0
Friday 7 Jun 2019 23:17

اولیاء کرام کی سرزمین ’’کشمیر‘‘ کا تحفظ

اولیاء کرام کی سرزمین ’’کشمیر‘‘ کا تحفظ
تحریر: جے اے رضوی

کشمیر کو تاریخ میں یہ اعزاز و امتیاز حاصل رہا ہے کہ خاصانِ خدا کے دوش بدوش اخلاق اور سماجی ماہرین نے اپنا خون جگر پلا پلا کر اس خطہ کو انسانی اقدار اور مذہبی رواداری سے روشناس کرایا۔ یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ لاکھ کوتاہیوں کے باوجود اور زور و زبردستوں کی ماریں سہتے ہوئے بھی اہلِ کشمیر من حیث قوم زندہ و پائندہ ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اولیاء کرام نے کشمیریوں کو دین و مذہب کی انسانیت نواز تعلیمات کا شعور بخشنے کے ساتھ ساتھ کشمیری سماج کو تہذیب، فنون، صنعت اور اسی قسم کی معاشی سرگرمیوں سے بہرہ ور کیا تو ارضِ کشمیر کو خوش حالی کے علاوہ ایک فخریہ تشخص عطا ہوا۔ اس تشخص اور انفرادیت کا چراغ آندھیوں میں بھی جوں توں جلتا رہا۔ حق یہ ہے کہ ان حوالوں سے ہم سب فرداً فرداً حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کی اولو العزم شخصیت سے لے کر شیخ العالم شیخ نور الدین نورانی، سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم تک کی تابناک ہستیوں اور دیگر سینکڑوں ساداتِ کرام کے احسان مند ہیں۔

ان عبقری شخصیات کے تئیں محبت و عقیدت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور ان کے نقوش قدم کی پیروی کریں۔ افسوس کہ ہمارے حالات اس کے برعکس ہیں، کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم ان برگزیدہ ہستیوں کی حیات آفرین تعلیمات سے بحیثیت مجموعی عملاً برگشتہ ہونے کے گناہ گار ہیں۔ اس کی زندہ مثالیں اور واضح ثبوت ہمارے یہاں کی طبقاتی کشیدگی اور مسلکی تضاد و تفرقہ کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ منفی چیزیں اب ایک منظم شکل میں ہمارے اندر پنپ رہی ہیں بلکہ سچ پوچھیئے تو انہیں بعض عناصر جان بوجھ کر فروغ بھی دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سارا الزام اپنے ہی سر آتا ہے، البتہ کشمیریوں کی اجتماعیت اور ملی وحدت توڑنے کے لئے خارجی عوامل کو درکنار کیا جاسکتا ہے، نہ ان کی ریشہ دوانیاں نظرانداز کی جاسکتی ہیں۔ ان انتشار پسند قوتوں اور آستین کے سانپوں کے مکروہ عزائم جو کچھ بھی ہوں، ان کا موثر جواب و توڑ ممکن ہے، لیکن اس صورتحال کا کیا جائے، اگر ہماری داخلی صفوں میں بھی تفرقہ، نفرتیں، منافرت اور بغض و عناد موجود ہو۔

ہم لوگ کئی ایک مسلم ملکوں اور قوموں میں باہمی تضاد و منافرت کے دلخراش کھیل اور ان کے حوصلہ شکن نتائج دیکھ رہے ہیں، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ ایسے عناصر ملت یا عالم انسانیت کے کبھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ اس سارے درد کا علاج اسلام کے دامنِ رحمت اور تعلیمِ امن و اخوت میں موجود ہے، مگر جب خود بحیثیت مجموعی مسلمان باہم دیگر مسلک اور مشرب کی دیواریں جا بجا کھڑی کرنے میں لگے ہوں تو عام آدمی کو روحانی آسودگی کا سامان کہاں میسر ہوسکتا ہے۔؟ غور طلب ہے کہ کشمیر میں مختلف مذہبی ادارے اور انجمنیں روز کانفرنسیں اور اجتماعات بلا کر لوگوں کو ایک ہونے اور نیک بننے کی وعظ و نصیحت کرنے میں اپنی تمام قوت گویائی صَرف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور لوگوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تاکید بھی کی جا رہی ہے۔ بلاشبہ یہ مزاج اور اتحاد کی حامل سوچ قابل تعظیم و تحسین ہے، لیکن تنبیہ و نصیحت کے باوجود فتنہ پرور عناصر مسلک و مشرب کے لبادوں میں کچھ ایسی خطرناک چالیں چل رہے ہیں، جن کا منطقی انجام عوامی اتحاد و یگانگت میں رخنہ اندازی اور تفرقہ بازی کی صورت میں نکلنا طے ہے۔

بایں ہمہ مذہبی قیادت کا فرض منصبی ہے کہ وہ عوام الناس میں اخوت و محبت کی مشعل فروزاں کرنے کی مخلصانہ پیش قدمی کو اولیت دیں۔ یہ ایک مستحسن کام ہی نہیں بلکہ دین اسلام کا بنیادی مطالبہ اور وقت کی ناگزیر ضرورت بھی ہے۔ یہ بات بلا خوف و تردید کہی جاسکتی ہے کہ کشمیری قوم حالات و حوادث کی چوٹیں مسلسل سہنے کے باوجود مزاجاً راسخ العقیدہ اور وسیع المشرب ہے۔ آج بھی اس کی مذہبی رواداری اور وسیع القلبی کی قسمیں کھائی جا رہی ہیں، مگر اس کا یہ نشانِ امتیاز بڑی تیزی مٹایا جا رہا ہے۔ اس لئے حالات و زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم فوری طور پر ایسے اقدامات کریں، جن سے تمام مسالک اور مکاتبِ فکر میں ایک دوسرے کے تئیں محبت، احترام اور وسیع القلبی کا مظاہرہ ہو، تاکہ مذہب و مسلک کے نام پر فتنہ و فساد پھیلانے پر کمربستہ اسلام و قوم دشمن عناصر اپنے مکروہ عزائم پورا کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ضمن میں دردمند علماء کرام، اسکالروں، اہل دانش اور قوم کے بہی خواہ قائدین پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام الناس کو ہر حال میں اتحاد کی شاہراہ پر گامزن رکھیں۔ نیز تمام مذہبی اکابرین کو چاہیئے کہ اپنے اپنے دائرہ اثر میں فروعی اختلافات کو بطریق احسن سلجھانے میں کلیدی رول ادا کرنے میں کوئی پس و پیش نہ کریں۔
خبر کا کوڈ : 798290
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے