0
Sunday 9 Jun 2019 12:04

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(3)

(امام خمینی کی رحلت کے بعد)
امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(3)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

کسی بھی انقلاب کے بانی کی وفات کے بعد وہ انقلاب عام طور پر اپنی اصلی امنگوں اور اہداف سے دور ہونے لگتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی صورتحال اور ماہیئت میں کئی درجے کا فرق سامنے آجاتا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی کی وفات کے بعد ایسا نہ ہوا، کیونکہ اس انقلاب کا ہدف اور مقصد ایک آفاقی دین اور نظریہ تھا۔ امام خمینی کی رحلت کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس ہدف کو آگے بڑھایا۔ آج سے تیس سال قبل ایران کے ادارے مجلس خبرگان یعنی ماہرین کی کونسل نے انتہائی حساس حالات میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو اسلامی نظام کی رہبری اور قیادت کے لئے انتخاب کیا۔ 1979ء کے کامیاب اسلامی انقلاب کے بعد جب دشمن اس انقلاب کی کامرانی کو نہ روک سکے تو انہوں نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی وفات کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ وہ امام کی رحلت سے پہلے مختلف مواقع پر آپ کی رحلت اور موت کی جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہتے تھے۔

انقلاب دشمنوں کو امام خمینی کے انتقال کی خبر سننے کے لئے دس سال انتظار کرنا پڑا۔ امام خمینی نے ان دس سالوں میں نہ صرف انقلاب کی بنیادوں اور نئے نظام کے ڈھانچے کو استوار اور مضبوط کیا بلکہ سامراجی طاقتوں کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کو بھی کامیابی و کامرانی سے نبھایا اور تمام دنیا کے مقابلے میں فاتح و کامیاب کیا۔ چار جون 1989ء کو جب آپ کے انتقال کی خبریں نشر ہوئیں تو دشمن خوشی سے دیوانہ ہوگیا اور ایران کے اسلامی انقلاب کے مستقبل کے بارے میں منفی پروپیگنڈوں میں ایک دم اضافہ ہوگیا۔ وائس آف امریکہ نے اپنے ایک پروگرام میں امام خمینی کی رحلت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "خمینی کی موت سے ایران میں عدم استحکام یقینی ہے اور اس بات کی پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ بہت جلد ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائیگی۔"

شیطانی طاقتوں اور ابلیسی کرداروں کی یہ خواہش چند گھنٹّوں میں نیست و نابود ہوگئی، جب ایران کے آئینی ادارے یعنی رہبری کا انتخاب کرنے والے ادارے مجلس خبرگان رہبری نے فوری اجلاس بلا کر باریک بینی سے ملکی اور عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اکثریتی رائے سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ایران اور اسلامی انقلاب کا رہبر منتخب کر لیا۔ مجلس خبرگان کے اس فیصلے سے دشمن کی سازشیں نقش برآب ہوگئیں اور ایران میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا۔ آیت اللہ خامنہ ای جو امام کے ہونہار شاگرد اور امام خمینی کے نظریئے کے سچے پروکار تھے۔ امام خمینی کی نگاہ میں وہ قیادت کے اہل تھے اور امام خمینی نے چند بار اپنی زندگی میں بھی اس کا اظہار کیا تھا اور امام خمینی کے قریبی افراد اس سے باخبر تھے۔ مرحوم آیت اللہ رفسنجانی جو اس وقت مجلس شوریٰ اسلامی کے اسپیکر تھے، انہوں نے اس جملے کو امام سے نقل کیا تھا کہ " آقای خامنہ ای اس انقلاب اسلامی کی رہبری و قیادت کے لئے بہترین فرد ہیں۔" امام خمینی کے فرزند حجت الاسلام سید احمد خمینی نے بھی اپنے والد محترم سے یہ جملہ نقل کیا ہے۔ "حق کی بات یہ ہے کہ ان میں(آیت اللہ خامنہ ای) میں رہبری کی صلاحیت ہے۔"

اس کے باوجود انقلاب مخالف عناصر نے اس بات کی مکمل کوشش کی کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مقام و مرتبے کو کم کریں اور ان کو اس منصب سے علیحدہ کر دیں۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اور ان میں قیادت و رہبری کی صلاحیت موجود نہیں، تاہم علماء، حکام اور مختلف اہم اداروں نے آیت اللہ خامنہ ای کی بیعت کا اعلان کرتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا۔ ایران کے علماء اور مقتدر قوتوں نے آپ کو امام خمینی کا حقیقی جانشین قبول کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اپنی بصیرت، دور اندیشی، قائدانہ صلاحیتوں اور علمیت کی بنیاد پر اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔ دشمن کی ایک اور خواہش اور سازش یہ تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای، امام خمینی کے نظریات، بالخصوص اسلامی وحدت اور سامراج دشمنی کے راستے کو جاری نہیں رکھ سکیں گے اور انقلاب اپنے حقیقی راستے سے منحرف ہو جائے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے دشمن کی ان خواہشات پر پانی پھیرتے ہوئے ابتداء ہی میں فرما دیا تھا کہ "ہم نے خدا سے عہد کیا ہے کہ امام خمینی کے راستے کو، جو اسلام، قرآن اور مسلمانوں کی عزت و وقار کا راستہ ہے، جاری رکھیں گے، امام کی امنگوں کو ہرگز نظرانداز نہیں کریں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے عمل و کردار سے بھی اس کو ثابت کیا کہ انہوں نے امام کے اختیار کردہ راستے اور نظریئے کو پہلے کی طرح نافذ کرنے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے پوری کوشش کی اور آپ کو اس مقصد میں کامیابی بھی نصیب ہوئی۔ رہبر انقلاب اسلامی کے اس عمل و کردار کی وجہ سے ان طاقتوں کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جو امام خمینی کے بعد آنے والی تبدیلیوں سے امیدیں لگائے ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 798680
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب