1
Friday 7 Jun 2019 08:24

سوڈان بن سلمان کا ایک اور ناکام شکار

سوڈان بن سلمان کا ایک اور ناکام شکار
اداریہ
سوڈان میں فوج کے خلاف جاری عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے سوڈان کی فوجی کونسل نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس کا نتیجہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ حکمران فوجی کونسل کی مخالفت میں جاری اس تحریک میں آخری خبروں کے مطابق سو سے زائد مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے ایک رہنماء یاسر عرفان نے فوجی کونسل پر الزام لگایا ہے کہ فوج نے سوڈان کے عوامی انقلاب کو ناکام بنایا ہے، لہذا احتجاجی تحریک کے رہنما فوجی کونسل سے ہر طرح کے رابطے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ دوسری طرف حکمران فوجی کونسل نے سوڈان کی آزادی و تبدیلی تحریک کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو ختم کرکے آئندہ نو ماہ میں انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوڈان میں پیدا ہونے والے حالیہ بحران میں سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہے۔ ان تینوں ملکوں نے عمرالبشیر کے خلاف بغاوت کی بھرپور حمایت کی اور جب مئی میں عمرالبشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تو عوامی انقلاب کی باگ ڈور کو ایک فوجی کونسل کے ہاتھ میں دے دیا گیا، جس پر عوام نے سخت احتجاج کیا۔

حکمران فوجی کونسل کے خلاف لیبر یونینز، استاتذہ کی یونیز اور دیگر سماجی تنظیمں فعال ہیں اور وہ اس انقلاب کو فوجی کونسل کے ہاتھ میں دے کر اس انقلاب کی امنگوں اور اہداف کو نظرانداز نہیں کرسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کی کی طرف سے تمام تر سختیوں اور تشدد کے باوجود عوام میدان میں موجود ہیں اور فوجی کونسل کی تحلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سوڈان میں مصر والا تجربہ دہرانا چاہتے ہیں۔ مصر میں جس طرح ایک انقلاب کے بعد جنرل السیسی کو اقتدار سونپ دیا گیا، یہاں بھی کسی فوجی کو اقتدار دینے کی سازش رچائی جا رہی ہے۔ جس کے لیے دو سال کی عبوری حکومت بنانے کا منصوبہ ہے۔ سوڈان کے عوام سعودی عرب کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے وہ اپنے فوجیوں کو یمن سے واپس بلانا چاہتے ہیں، جبکہ فوجی کونسل سعودی عرب کی ڈکٹیشن قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان حالات میں افریقی یونین نے بھی اپنا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ فوجی کونسل کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے دی جانے والی تین ارب ڈالر کی فوری امداد اپنا اثر زیادہ دکھاتی ہے یا عالمی برادری کا دبائو اور سوڈان کی احتجاجی تحریک ملک میں جمہوریت کی طرف قدم بڑھانے کو اہمیت دیتی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر سوڈان میں ایک جمہوری حکومت برسراقتدار آگئی تو یمن سمیت علاقے کے دیگر مسائل میں سوڈان کا موقت تبدیل ہو جائے گا، جس کا نقصان سعودی عرب کو ہوگا اور موجودہ نازک صورتحال میں یہ اقدام محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے خلاف ایک اور زور دار جھٹکا ثابت ہوسکتا ہے۔ بہرحال تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سوڈان کی آزادی و تبدیلی تحریک کے رہنمائوں نے فوجی کونسل کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کی اپیل کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 798172
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب