0
Thursday 6 Jun 2019 23:33

سوڈان میں عوامی تحریک

سوڈان میں عوامی تحریک
تحریر: سید اسد عباس
 
جمہوریہ سوڈان شمال مشرقی افریقہ کا ایک اہم اسلامی ملک ہے، جس کے شمال میں مصر، شمال مشرق میں بحیرہ احمر، مشرق میں اریٹیریا، جنوب مشرق میں ایتھوپیا یعنی حبشہ، جنوب میں جمہوریہ جنوبی سوڈان، جنوب مغرب میں سنٹرل افریقن ریپبلک، مغرب میں چاڈ اور شمال مغرب میں لیبیا واقع ہے۔ سوڈان 1956ء میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار رہا۔ 2011ء میں جنوبی سوڈان نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنی کلی خود مختاری کا اعلان کیا۔ دونوں ریاستوں کے مابین ایک امن معاہدہ ہوا، یہ خطہ تیل کے وسائل سے مالا مال ہے۔  شمالی سوڈان ایک مسلم اکثریتی آبادی ہے، جہاں فوجی حاکم جعفر نیمیری کے دور حکومت میں 1983ء میں اسلامی قانون کو حاکمیت حاصل ہوئی۔ شاید یہی قانون سازی شمال اور جنوب کے مابین اختلاف کا باعث بنی، کیونکہ جنوب کی آبادی زیادہ تر عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ سوڈان کے سابق صدر کرنل عمر البشیر جنہیں اپریل میں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا، نے 1989ء میں ایک فوجی بغاوت کے تحت ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا۔ عمر البشیر نے ملک میں وہی حربے استعمال کیے، جو ایک  ڈکٹیٹڑ برسر اقتدار آنے کے بعد کرتا ہے۔ مخالفین کو سزائیں، سیاسی جماعتوں اور یونینز کا خاتمہ، آزادی اظہار پر قدغن، فوجی قانون کے ذریعے عمر البشیر کا اقتدار سوڈان پر مستحکم ہوا۔

ملک کی پارلمینٹ کے سپیکر حسن ترابی نے اسامہ بن لادن کو سوڈان میں دعوت دی، جس کے سبب امریکہ نے سوڈان کو دہشتگردوں کے حامی ممالک کی فہرست میں شامل کیا اور اس پر متعدد پابندیاں لگائیں۔ 2000ء میں حسن ترابی نے صدر کے اختیارات کو کم کرنے کے حوالے سے پارلمینٹ میں ایک بل پیش کیا، جس پر عمر البشیر نے ملک میں ہنگامی حالات نافذ کر دیئے۔ بعدہ حسن ترابی نے آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور حکومت نے ان کو گرفتار کرلیا۔ 2003ء میں افریقی سوڈانیوں نے عرب سوڈانیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے، جس بغاوت کو عمر البشیر نے سختی سے کچلا اور عمر البشیر کو عالمی عدالت انصاف نے نسل کشی کے جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ سوڈان کے چین، سعودی عرب، عرب امارات سے نہایت مضبوط تعلقات ہیں، چین اپنے تیل کی ضروریات کا دس فیصد حصہ سوڈان سے لیتا ہے، جس کے بدلے وہ سوڈان کو ہتھیار بیچنے والے ممالک میں سب سے بڑا ملک ہے، سوڈان یمن کے خلاف کی جانے والی سعودی مہم جوئی کا حصہ بھی ہے اور بہت سے سوڈانی فوجی سعودیہ میں تعینات ہیں۔ سوڈان کئی ایک عالمی اداروں کا رکن ہے، جس میں اقوام متحدہ کے ادارے، او آئی سی اور افریقی یونین شامل ہیں۔

سوڈان پر امریکہ اور عالمی اداروں کی جانب سے بہت سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں، اس کے باوجود 2010ء کے اعداد و شمار کے مطابق سوڈان تیزی سے ترقی کرنے والے سترہ ممالک کی فہرست میں شامل تھا۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ سوڈان سے حاصل ہونے والا تیل ہے۔ 2011ء میں جنوبی سوڈان کے شمال سوڈان سے الگ ہونے کے بعد اس ترقی کی رفتار میں خاصی کمی آئی، کیونکہ تیل کے 80 فیصد ذخائر جنوبی سوڈان میں ہیں۔ کرپشن کا اندازہ لگانے والے عالمی گوشواروں کے مطابق سوڈان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ جنوبی سوڈان کے تیل کے ذخائر کا ہاتھ سے نکل جانا اور ملکی اداروں میں موجود کرپشن عوام میں بے چینی کا سبب بنی۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، معیشت کی تباہی کے سبب عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئی۔ یہ مظاہرے متشدد ہونے لگے، جس کے نتیجے میں 11 اپریل 2019ء کو فوجی جنتا نے تیس برس سے حاکم عمر البشیر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ملک میں تین ماہ کی ایمرجنسی نافذ کر دی۔ ساتھ ہی فوج نے اعلان کیا کہ دو برس کے عبوری دور کے لیے فوج ملک کے انتظامات سنبھالے گی۔

لیفٹینٹ جنرل احمد عواد بن عوف جو بیک وقت نائب صدر، وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ تھے، نے ملک میں آئین کو معطل کرتے ہوئے اپنے آپ کو ملک کا سربراہ قرار دے دیا۔ ملک میں کرفیو کا اعلان کر دیا گیا۔ جلد ہی احمد عواد بن عوف نے فوجی عہدہ چھوڑ دیا اور ان کی جگہ عبد الفتاح البرہان کو فوج نیز عبوری کونسل کا سربراہ بنا دیا گیا۔ عوام فوجی عبوری حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کر رہی۔ ملک کی مختلف جماعتوں کی جانب سے وزارت دفاع کا گھیراؤ اپریل کے مہینے سے جاری ہے۔ وزارت دفاع اور سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات کے کئی ایک ادوار ہوئے، تاہم یہ سب کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ عوام ملک میں انتخابات اور سیاسی حکومت کے متقاضی ہیں جبکہ فوجی جنتا دو سال کے عبوری دور کے لیے ملک پر حاکم رہنا چاہتی ہے۔ گذشتہ دنوں فوجی جنتا نے وزارت دفاع کا محاصرہ کرنے والے مظاہریں پر گولی چلائی، جس کے سبب متضاد دعوں کے مطابق قتل ہونے والوں کی تعداد ساٹھ سے سو افراد بتائی جاتی ہے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس قتل کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں فوج سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ فوجی جنتا فی الفور اقتدار سول انتظامیہ کے حوالے کر دے۔

اپوزیشن جماعتوں نے عرب ریاستوں کو بھی الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ سوڈان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ یاد رہے کہ سعودیہ، عرب امارات اور مصر فوجی جنتا کے حامی ہیں۔ فوجی جنتا کے اس اقدام پر عالمی برادری میں کافی تشویش پائی جاتی ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس واقعہ کی مذمت میں ایک قرارداد پیش کی گئی، جسے روس اور چین نے ویٹو کیا ہے۔ اسی طرح افریقن یونین نے سوڈان کی رکنیت کو اس واقعہ کی تحقیقات اور جرم کے مرتکب افراد کی سزا تک معطل کر دیا ہے۔ سوڈان میں فوجی اقتدار کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے، اس سے قبل 1958ء میں چیف آف سٹاف میجر جنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا۔ 1964ء میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں فوج کو اقتدار چھوڑنا پڑا، تاہم 1969ء میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد اقتدار واپس فوج کے پاس آگیا۔ جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا۔ 1985ء میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ ایک سال بعد الدحاب نے تمام اختیارات منتخب حکومت کے وزیراعظم الصادق الماہدی کے حوالے کر دیئے۔ تین برس بعد جون 1989ء میں کرنل عمر البشیر کی سربراہی میں اسلامی فوجی سربراہان نے الماہدی کے غیر مستحکم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ 30 برس بعد آج عمر البشیر کا اقتدار بھی فوج کے ہاتھوں ہی اپنے اختتام کو پہنچا۔
خبر کا کوڈ : 798168
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے