مدد کر سکتے ہیں، بلکہ اگر کسی کی عزت نفس کے مجروح ہونے کا خدشہ اور اس کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو لازمی ہے کہ ہم ضرورت مند کو صدقے یا فطرانے کا شک تک نہ ہونے دیں۔

جانوروں اور انسانوں میں یہی تو فرق ہے، آپ چند بھوکے جانوروں کے سامنے ایک روٹی ڈالیں تو وہ سب اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور چھینا جھپٹی میں مصروف ہو جائیں گے، لیکن اگر آپ چند بھوکے انسانوں کے سامنے کھانا رکھیں تو وہ کھانے پر جھپٹنے کے بجائے ایک دوسرے سے کہیں گے کہ پہلے آپ شروع کیجئے، لیجئے پہلے آپ شروع کیجئے۔ رمضان المبارک کی بھوک اور پیاس کے بعد اپنی آمدن میں سے دوسرے بھوکوں اور پیاسوں کے لئے فطرانہ نکالنا یہ دراصل انسان کے انسان ہونے پر دلیل ہے۔ دینِ اسلام ہماری اس طرح سے تربیت کرنا چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کی بھوک و پیاس کا صرف احساس نہ کریں بلکہ ان کی عملی مدد بھی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جو لوگ دینِ اسلام کے پیروکار نہیں ہیں، وہ اگرچہ انسان دوستی کے بہت نعرے لگاتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ انسان کے دشمن ہیں۔

اگر ایک طرف وہ بڑے بڑے ہسپتال اور سڑکیں بنواتے ہیں، فری میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں اور ضرورت مندوں میں امدادی چیک اور قرضے تقسیم کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف انسانوں کی تباہی و بربادی کے لئے ایٹم بم سے لے کر ہر مہلک اور خطرناک ٹیکنالوجی و ہتھیار وہی ایجاد و فروخت کرتے ہیں۔ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے کسی قسم کی انسان دوستی یا انسانی حقوق کی پرواہ نہیں کرتے، وہ پل بھر میں انسانی جسموں کو راکھ کے ڈھیر میں اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیتے ہیں، صلیبی جنگوں، ہیروشیما اور ناگا ساکی سے لے کر کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، نائیجریا، فلسطین، شام، عراق اور یمن تک ہر طرف ان کی انسان کشی کی داستانیں رقم ہیں۔

عید فطر کے دن ہماری ریاست کو بھی بے گناہ قیدیوں، یتیموں، مساکین، لاوارث افراد، مسنگ پرسنز اور ان کے لواحقین کے بارے میں یہ احساس کرنا چاہیئے کہ وہ کس کرب سے گزر رہے ہیں، اسی طرح جہاں ہم مقامی ضرورت مندوں اور مستضعفین پر توجہ دیں، وہیں بین الاقوامی مظلومین کی حالتِ زار کو جاننے کی بھی کوشش کریں، ہمیں بار بار اس حقیقت  کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اگر عید کے دن بھی ہمارے دل میں دوسروں سے ہمدردی کا احساس نہیں ابھرتا تو پھر ہم انسان نہیں بلکہ درندے ہیں اور شاید کائنات کے بدترین درندے۔
خبر کا کوڈ : 798016
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب