0
Tuesday 11 Jun 2019 04:11

امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(4)

(امام خمینی کی رحلت کے بعد)
امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب(4)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ امام خمینی کے انتقال کے پہلے دن سے ہی دشمن یہ سوچ رہا تھا کہ اب انقلاب کا قصہ تمام اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ انقلاب دشمن عناصر اس بات کے انتظار میں تھے کہ ملک کے اندر قیادت کی تبدیلی کے بعد کوئی ایسی بات سامنے آئے یا کسی موقف میں تبدیلی آئے، تاکہ کہ یہ کہا جا سکے کہ انقلاب اپنے حقیقی راستے سے ہٹ گیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے بقول جو یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے، وہ الحمداللہ مایوس ہوئے۔ غیر جانبدار افراد کا یہ تجزیہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے نہ صرف امام خمینی کے راستے کو زندہ رکھا بلکہ تمام تر مشکلات اور تخریبی امور کے باوجود آپ نے کئی اہداف کو حاصل کیا۔ امام خمینی کے بعد کے ان تیس سالوں میں کئی نشیب و فراز آئے، تاہم ایران میں داخلی استحکام اور قومی اداروں میں مضبوطی و پائیداری نظر آئی۔ یہ کامیابیاں اور مضبوط قومی اقتدار سیاسی، اقتصادی، علمی، ثقافتی، فوجی اور سماجی پالیسیوں کی کامیابی کا مظہر و علامت ہے اور بلاشبہ اس میں ایرانی عوام کی اخوت و یکجہتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے تین عشروں میں تمام سیاسی گروہوں اور عوام کو انقلابی اقدار سے قریب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آپ نے عوام اور ملک کے تمام سول و فوجی اداروں کو نہایت حکمت اور دوراندیشی سے امام خمینی اور انقلاب کے رستے پر گامزن رکھا۔ آپ نے مختلف افکار اور سلیقے کے حامل افراد کو انقلاب اور ایرانی قوم کی خدمت کے لئے یکجا رکھا اور فوقتاً فوقتاً حوصلہ افزائی اور تاکید سے ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ان تین عشروں میں مختلف اداروں کی اصلاح، تعمیر نو، انہیں خود کفالت اور اپنے قدموں پر خود کھڑے ہونے کی تاکید کی، آپ اقتصادی شعبے میں نمایاں تبدیلی لائے اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں جوہری تبدیلی پر بھی عمل درآمد کرنے کی مکمل کوشش کی۔ آپ نے ایران کی اقتصاد کو پیٹرولیم کی درآمد سے الگ کرکے آئل فری اکانومی بنانے کی بھی بنیاد ڈالی۔

آپ نے ملک میں استقامتی معیشت کا نیا تصور پیش کیا، جس میں ملک کے مجموعی اقتصادی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لا کر خود کفالت اور داخلی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس اقتصادی نظام پر عمل درآمد سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا خاطر خواہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور امریکہ کی طرف سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران نے ان تیس سالوں میں اقتصادی پابندیوں اور ناکہ بندیوں کے باوجود مختلف شعبوں میں خاطر خواہ ترقی کی ہے اور اس ترقی کے اثرات نہ صرف بڑے شہروں بلکہ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بھی مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں۔ انقلاب کے بعد محروم علاقوں کی ترقی کے لئے جو اقدامات انجام دیئے گئے، وہ یقیناً قابل فخر ہیں۔

دنیا بھر کے سیاسی و اقتصادی دباو کے باوجود ایران میں زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی، فارمنگ، انڈسٹری، مائننگ اور دیگر شعبوں میں قابل قدر ترقی ہوئی ہے۔ ایران میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے دور قیادت میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں خصوصی توجہ دی، جس کے نتیجے میں میڈیکل، نانو ٹیکنالوجی، اسٹیم سیل، ایئرواسپیس جیسے اہم شعبوں میں ایران نے نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ ایران میں تمام علمی کامیابیاں عالمی بائیکاٹ اور ملک کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور ماہرین کی محنت و کوشش کا نتیجہ ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ان نوجوان موجدین کی ہمیشہ حوصلہ افزائی اور ان کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑے بڑے معرکے اور علم کی بلندیوں پر پہنچنے کا حوصلہ اور عزم دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 798701
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے