0
Wednesday 5 Jun 2019 15:35

صدر مملکت کے نام جسٹس فائز عیسیٰ کے دوسرے خط کا متن

صدر مملکت کے نام جسٹس فائز عیسیٰ کے دوسرے خط کا متن
ترتیب: آئی اے خان

 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ایک اور خط لکھا ہے اور اپنے خلاف دائر کئے گئے سرکاری ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔ 3 جون 2019ء کو سپریم کورٹ کے لیٹر پیڈ پر لکھا جانے والا یہ خط سرکاری ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں موصول ہوچکا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کے حوالے سے قانونی شرائط پورے کئے جانے پر سوال اٹھایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حکومت نے کن ذرائع سے عدالت عظمیٰ کے ایک جج کی جائیداد کا کھوج لگایا اور اسے میڈیا پر منکشف کیا؟ اس ضمن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کے رویئے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور اس دباؤ کا بھی ذکر کیا ہے، جو ان پر حکومتی ذرائع سے ڈالا جا رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں
 ڈیئر مسٹر پریزیڈنٹ، 28 مئی کو میں نے آپ کو ایک خط لکھا تھا اور کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے درخواست کی تھی کہ مجھے اس ریفرنس کی ایک کاپی دی جائے، جو مبینہ طور پر آپ نے میرے خلاف دائر کیا تھا۔ نہ آپ نے اور نہ محترم وزیراعظم نے (جنہیں میں نے خط کی نقل بھیجی تھی) اتنی اخلاقیات نبھائی کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی ہی مہیا کر دیتے، جو میرے خلاف بھیجا گیا ہے۔ ریفرنس کی یہ نقل مجھے ملنا اس لئے بھی ضروری تھا کہ ذرائع ابلاغ میں اس ریفرنس پر بات ہو رہی ہے۔ جناب صدر، آئین کی شق 209 کے تحت صدر مملکت کو کسی جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے سے پہلے ذاتی طور پر تصدیق کرنی چاہیئے کہ متعلقہ جج ذہنی اور جسمانی طور پر معذور تو نہیں نیز یہ کہ اس نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ میں ریفرنس بھیجنے کے بارے میں آپ کے آئینی اختیار پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ لیکن یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ کیا حکومت نے آپ کے سامنے وہ تمام حقائق رکھے تھے، جن کی بنیاد پر آپ نے یہ رائے قائم کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے میرے بارے میں استصواب کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ابھی مجھے نوٹس بھی جاری نہیں کیا تھا اور مجھے ابھی اس کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ ذرائع ابلاغ پر میرے خلاف ایک مہم چلائی گئی، جس کی نوعیت ایسی تھی کہ اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے بے معنی ہو جاتی۔

جب اس مہم سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوتے نظر نہ آئے تو حکومتی عہدے داروں نے اپنی منصبی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے متعلقہ پراپرٹی کی دستاویزات بھی ذرائع ابلاغ کو لیک کر دیں۔ قانونی طور پر صرف سپریم جوڈیشل کونسل کی ان دستاویزات تک رسائی ممکن تھی۔ جناب صدر، کیا ان حقائق سے پس پردہ محرکات کی طرف اشارہ نہیں ملتا۔؟ وزیر قانون اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ ترین حکام اور حکومتی ارکان نے معلومات کے منتخب حصوں کو لیک کیا اور میڈیا کو پہنچایا بلکہ اس حوالے سے میڈیا سے بات چیت بھی کی۔ اس بات چیت میں ریفرینس کے حوالے کہا گیا کہ میرے خلاف “احتساب کا شکنجہ” حرکت میں آئے گا۔ جناب صدر، کیا یہ مناسب طرز عمل ہے؟ کیا یہ طرز عمل آئین کے مطابق ہے۔؟

اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ
جناب صدر، آپ نے، آپ کے وزیراعظم نے، کابینہ کے ارکان نے اور اعلیٰ عدلیہ کے ارکان نے عہدے سنبھالنے سے پہلے ایک حلف اٹھایا تھا۔ اس حلف میں عہد کیا جاتا ہے کہ میں اپنے ذاتی مفادات کو کبھی اپنے سرکاری فرائض پر حاوی نہیں ہونے دوں گا۔ میں آئین کا تحفظ کروں گا اور اس کا دفاع کروں گا۔ اس کے علاوہ صدر، وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان یہ حلف بھی اٹھاتے ہیں کہ دوران منصب میرے سامنے جو معلومات لائی جائیں گی، میں انہیں کسی دوسرے شخص کے سامنے منکشف نہیں کروں گا، سوائے ان معلومات کے جن کا افشا میرے فرائض منصبی کا تقاضا ہو۔ اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدر سے سوال کرتے ہیں کہ جن حکومتی ارکان نے اس ریفرنس کے حوالے سے معلومات لیک کیں، کیا انہوں نے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کی؟

اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ
جناب صدر، اخبارات میں آیا ہے کہ آپ نے وزیراعظم کے مشورے سے میرے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک ریفرنس بھیجا ہے۔ اگرچہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی ابھی تک نہیں مل سکی، تاہم میڈیا اطلاعات کی بنیاد پر میں فرض کر رہا ہوں کہ اس ریفرنس میں لندن کی ان تین جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے جو میری بیوی اور میرے بچوں کے نام پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میرے بیوی بچوں کے نام ان جائیدادوں سے یہ نتیجہ کیسے نکلتا ہے کہ میں مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہوں۔ اگر یہ بات درست ہے کہ ریفرنس میں ان جائیدادوں کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے تو یہ میرا حق تھا کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی دی جاتی۔ جب مجھے اس ضمن میں نوٹس ملے گا تو میں اس کا جواب دینے کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہوں۔

اخبارات میں یہ ذکر بھی آیا ہے کہ میں نے ٹیکس ادا کرتے ہوئے اپنے اثاثوں میں ان جائیدادوں کا ذکر نہیں کیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 (اے) کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا ہے انکم ٹیکس کمشنر کسی بھی شخص سے ایک مخصوص فارم پر نوٹس جاری کرکے معلومات دریافت کرسکتا ہے۔ ان معلومات میں اس شخص کے کل اثاثے اور واجبات، اس کی اہلیہ، اس کے نابالغ بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کے اثاثے اور واجبات دریافت کئے جا سکتے ہیں۔ مجھے آج تک انکم ٹیکس کے کسی افسر سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ میرے بچے میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میرے بچے بالغ شہری ہیں اور ایک طویل مدت سے میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میری اہلیہ بھی میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میری اہلیہ اور میرے بچے خود مختار ہیں اور ان کے اپنے ذرائع آمدنی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید لکھا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 116 (اے) کوئی تعزیراتی قانون نہیں ہے اور اگر معلومات میں کوئی کمی بیشی پائی جائے تو اسے دور کیا جا سکتا ہے۔

اس خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ جناب صدر، حکومتی ارکان نے ادھورے سچ بول کر اور اشارے کنائے سے مجھے، میری اہلیہ اور میرے اہل خانہ کو بدنیتی سے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ معاملہ میرے لئے اور میرے اہل خانہ کے لئے انتہائی اذیت ناک ہے۔ کیا اس کا مقصد ہماری نجی زندگی میں مداخلت کرنا اور کچھ ایسے پہلو دریافت کرنا تھا، جو دراصل موجود نہیں ہیں۔ چناچہ میں مجبور ہوا ہوں کہ اس معاملے کو سامنے لاؤں، تاکہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے ان انتہائی اذیت ناک الزامات کا جواب دے سکوں اور ان جھوٹی خبروں کو بے نقاب کروں۔

اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور اپنے دو بچوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ عبدالحق کھوسو اور مرحومہ فیلیسا کیریرا (ہسپانوی شہری) کی صاحبزادی ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی بیٹی کی عمر 31 برس ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے صاحبزادے کی عمر 28 برس ہے۔ دونوں نے بیرون ملک مختلف اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ قاضی صاحب نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے والد (مرحوم قاضی عیسیٰ) بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے اور ان کی اپنی صاحبزادی بلوچستان کی پہلی خاتون بیرسٹر ہیں۔

صدر مملکت کے نام اپنے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ حکومتی اہل کاروں کو یقیناً علم ہوگا کہ میرے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک قانونی طور پر کاروبار کر رہے تھے۔ وہ لندن کی جن جائیدادوں کے مالک ہیں، وہ ان کے اپنے نام رجسٹرڈ ہیں۔ میری اہلیہ اور بچے خود وہاں مقیم ہیں۔ میرا ان جائیدادوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ ان جائیدادوں کو چھپایا جائے۔ نہ کبھی انہیں کسی ٹرسٹ کی ملکیت دکھایا گیا ہے اور نہ میں نے کبھی کوئی آف شور کمپنی بنائی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لکھتے ہیں کہ مجھ پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے کہ میں اپنے مالی معاملات پبلک کروں، لیکن میں رضاکارانہ طور پر ایسا کر رہا ہوں، کیونکہ میرے کردار پر شک کیا گیا ہے۔ میں ٹیکس قوانین کا مکمل طور پر پابند ہوں۔ میں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کرتا ہوں۔ مجھے زندگی میں کبھی اپنے بارے میں یا میری اہلیہ اور بچوں کے تعلق سے ٹیکس کا کوئی نوٹس نہیں ملا۔ میں نے جب سے قانون کا پیشہ اختیار کیا، میں واجب الادا ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔ میرے ذمہ کوئی ٹیکس واجب الادا نہیں ہے اور نہ آج تک میرے خلاف کوئی ٹیکس کارروائی ہوئی ہے اور نہ اس وقت زیر التوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے خلاف جنہوں نے ریفرنس تیار کیا ہے، انہوں نے اچھی طرح چھان بین کی ہوگی اور جب کچھ نہیں ملا تو اس طرح کے جھوٹے الزامات لے کر سامنے آئے ہیں۔

میرے معاملے میں تو میں نے ری فنڈ کے لئے جو درخواست کی تھی، یعنی میں نے جو زائد از واجب ٹیکس جمع کروایا تھا، محکمہ انکم ٹیکس نے وہ بھی کبھی واپس نہیں کیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر ہونے سے پہلے میں ایک معروف قانونی فرم کا پارٹنر تھا، جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی تھی۔ اس لا فرم میں میرے پارٹنر کو پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر صدر پاکستان نے 2004ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں بلوچستاں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا تو میری سالانہ تنخواہ اس سے پچھلے برس میں میرے ادا کردہ انکم ٹیکس سے کم تھی۔

جناب صدر کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ جو لوگ سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جائے اور جن کا رہن سہن ان کے ٹیکس ریٹرن سے کوئی تناسب نہیں رکھتا، انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدر مملکت سے پوچھتے ہیں کہ اگر میرے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ میں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادوں کی تفصیل بیان کی ہے یا نہیں، تو کیا یہ سوال وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے آج تک اپنی بیویوں اور بچوں کی جائیدادیں اپنے اثاثوں میں ظاہر کی ہیں۔؟ جناب صدر، میری درخواست ہے کہ قابل احترام وزیراعظم مجھے اپنی بیویوں اور بچوں کی بیرون ملک جائیداد کی تفصیلات فراہم کریں، تاکہ میں اپنا دفاع کر سکوں۔

آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے، وہ دستور کی شق 10 (الف) کے تحت منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر حکومتی اراکین یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے دباؤ میں لاکر مجھے اپنے حلف کی خلاف ورزی پر مجبور کریں گے تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ اب بھی نہیں ہے۔ میں اپنے حلف کے مطابق کام کروں گا، بلا خوف و خطر اور اب بھی کسی سے ناانصافی نہیں کروں گا۔ اگر کسی کے دل میں ایسا کوئی خیال ہے تو اسے دل سے نکال دیں۔ آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں کہ میرے والد (قاضی محمد عیسیٰ) نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کی آزادی کے لئے لڑائی لڑی تھی۔

میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے نصب العین کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دوں گا۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ صرف میری ذات کا معاملہ نہیں، یہ بہت اوپر کا معاملہ ہے۔ جناب صدر، میرے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں جو ہتھکنڈے آزمائے گئے، اس سے بدتر صورت حال ممکن نہیں تھی اور اس کا مقصد صرف آزاد عدلیہ کو دباؤ میں لانا تھا۔ جناب صدر، آپ یقین رکھیں کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ میں اپنے حلف کے مطابق آئین کا دفاع کروں گا، دستور کا تحفظ کروں گا۔ اگر آزاد عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا گیا تو لوگوں کے، عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہوں گے۔ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے کہ قانون اور آئین سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔

لیکن اس سے زیادہ بڑی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے، جن کے پاس آئینی عہدے ہیں۔ اگر آئینی نظام کو بار بار روندا جائے گا تو جمہوریت آمریت میں تبدیل ہو جائے گی اور حکمرانی ایک تحکمانہ نظام کی صورت اختیار کر لے گی۔ جناب صدر مجھے یقین ہے کہ آپ ہر وہ اقدام کریں گے، جس اس امر کی ضمانت مل سکے کہ ہر شہری دستور کی پاسداری کرے گا۔ آخر میں میں آپ سے پھر درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی عنایت کی جائے، جو ابھی مجھے نہیں ملا لیکن میڈیا میں اس کے حصے گردش کر رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
صحافی : عمران خان خان
خبر کا کوڈ : 798018
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب