0
Sunday 9 Jun 2019 07:59

قرارداد 2231 اور ایران کا میزائل پروگرام

قرارداد 2231 اور ایران کا میزائل پروگرام
اداریہ
ایران کے خلاف عالمی سازشیں کوئی آج کی بات نہیں، ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو، جس دن عالمی طاقتوں بالخصوص امریکی سامراج نے اس انقلاب یا اس کی قیادت کے خلاف کوئی سازش نہ رچائی ہو۔ اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، سفارتی بائیکاٹ کیا گیا، آٹھ سال تک جنگ مسلط کی گئی، ملک کے اندر انقلابی حکومت کے خلاف بغاوتیں ترتیب دی گئیں۔ گویا اس حکومت کے خاتمے یا اس کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، لیکن مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ ایران نے جب سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی کوشش کی تو اس کے راستے میں روڑے اٹکائے گے۔ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف بھی تعصب کا مظاہرہ کیا گیا اور وہ پروگرام جس کا آغاز سابقہ شاہی حکومت کے دور میں ہوا تھا، اس کو انقلاب اور اسلام دشمنی میں بری طرح متنازعہ بنا دیا گیا۔

نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کر دیا گیا اور معاملے کو اقوام متحدہ کے ادارے سکیورٹی کونسل تک پہنچا دیا گیا۔ سلامتی کونسل کا ادارہ بھی امریکہ کی ایما پر ایران مخالف فیصلے کرنے میں معروف ہے، جس کی مثال ایران عراق جنگ میں اس ادارے کا جانبدارانہ کردار تھا۔ قصہ مختصر امریکہ کے دبائو پر سلامتی کونسل نے ایران کو اقوام متحدہ کے منشور کے چھٹے باب کے تحت ان ممالک میں شامل کر دیا، جو عالمی امن کے لیے خطرات پیدا کرنے والے ممالک ہیں، اس میں کوئی اور بہانہ نہ ملا تو ایران کے ایٹمی پروگرام کو بہانہ بنا کر سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر مختلف اقتصادی و علمی و تجارتی و مالی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

ایران نے اس کے جواب میں سفارتکاری کے عمل کو جاری رکھا اور ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ امریکہ کے علاوہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بالآخر پانچ جمع ایک ممالک اور ایران کے درمیان کئی سالوں کی محنت کے بعد ایک عالمی معاہدہ تیار ہوا، جس میں امریکہ بھی شامل تھا اور اس معاہدے کو سلامتی کونس میں پیش کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل کے پندرہ کے پندرہ اراکین نے متفقہ طور پر ایک قرار دار 2231 منظور کی، جس کے تحت ایران کو یو این او کے سیکشن چھ سے نکال کر تمام تر پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔

اس قرارداد کی بارہ بنیادوں اور بیس اجرائی شقوں میں ایران کے میزائل نظام کے حوالے سے صرف ایک بات سامنے لائی گئی کہ ایران ایسے غیر روایتی بلاسٹک میزائل ڈیزائن نہیں کرے گا، جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران نے آج تک اس پر سختی سے عمل درامد کیا ہے، لیکن گذشتہ دنوں امریکی اور فرانسیسی صدور نے ایران کے خلاف نیا پینترا بدلتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران 2231 قرارداد کی مخالفت کر رہا ہے اور اس قراردار کے تحت ایران کو بلاسٹک میزائل رکھنے کا حق نہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اس کے جواب میں بڑا معنی خیز ٹوئٹ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کسی کو 2231 قرارداد کی من مانی تشریح کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یوں بھی امریکہ اور فرانس اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس قرارداد کی اپنی مرضی کی تشریح کریں۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ امریکہ جیسا ملک جو کئی عالمی معاہدوں سے نکل چکا ہے اور پانچ جمع ایک ممالک کے معاہدے کو بھی خیرباد کہہ کر آئے روز ایران کے خلاف دھونس دھمکی اور دھوکے کی سیاست اختیار کیے ہوئے ہے، وہ کسی عالمی ادارے کی قرارداد کی کس طرح تشریح کرسکتا ہے؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کو پہلے اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہیئے، اس کے بعد سلامتی کونسل جسے اہم ادارے کی کسی قرارداد پر بات کرنی چاہیئے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ امریکہ نے پہلے جنگی بیڑے خلیج فارس میں بھیج کر اور جنگ کا ماحول پیدا کرکے ایران کو دھمکانے کی کوشش کی اور جب اس میں کامیابی نصیب نہ ہوئی تو اب اس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بہانہ بنا کر ایران پر دبائو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کا یہ حربہ بھی پہلے حربوں کی طرح ناکارہ ثابت ہوگا اور ٹرامپ کو عالمی سفارتکاری میں ایک اور شکست برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جانا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 798509
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے