0
Saturday 8 Jun 2019 15:21

کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی گھر جائینگے؟

کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی گھر جائینگے؟
تحریر: نادر بلوچ

سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کریم خان آغا کے خلاف بیرون ملک اثاثے رکھنے کے الزام میں دائر ریفرنس کی سماعت 14 جون کو کرے گی، اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے معاونت کے لئے طلب کر لیا گیا ہے۔ ان دو ججوں کے خلاف یہ ریفرنس صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا رکھے ہیں، جو ججوں کے خلاف کارروائی کرنے والا واحد مجاز ادارہ ہے۔ اس کی سربراہی چیف جسٹس سپریم کورٹ کرتے ہیں۔ ریفرنس دائر ہونے کے خبریں آنے کے ساتھ ہی وکلا برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ان کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے تو یہاں تک دھمکی دے دی ہے کہ اس بار حکومت آنسو گیس اور شیلنگ کی بجائے ایمبولینسز کا اہتمام کرے، یعنی وہ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ اس بار لاشیں گریں گے، انہوں نے چودہ جون کو وکلا کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دفاع میں پیش ہونے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان بار کونسل نے بھی ریفرنس دائر کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے صوبے میں احساس محرومی مزید بڑھے گا۔ ریفرنس دائر ہونے کی خبریں آنے کے ساتھ ہی ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے حکومت کے اس فیصلہ کو اعلیٰ عدلیہ پر ناروا حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو ایک کے بعد دوسرا خط بھی ارسال کر دیا ہے، جس میں ریفرنس کے بارے میں استفسار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے پہلے خط میں صدر عارف علوی سے درخواست کی کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید کریں کہ کیا ان کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا ہے۔؟ اگر ایسا کیا گیا ہے تو قواعد کے مطابق انہیں اس کی نقل فراہم کی جائے۔ انہوں نے خط میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ طریقہ کار کے برعکس میڈیا کو یہ خبر فراہم کی گئی، جو ان کی کردار کشی کے مترادف ہے۔

اپنے دوسرے خط میں جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین کے آرٹیکل 209 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ نہ تو وہ جسمانی یا پھر ذہنی طور پر کام کرنے سے معذور ہیں اور یہ شاید ریفرنس کی وجہ "مِس کنڈکٹ" یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے تازہ خط میں صدر سے پوچھا ہے کہ کیا اسی آرٹیکل کے تحت ان کے خلاف شواہد آپ کو دکھائے گئے، جن کی بنیاد پر آپ نے اسے مِس کنڈکٹ قرار دیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق اس سے پہلے کہ انہیں اس ریفرنس کی کاپی موصول ہوتی اور وہ اس کا جواب دیتے، ان کے خلاف ایک مہم چلا دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون وزارت اطلاعات کے سینیئر ارکان اور حکومتی ارکان ریفرنس کے مخصوص حصے کی دستاویزات پھیلا رہے ہیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ جناب صدر، کیا یہ مناسب رویہ ہے اور کیا یہ آئین سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا ریفرنس سے متعلق مخصوص مواد پھیلا کر اور گفتگو کرکے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہو رہے؟، انہوں نے صدر سے یہ سوال بھی کیا کہ آیا انہوں نے وزیراعظم کی تجویز پر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔؟ میں صرف یہ تصور ہی کرسکتا ہوں کہ الزام لندن کی تین جائیدادوں کے بارے ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کا موقف ہے کہ یہ جائیدادیں ان کی بیوی اور بچوں کے نام پر ہیں۔ ان کے بچے کم سن نہیں اور ان کی کفالت کی ذمہ داری ان پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جائیدادوں کو کسی بھی طرح چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، نہ ہی یہ جائیدادیں کسی ٹرسٹ یا کسی آف شور کمپنی کی ملکیت ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بااصول اور اثر قبول نہ کرنے والا جج سمجھے جاتے ہیں، اپنے فیصلوں اور ریمارکس کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں، فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں انہوں نے وزارت دفاع کے ذریعے مسلح افواج کے سربراہان کو حکم دیا تھا کہ وہ ان افسروں کے خلاف کارروائی کریں، جنہوں نے فیض آباد دھرنے کے دوران اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقدام کیا تھا۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے طاقتور حلقے ان سے سخت نالاں تھے اور شائد یہ ریفرنس انہی کے ایماء پر دائر کیا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیت کے خلاف پہلے بھی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، تاہم اس کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ گذشتہ سال بارہ مارچ کو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک پرانی درخواست جو ایڈووکیٹ ریاض راہی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 5 اگست 2009ء کو بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور یکم ستمبر 2014ء کو سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے خلاف درخواست دائر کی تھی، وہ سماعت کیلئے مقرر کی تھی۔ اس پر بلوچستان کی وکلا برادری نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ درخواست رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراض لگا کر خارج کر دی تھی، مگر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد رجسٹرار کے اعتراضات ختم کر دیئے تھے، اس درخواست میں اعتراض کیا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو براہ راست چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعینات کیا گیا، جبکہ آئین میں براہ راست تعیناتی کی کوئی شق موجود نہیں، یوں آئین کے آرٹیکل 196 اور 200 پر عمل نہیں کیا گیا، درخواست میں یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ چیف جسٹس بلوچستان کی تعیناتی کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مشاورت ضروری تھی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بطور چیف جسٹس نام قائم مقام گورنر بلوچستان نے تجویز کیا، جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔ جسٹس قاضی فائز کو بعد میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کر دیا گیا، جس کے باعث کئی ججز کی سنیارٹی متاثر ہوئی۔ لہذا ان کی تقرری کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لیکن حقیقت یہ تھی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بلوچستان ہائیکورٹ میں بطور چیف جسٹس براہ راست تقرری خود سپریم کورٹ ہی کے فیصلے کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی، سپریم کورٹ نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں پی سی او پر حلف لینے والے تمام ججز کی تقرری کالعدم قرار دی تھی، جس کی وجہ سے بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز فارغ ہوگئے تھے، یوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ براہ راست جج مقرر ہوگئے۔ دوسری جانب جسٹس قاضی فائز کیخلاف دائر ریفرنس پر حکومتی موقف یہ ہے کہ ان کے بارے میں شکایت تھی کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے، اس لیے ریفرنس دائر کیے گئے، ریفرنس کی سماعت خود اسی سپریم کورٹ کے معزز جج کر رہے ہیں، اس لیے وکلا کی دھکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔

یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فیصلہ صادر کرتی ہے تو وہ دوسرے جج ہوں گے، جو ایجنسیوں کے سیاسی کردار پر سوال اٹھانے پر فارغ کیے جائیں گے، اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی ایجنسیوں میں تنقید کرنے کے باعث فارغ ہوگئے تھے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مخصوص ججوں کے خلاف ریفرنس کی سماعت میں عجلت کیوں برتی جا رہی ہے، جو چیزوں کو مشکوک بنا رہی ہے، ورنہ اسی سپریم جوڈیشل کونسل میں کئی برسوں سے 53 ججز کے خلاف ریفرنسز دائر ہیں، جن پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
خبر کا کوڈ : 798401
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے